لاہور:

لاہور کے باصلاحیت ٹرائی ایتھلیٹ شاہریز خان نے میگا ایونٹ آئرن مین 70.3 ورلڈ چیمپئن شپ کے لیے کوالیفائی کر کے پاکستان کے لیے ایک نیا سنگ میل قائم کر دیا۔

یہ عالمی مقابلہ 9 نومبر 2025 کو ماربیلا اسپین میں منعقد ہوگا جہاں شاہریز دنیا کے بہترین ایتھلیٹس کے ہمراہ ملک و قوم کی نمائندگی کریں گے۔وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والے دوسرے پاکستانی ہیں۔ان سے قبل خرم خان نے یہ کارنامہ سرانجام دیا تھا۔

شاہریز نے فلپائن کے شہر پیورٹو پرنسيسا میں ہونے والی آئرن مین 70.

3 ریس میں ساتویں پوزیشن حاصل کی۔ یہ ریس 1.9 کلومیٹر تیراکی، 90 کلومیٹر سائیکلنگ اور 21.1 کلومیٹر دوڑ پر مشتمل تھی۔

اس ریس کے حوالے سےشاہ ریز کا کہنا ہے کہ جب فنش لائن عبور کر کے مجھے معلوم ہوا کہ میں کوالیفائی کر چکا ہوں تو وہ لمحہ ایسا تھا جسے الفاظ میں بیان نہیں کر سکتا۔

دلچسپ امر یہ ہے کہ شاہریز اس وقت آل ورلڈ ایتھلیٹ کیٹیگری میں دنیا کے ٹاپ 5 فیصد ایتھلیٹس میں شامل ہیں۔ ایچیسن کالج کے سابق طالبعلم شاہریز نے ایتھلیٹکس، فٹبال اور تیراکی میں اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھائے۔

بعدازاں انہوں نے یونیورسٹی آف ویسٹرن اونٹاریو اور آکسفورڈ یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی جہاں وہ سیڈ بزنس اسکول کی کراس کنٹری ٹیم کا حصہ رہے۔ آج وہ سمبا گلوبل کے لیے مشرق وسطیٰ و شمالی افریقہ ریجن کے سربراہ ہیں۔

شاہریز کا آئرن مین سفر 2022 میں اسلام آباد کی ایک ہاف میراتھن سے شروع ہوا۔ دوڑ اور تیراکی میں مہارت رکھنے کے باوجود سائیکلنگ ان کے لیے نیا میدان تھا مگر انہوں نے جلد ہی خود کو اس میں ڈھال لیا۔

لاہور میں انہوں نے اپنے گھر میں انڈور ٹریننگ زون بنایا جبکہ باغ جناح اور ڈی ایچ اے فیز 7 میں دوڑ اور سائیکلنگ کے ذریعے اپنی تربیت جاری رکھی۔ شاہریز کے مشن میں ان کے ساتھی آر ڈی رضوان آفتاب احمد کا اہم کردار ہے جو ان کے ساتھ مل کر کھیلوں میں پاکستانی نوجوانوں کی رہنمائی کر رہے ہیں۔دونوں ایچیسن کالج میں کراس کنٹری کیمپس کا انعقاد بھی کر چکے ہیں۔

شاہریز کا کہنا ہے کہ ہم ایک ایسی نسل کو متحرک کرنا چاہتے ہیں جو سست طرز زندگی کا شکار ہے۔ کھیل نہ صرف جسمانی بلکہ ذہنی مضبوطی اور نظم و ضبط بھی سکھاتے ہیں- پاکستان میں ٹرائی ایتھلون کے بنیادی ڈھانچے کی کمی کے باوجود ان کا خواب ہے کہ ایک دن ملک میں بین الاقوامی سطح کی برداشت کی ریسز منعقد ہوں۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کے لیے

پڑھیں:

فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی

فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے وزٹ ویزہ پر کینیڈا پہنچنے والے درجنوں افراد نے اسائلم کی درخواستیں دائر کر دیں۔

کینیڈا میں ورلڈ کپ کے 13 میچ منعقد ہوئے جن کے لیے حکام نے مجموعی طور پر 26 ہزار سیاحتی ویزے جاری کیے تھے۔ ہزاروں درخواستوں میں سے 50 فیصد سے زائد مسترد کر دی گئی تھیں۔

کینیڈین حکام کے مطابق اب تک 175 افراد سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا چکے ہیں جن کا جائزہ امیگریشن اور مہاجرین سے متعلق قوانین کے تحت لیا جائے گا۔

حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ درخواست گزاروں میں کتنے کھلاڑی شامل ہیں، تاہم دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گھانا کے 25 جبکہ مصر اور کولمبیا کے 15، 15 شہریوں نے اسائلم کی درخواستیں دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔

اس سے قبل کینیڈین حکومت خبردار کر چکی تھی کہ فیفا ورلڈ کپ کے لیے جاری کیے گئے سیاحتی ویزے کینیڈا میں مستقل قیام یا سیاسی پناہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہیں اور ہر درخواست کا فیصلہ صرف ملکی قوانین کے مطابق کیا جائے گا۔

 

متعلقہ مضامین

  • فیفا ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان
  • تاریخی لارڈز کرکٹ گراؤنڈ سے ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے فائنل کی میزبانی واپس لے لی گئی
  • بالآخر بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین نے بھی مستعفی ہونے کا فیصلہ کرلیا
  • قومی انڈر-18 ٹیم نے ہاکی فائیو اے سائیڈ ورلڈ کپ کیلیے کوالیفائی کرلیا
  • ورلڈ کپ فاتح ہسپانوی فٹبالرز کو وزن کے برابر ٹماٹر انعام میں مل گئے
  • فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • پی سی بی نے 27 -2026 کے ڈومیسٹک کرکٹ سیزن کا اعلان کردیا، ورلڈ کپ تیاریوں پر توجہ مرکوز
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی