شدید برفانی طوفان: ماؤنٹ ایورسٹ کے قریب سیکڑوں افراد پھنس کر رہ گئے
اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
برفانی طوفان کے باعث ماؤنٹ ایورسٹ کی مشرقی جانب کیمپوں میں تقریباً ایک ہزار افراد پھنس کر رہ گئے ہیں جنہیں بچانے کی کوششیں جاری ہیں۔
عالمی میڈیا کے مطابق تقریباً 350 کوہ پیماؤں کو محفوظ مقام پر ایک مقامی قصبے میں منتقل کر دیا گیا ہے، جبکہ مزید 200 سے زائد افراد سے رابطہ کر لیا گیا ہے۔
یہ واقعہ خطے میں کئی دنوں سے جاری شدید موسم کے دوران پیش آیا ہے، پڑوسی ملک نیپال میں اب تک بھاری بارشوں کے نتیجے میں ہونے والے سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث کم از کم 47 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
ایورسٹ دنیا کی سب سے بلند چوٹی ہے جس کی اونچائی 8 ہزار 849 میٹر سے زیادہ ہے، اگرچہ ہر سال کئی لوگ اس چوٹی کو سر کرنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن اسے دنیا کی سب سے خطرناک کوہ پیمائی کی مہم جوئی میں شمار کیا جاتا ہے۔
ایورسٹ کے مشرقی حصے تک جانے والی کرما کی وادی میں برفباری جمعے کی شام شروع ہوئی اور ہفتے کے روز تک جاری رہی، جس کے باعث سیکڑوں کوہ پیما وہیں پھنسے ہوئے ہیں۔
سیکڑوں مقامی دیہاتیوں اور ریسکیو ٹیموں کو علاقے تک جانے والے راستوں سے برف ہٹانے کے لیے تعینات کیا گیا ہے، یہ علاقہ سمندر کی سطح سے 4 ہزار 900 میٹر کی بلندی پر واقع ہے۔
اکتوبر کا مہینہ ایورسٹ اور اس کے گردونواح میں کوہ پیمائی کے سیزن کے عروج میں سے ایک سمجھا جاتا ہے، جب درجہ حرارت معتدل ہوتا ہے اور آسمان صاف رہتا ہے لیکن اس سال برفانی طوفان نے کوہ پیما اور گائیڈز کو اچانک حیران کر دیا، جو تبت میں ماؤنٹ ایورسٹ کی مشرقی ڈھلوانوں پر مزید شدت اختیار کر گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی
اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے اور عالمی موسمیاتی تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ جون سے اگست 2026 کے دوران ال نینو کے پیدا ہونے کا امکان 80 فیصد تک پہنچ گیا ہے، جس کے باعث دنیا بھر میں شدید گرمی، خشک سالی، غیر معمولی بارشوں اور دیگر موسمی شدت کے واقعات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
عالمی موسمیاتی تنظیم کے مطابق بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی استوائی علاقوں میں سمندر کے پانی کا درجہ حرارت معمول سے غیر معمولی حد تک بڑھ رہا ہے، جس کے نتیجے میں ال نینو کی صورتحال تیزی سے تشکیل پا رہی ہے۔
ادارے نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ عالمی پیش گوئیوں کے مطابق جون تا اگست کے دوران ال نینو کے بننے کا امکان 80 فیصد جبکہ نومبر تک یہ امکان 90 فیصد یا اس سے بھی زیادہ ہوسکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ال نینو کم از کم درمیانی شدت کا اور ممکنہ طور پر طاقتور بھی ثابت ہوسکتا ہے۔
ال نینو ایک قدرتی موسمیاتی عمل ہے جو ہر دو سے سات سال بعد رونما ہوتا ہے اور عموماً 9 سے 12 ماہ تک برقرار رہتا ہے۔ اس دوران بحرالکاہل کے پانی گرم ہوجاتے ہیں، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں ہواؤں، بارشوں اور درجہ حرارت کے نظام میں نمایاں تبدیلیاں آتی ہیں۔
عالمی موسمیاتی تنظیم کی سربراہ نے کہا کہ دنیا کو ال نینو کے اثرات کے لیے ابھی سے تیاری شروع کر دینی چاہیے کیونکہ یہ خشک سالی، موسلا دھار بارشوں، زمینی اور سمندری ہیٹ ویوز کے خطرات کو مزید بڑھا سکتا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ال نینو ہمارے دروازے پر دستک دے رہا ہے اور اسے ایک ہنگامی موسمیاتی انتباہ کے طور پر لینا چاہیے۔ ان کے مطابق بڑھتی ہوئی عالمی حدت کے ساتھ ال نینو کے اثرات مزید شدید ہوسکتے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جون سے اگست کے دوران دنیا کے بیشتر حصوں میں معمول سے زیادہ درجہ حرارت ریکارڈ کیے جانے کا امکان ہے۔ مشرقی افریقہ کے بعض علاقوں میں بارشیں کم ہوسکتی ہیں، جنوبی ایشیا میں مون سون معمول سے کم رہنے کا خدشہ ہے جبکہ وسطی امریکہ میں بھی خشک اور گرم موسم متوقع ہے۔
ماہرین کے مطابق ال نینو کے باعث زراعت، پانی کے ذخائر، توانائی کے شعبے اور صحت عامہ پر گہرے اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، اسی لیے حکومتوں اور متعلقہ اداروں کو پیشگی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔