شهیدان سید حسن نصر الله اور جنرل قاسم سلیمانی کے درمیان پہلی ملاقات کیسے ہوئی؟!
اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT
اپنے ایک انٹرویو میں قدس فورس میں رہبر معظم کے سابق نمائندے کا کہنا تھا کہ سید حسن نصر الله میں نظر آنے والی خصوصیات شہید قاسم سلیمانی میں نظر آتی تھیں اور بالکل اسی طرح شہید قاسم سلیمانی میں پائی جانے والی خصوصیات کی جھلک سید حسن نصر الله میں دکھائی دیتی تھی۔ اسلام ٹائمز۔ سپاہ پاسداران انقلاب کی قدس فورس میں رہبر معظم آیت الله "سید علی خامنہ ای" كے سابق نمائندے حجۃ الاسلام "علی شیرازی" نے حال ہی میں ایک انٹرویو دیا۔ جس میں انہوں نے کہا کہ شہید جنرل قاسم سلیمانی جب میدان میں دیکھتے کہ کوئی شخص بہادر ہے اور حق کے دفاع میں کھڑا ہے، تو وہ اس سے محبت کرنے لگتے۔ اُن کی یہ محبت شہیدان عماد مغنیہ اور سید حسن نصر الله کے لئے بہت زیادہ تھی۔ شہید قاسم سلیمانی اسلام کے دفاع کو اپنا فرض سمجھتے تھے۔ اُدھر شہید سید حسن نصر الله پورے وجود کے ساتھ میدان میں آئے اور اسلام کی حفاظت کی۔انہوں نے مزید کہا کہ جنرل قاسم سلیمانی جانتے تھے کہ حزب الله کا تحفظ درحقیقت اسلامی جمہوریہ ایران کا تحفظ ہے۔ اس لئے جب اسرائیل کے ساتھ 33 دن کی جنگ شروع ہوئی تو وہ پورے وجود کے ساتھ میدان میں داخل ہوئے۔ جب 1997ء میں جنرل قاسم سلیمانی قدس فورس کے کمانڈر بنے۔ اُس وقت وہ لبنان آئے اور شہید مقاومت سید حسن نصر الله سے پہلی ملاقات ہوئی۔
اس موقع پر سید حسن نصر الله نے کہا کہ میں جنرل قاسم سلیمانی سے محبت کرنے لگا ہوں، دوسری جانب شہید قاسم سلیمانی نے بھی شہید سید حسن نصر الله کے بارے میں انہی خیالات کا اظہار کیا۔حجۃ الاسلام شیرازی نے نشاندہی کی کہ میرا خیال ہے کہ سید حسن نصر الله میں نظر آنے والی خصوصیات شہید قاسم سلیمانی میں نظر آتی تھیں اور بالکل اسی طرح شہید قاسم سلیمانی میں پائی جانے والی خصوصیات کی جھلک سید حسن نصر الله میں دکھائی دیتی تھی۔ وہ ایک دوسرے کو سمجھتے تھے اور ایک دوسرے کے بہت قریب تھے۔ بہادری، ایمان اور خلوص جیسی بہت سی مشترکہ خوبیوں نے انہیں آپس میں جوڑ دیا۔ میں 1982ء سے جنرل قاسم سلیمانی کے ساتھ ان کی شہادت 2020ء تک جُڑا رہا۔ میں نے کبھی شہید قاسم سلیمانی سے نہیں سنا کہ انہوں نے کہا ہو کہ میں نے یہ کام کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: شہید قاسم سلیمانی میں سید حسن نصر الله میں جنرل قاسم سلیمانی نے والی خصوصیات کے ساتھ
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔