فلم دیوداس سے سلمان کو ایشوریا کی وجہ سے نکال کر شاہ رُخ کو کردار دیا گیا؟
اشاعت کی تاریخ: 10th, October 2025 GMT
بھارت کے معروف موسیقار اسماعیل دربار نے حال ہی میں فلم ساز سنجے لیلا بھنسالی اور اداکار سلمان خان کے درمیان پیدا ہونے والی دوری پر بات کرتے ہوئے ان کے اختلافات کی ممکنہ وجہ بیان کی ہے۔
بھارتی میڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق ایک حالیہ انٹرویو میں اسماعیل دربار نے کہا کہ سنجے لیلیٰ بھنسالی اور سلمان کے تعلقات اُس وقت خراب ہوئے جب فلم دیوداس کے لیے شاہ رخ خان کو کاسٹ کیا گیا۔
انہوں نے کہا، ’’جب مجھے کام کی ضرورت تھی تو بھنسالی نے مجھے فلم ’ہم دل دے چکے صنم دی‘، اور جب انہیں میری ضرورت تھی تو میں نے اپنا سب کام چھوڑ دیا۔ وہ میرے لیے انڈسٹری میں خدا کے برابر تھے۔‘‘
ان کا کہنا تھا کہ سلمان خان بھنسالی کے ساتھ خاموشی کی ناکامی کے باوجود کھڑے رہے، لیکن دیوداس میں شاہ رخ خان کو کاسٹ کرنے سے ان کے تعلقات میں دراڑ آ گئی۔
عائشہ رائے کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر اسماعیل دربار نے کہا کہ سلمان اور عائشہ کے جھگڑوں کی خبریں اس وقت میڈیا میں عام تھیں، مگر اب یہ سب ماضی کی باتیں ہیں۔
اشتہاری فلم ساز پرہلاد ککڑ نے بھی ان دونوں کے رشتے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ عائشہ اس وقت بہت دکھی تھیں، کیونکہ انہیں محسوس ہوا کہ فلم انڈسٹری نے سلمان کی حمایت میں ان سے منہ موڑ لیا۔
یاد رہے کہ فلم دیوداس کی اداکارہ ایشوریا رائے اور سلمان خان تعلقات میں تھے تاہم ان کے تعلق کے ختم ہونے کے بعد انہوں نے ساتھ فلمیں نہیں کی دیوداس میں سلمان خان کو شاہ رُخ سے ری پلیس کرنے کی وجہ بھی یہی سمجھی جاتی ہے کیونکہ ایشوریا ان کیساتھ فلم نہیں کرنا چاہتی تھیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کے ساتھ جوہری معاہدے کے لیے اسرائیل سے تعلقات کی بحالی سے مشروط کردیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک ’’تاریخی جست‘‘ ثابت ہوگی۔
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ سعودی عرب کی ابراہام معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام اور تعاون کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
خیال رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے سول جوہری پروگرام کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
کچھ دیر قبل ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودیہ ابراہام معاہدوں میں شامل نہیں ہوجاتا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
یاد ہے کہ ایک روز قبل جب جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب کے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے نہیں جوڑا تھا تاہم بعد میں انھوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔
ادھر سعودی حکومت نے تاحال صدر ٹرمپ کے تازہ بیان پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا تاہم ریاض متعدد مواقع پر واضح کرچکا ہے کہ وہ اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے قابلِ عمل اور واضح راستہ موجود نہ ہو۔
سعودی عرب کا مؤقف رہا ہے کہ 1967 کی سرحدوں کی بنیاد پر آزاد فلسطینی ریاست کا قیام، مشرقی یروشلم کو اس کا دارالحکومت بنانا اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ اسرائیل سے تعلقات کی بحالی کے لیے بنیادی شرائط ہیں۔
ابراہام معاہدے کیا ہیں؟
ابراہام معاہدے 2020 میں امریکی ثالثی کے تحت طے پائے تھے جن کے نتیجے میں متحدہ عرب امارات، بحرین، سوڈان اور مراکش نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کیے۔ بعد ازاں قازقستان نے بھی معاہدے کی حمایت کا اعلان کیا تاہم سعودی عرب اب تک اس کا حصہ نہیں بنا۔
ان معاہدوں کا مقصد اسرائیل کے عرب و مسلم ممالک کے ساتھ سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی تعاون کو فروغ دینا تھا لیکن غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کا عمل روک رکھا ہے۔