میئرسکھر کی یونائیٹڈ نیشنز انٹرنیشنل میئرز فورم 2025 میں میونسپل کارپوریشن، سندھ حکومت کی نمائندگی
اشاعت کی تاریخ: 16th, October 2025 GMT
میئر سکھر اور ترجمان سندھ حکومت بیرسٹر ارسلان اسلام شیخ نے جاپان میں منعقد ہونے والے یونائیٹڈ نیشنز انٹرنیشنل میئرز فورم 2025 میں سکھر میونسپل کارپوریشن اور حکومت سندھ کی نمائندگی کی، اس کانفرنس کا عالمی موضوع تھا “Actions Today for a Resilient Future.”
جاری کردہ بیان کے مطابق بیرسٹر ارسلان اسلام شیخ اپنی سیاسی و سرکاری مصروفیات کے باعث اس فورم میں ذاتی طور پر شرکت نہیں کر سکے، تاہم انہوں نے اپنی خصوصی ویڈیو پریزنٹیشن کے ذریعے عالمی مندوبین اور دنیا بھر کے شہروں کے رہنماؤں سے خطاب کیا۔
اپنے خطاب میں بیرسٹر ارسلان نے سکھر کی جانب سے Sustainable Development Goals (SDGs) کے مقامی سطح پر نفاذ کے لیے کیے جانے والے اقدامات کو اجاگر کیا، بالخصوص Goal 6 (Clean Water and Sanitation)، Goal 11 (Sustainable Cities and Communities)، اور Goal 13 (Climate Action) پر عملدرآمد کو جو چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے پائیدار اور جامع شہری ترقی کے وژن کی عکاسی کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سکھر ایک تاریخی دریا سندھ کے کنارے آباد “مزاحمت اور مواقع کا شہر” ہے جو پائیدار شہری نظم و نسق کا پاکستان میں ایک ماڈل بن کر اُبھر رہا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ سکھر کی میونسپل اصلاحات عالمی اہداف کو مقامی سطح پر حقیقت میں تبدیل کر رہی ہیں، جو 2030 Agenda for Sustainable Development کے ساتھ ہم آہنگ ہیں۔
میئر نے Sukkur Water and Sewerage Corporation Act 2023 کے نفاذ کو ایک بڑا ادارہ جاتی سنگِ میل قرار دیا، جس کے تحت Sukkur Water and Sewerage Corporation (SWSC) قائم کی گئی جو سکھر میونسپل کارپوریشن، حکومت سندھ اور صوبائی محکموں کی مشترکہ نگرانی میں ایک خودمختار ادارے کے طور پر کام کر رہی ہے۔ یہ فریم ورک مالی و انتظامی شفافیت، جوابدہی، اور مقامی حکومتوں کو بااختیار بنانے کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔
بیرسٹر ارسلان اسلام شیخ نے شہری انتظام کے شعبے میں سکھر کی پیش رفت پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ Sindh Solid Waste Management Board (SSWMB) کا سکھر چیپٹر قائم کیا گیا ہے، جس نے شہر میں کوڑا کرکٹ کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کر دیا ہے۔ Mechanized sweeping، door-to-door collection، transfer stations اور sanitary landfill operations جیسے اقدامات سے شہر کو صاف اور صحت مند بنایا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ solid waste management اور ماحولیاتی صفائی عوامی صحت اور SDG 3 (Good Health and Well-being) اور SDG 13 (Climate Action) سے براہِ راست منسلک ہیں۔
انہوں نے Sukkur Clean Water Project کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ یہ منصوبہ حکومت سندھ اور Asian Development Bank کے اشتراک سے شروع کیا گیا ہے تاکہ ہر گھر تک صاف اور پائیدار پینے کا پانی پہنچایا جا سکے۔ اس منصوبے میں smart metering، GIS mapping اور SCADA systems کے ذریعے شفافیت اور کارکردگی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔
میئر نے سکھر کے Mass Transit Corridor Project کا بھی ذکر کیا، جو شہریوں کو سستی، محفوظ اور ماحول دوست ٹرانسپورٹ فراہم کرنے کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔
یہ منصوبہ Sindh Mass Transit Authority کے تعاون سے شہر میں ٹریفک کے دباؤ کو کم کرنے، کاربن کے اخراج میں کمی لانے، اور کم آمدنی والے طبقے کے لیے بہتر نقل و حرکت فراہم کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔ یہ اقدامات براہِ راست SDG 11 (Sustainable Cities and Communities) اور SDG 13 (Climate Action) کے اہداف سے ہم آہنگ ہیں۔
میئر نے “Partnerships for Localization” ماڈل پر بھی روشنی ڈالی، جو مقامی، صوبائی اور بین الاقوامی شراکت داروں کو یکجا کرتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ Asian Development Bank، محکمہ آبپاشی اور پبلک ہیلتھ انجینئرنگ سمیت مختلف اداروں کے ساتھ تعاون کے ذریعے ماحولیاتی لحاظ سے محفوظ اور پائیدار شہری منصوبہ بندی کو فروغ دیا جا رہا ہے۔
بیرسٹر ارسلان نے کہا کہ حکمرانی کا اصل مقصد عوام کی زندگیوں میں بہتری لانا ہے۔ سکھر میں ward-based citizen committees کے ذریعے عوامی شمولیت کو فروغ دیا گیا ہے، tariff reforms متعارف کرائی گئی ہیں، اور خواتین، خصوصی افراد اور کم آمدنی والے نوجوانوں کے لیے Skill Development and Vocational Training Centre قائم کیا گیا ہے تاکہ ترقی کے مواقع سب کے لیے برابر ہوں۔
انہوں نے پاکستان کے ہم آہنگ معاشرتی ورثے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سکھر میں Eid Milad-un-Nabi، Muharram، Christmas، Diwali اور Guru Nanak Jayanti جیسے مذہبی تہوار مشترکہ طور پر منائے جاتے ہیں، جو بین المذاہب ہم آہنگی کی روشن مثال ہے۔ انہوں نے کہا کہ پائیدار شہر صرف بنیادی ڈھانچے سے نہیں بلکہ عوام کے درمیان اعتماد، رواداری اور اتحاد سے بنتے ہیں، جو SDG 16 (Peace, Justice, and Strong Institutions) سے مطابقت رکھتا ہے۔
انہوں نے ماحولیاتی تحفظ کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے اعلان کیا کہ Indus Dolphin Sanctuary میں موٹر بوٹس پر پابندی عائد کی گئی ہے تاکہ نایاب Indus Blind Dolphin کی بقا کو یقینی بنایا جا سکے۔
یہ اقدام ترقی اور ماحولیات کے درمیان توازن قائم رکھنے کے لیے سکھر کے عزم کی علامت ہے، جو پاکستان کے Paris Agreement کے وعدوں کی تکمیل ہے۔
بیرسٹر ارسلان نے اپنی اصلاحات کو مزید وسعت دیتے ہوئے انہیں SDG 4 (Quality Education)، SDG 9 (Industry, Innovation & Infrastructure) اور SDG 16 (Strong Institutions) کے ساتھ منسلک قرار دیا۔
اپنے اختتامی خطاب میں میئر ارسلان اسلام شیخ نے عالمی رہنماؤں سے اپیل کی کہ Sustainable Development Goals صرف قومی سطح کے عزائم نہیں بلکہ مقامی سطح سے شروع ہونے والے اجتماعی مشن ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سکھر کی کہانی اصلاحات، شمولیت، ہم آہنگی اور ماحولیاتی تحفظ کی ہے، جو یہ ثابت کرتی ہے کہ محدود وسائل کے باوجود ایک شہر جدت، تعاون اور مشترکہ اقدار کے ذریعے قیادت کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا: “ہماری تعمیر کنکریٹ میں نہیں بلکہ ہمدردی، ہمت اور تعاون میں ہونی چاہیے۔”
میئر نے اپنے پیغام کے اختتام پر کہا: “جس طرح دریائے سندھ صدیوں سے سکھر کی رگوں میں بہتا آیا ہے — قدیم، مضبوط اور زندگی سے بھرپور — اسی طرح ہماری اجتماعی کوششیں بھی اسی عزم اور جذبے کے ساتھ ایک پائیدار مستقبل کی سمت رواں دواں رہیں۔”
.ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ارسلان اسلام شیخ انہوں نے کہا کہ بیرسٹر ارسلان جا رہا ہے کے ذریعے کے ساتھ کہ سکھر سکھر کی گیا ہے کے لیے
پڑھیں:
سینیٹر مشاہد حسین ایشیا-یورپ پولیٹیکل فورم کے چیئرمین منتخب
سینیٹر مشاہد حسین ایشیا-یورپ پولیٹیکل فورم کے چیئرمین منتخب ہوگئے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق سینیٹر مشاہد حسین سید کو ایشیا۔یورپ پولیٹیکل فورم(اے ای پی ایف ) کے چیئرمین کے طور پر متفقہ طور پر منتخب کر لیا گیا۔ یہ انتخاب اس دو براعظمی تنظیم کے سالانہ اجلاس میں عمل میں آیا جو ہنگری کے دارالحکومت بوداپیسٹ میں منعقد ہوا اور کل اختتام پذیر ہوا۔
یہ کانفرنس ’’یوریشیا میں امن اور جمہوریت‘‘ کے عنوان کے تحت منعقد کی گئی جس کی میزبانی ہنگری کی حکمراں جماعت فیدیز نے کی۔ ہنگری کے سابق نائب وزیر خارجہ ژولٹ نیمیتھ کو یورپ کی نمائندگی کرتے ہوئے ایشیا۔یورپ پولیٹیکل فورم (اے ای پی ایف ) کا شریک چیئرمین منتخب کیا گیا۔
اس کانفرنس میں 25 ممالک سے تعلق رکھنے والے 35 ارکانِ پارلیمان، سیاسی شخصیات اور تھنک ٹینک کے نمائندگان نے شرکت کی جن میں 15 ایشیا سے اور 10 یورپ سے تھے۔
اپنے عہدے کی قبولیت کی تقریر میں سینیٹر مشاہد حسین، جو انٹرنیشنل کانفرنس آف ایشین پولیٹیکل پارٹیز (ICAPP) کے بھی شریک چیئرمین ہیں، نے شرکاء کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے انہیں اس منفرد فورم کے لیے دو سالہ مدت کے لیے چیئرمین منتخب کیا کیونکہ ایشیا۔یورپ پولیٹیکل فورم واحد غیر سرکاری ادارہ ہے جو یورپ کے سیاسی نمائندوں، عوامی دانشوروں اور تھنک ٹینکس کو ایشیا کے اپنے ہم منصبوں سے جوڑتا ہے اور اس کے اجلاس باری باری ایشیا اور یورپ میں منعقد ہوتے ہیں۔
مشاہد حسین نے ایشیا میں رابطہ کاری کے فروغ میں پاکستان کے کردار خصوصاً جنوبی ایشیا اور وسطی ایشیا کے درمیان اور اس سے آگے یوریشیا تک خاص طور پر جغرافیائی معیشت (جیو اکنامکس) اور جغرافیائی سیاست (جیو پولیٹکس) کی ابھرتی ہوئی حرکیات کے تناظر پر بھی روشنی ڈالی ۔
انہوں نے پاکستان کو ’’مشرق اور مغرب کے درمیان ایک مثالی پل‘‘ قرار دیا۔ سینیٹر مشاہد حسین نے چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (بی آر آئی) جیسے اقدام کے ذریعے رابطہ کاری(کنیکٹیویٹی) کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا جس میں سی پیک کو کلیدی کردار قرار دیا، اس کے علاوہ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) جیسے دیگر اداروں کا بھی ذکر کیا۔
سینیٹر مشاہد حسین سید نے بوداپیسٹ میں مدفون مسلمان درویش گل بابا کے مزار پر حاضری کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بوداپیسٹ میں گل بابا کا مزار ہنگری کے کثیرالثقافتی ورثے کا مظہر ہےکیونکہ ہنگری ماضی میں سلطنتِ عثمانیہ کا حصہ رہا جبکہ آج ہنگری یورپی یونین اور نیٹو(NATO) کا رکن ہے۔
اس دورے کے دوران سینیٹر مشاہد حسین اور دیگر وفود کے اعزاز میں ہنگری کی پارلیمنٹ کے اسپیکر کے ساتھ ساتھ یورپی امور کے وزیر کی جانب سے ضیافت کا اہتمام کیا گیا۔