اسلام آباد:

اسلام آباد ہائی کورٹ نے نائب وزیر اعظم کے آئین میں دیے گئے اختیارات سے متعلق اسحاق ڈار کے وکیل سے آئندہ سماعت پر معاونت طلب کر لی۔

اسحاق ڈار کے دو عہدے رکھنے کے خلاف ایم این اے شیر افضل مروت کی درخواست پر سماعت ہوئی۔

جسٹس خادم حسین سومرو نے ریمارکس دیے آئین میں کہاں ہے کہ نائب وزیر اعظم ایگزیکٹو کے اختیارات استعمال کرے گا، کل ڈپٹی وزیر اعظم کہہ دے کہ اسسٹنٹ وزیر اعظم بھی ہوگا، پھر کیا کریں گے، یہ کیسے ہو سکتا ہے اس پر ہماری معاونت کریں۔

عدالت نے وکلاء سے معاونت طلب کرتے ہوئے کہا کہ فرانس، ایران اور ترکیہ میں تو ایسا ہوگا لیکن یہاں کیسے ہے وہ بتائیں۔

جسٹس خادم حسین سومرو نے ریمارکس دیے کہ ہم نے آئین کو فالو کرنا ہے، اس پر تیاری کریں اور آئندہ سماعت پر دلائل دیں۔

اسحاق ڈار کی جانب سے وکیل عدیل واحد عدالت میں پیش ہوئے جبکہ درخواست گزار شیر افضل مروت کے وکیل ریاض حنیف راہی نے دلائل دیے۔

درخواست گزار کے وکیل ریاض حنیف راہی کا موقف تھا کہ اسحاق ڈار کے پاس دو عہدے ہیں، وہ نائب وزیر اعظم بھی ہیں اور وزیر خارجہ بھی ہیں، آئین میں کہیں ڈپٹی وزیر اعظم کے عہدے کا ذکر نہیں، اسحاق ڈار سب اہم میٹنگ چیئر کر رہے ہیں۔

عدالت نے آئندہ سماعت پر نائب وزیر اعظم کے ایگزیکٹو کے اختیارات استعمال کرنے سے متعلق دلائل طلب کرتے ہوئے کیس کی سماعت ملتوی کر دی، آئندہ تاریخ تحریری حکم نامے میں جاری ہوگی۔

.

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: اسحاق ڈار کے کے وکیل

پڑھیں:

افغانستان ٹی ٹی پی کو ہمارے حوالے کر دے یا کہیں دور لے جائے، نائب وزیر اعظم

نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ ’میں نے کابل میں واضح کردیا کہ افغانستان اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دے اور ٹی ٹی پی کو ہمارے حوالے کر دے یا کہیں دور لے جائے۔

اسلام آباد میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ دورہ روس میں وزارت خارجہ نے روسی انتظامیہ سے ملاقاتوں کا خط پہلے ہی بھیج دیا تھا، اس وجہ سے روسی وزیر خارجہ سرگئی، نائب وزیر اعظم الیکسی اوورچک سے علیحدہ علیحدہ باہمی ملاقاتیں ہوئیں، روسی نائب وزیر اعظم کے ساتھ ملاقات میں مختلف روسی وزراء بھی موجود تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ کئی برس کے بعد یورپی یونین کے صدر کے ساتھ کسی پاکستانی نے ملاقات کی، 2021 کے بعد سے 5 برس سے پاکستان ای یو مذاکرات التواء کا شکار تھے، یورپی یونین کے اعلیٰ نمائندوں کے ساتھ  انتہائی اہم ملاقات ہوئی، یہ ملاقات انتہائی خوشگوار اور بے تکلفی والے ماحول میں ہوئی۔

اس دورے سے ہمارے یورپی یونین سے رابطوں میں موجود کمی دور ہوئی، ساتواں اسٹریٹیجک ڈائیلاگ انتہائی اہم رہا۔

ان کا کہنا تھا کہ ای یو.کے ساتھ ہمارے تعلقات کے تمام شعبوں تجارت، اقتصادی امور، جی ایس پی پلس، افغانستان، سیکیورٹی، بھارت اور دیگر معاملات ہر بات چیت کی، ہم نے کھل کر افغانستان سے پاکستان پر حملوں پر تفصیلی بات چیت کی، پہلگام واقعہ اور پاک بھارت جنگ  کے بعد کئی مرتبہ رابطہ ہوا تھا۔

انہیں بتایا کہ میں نے افغانستان کا ذاتی دورہ کیا اور افغان قیادت سے تمام موضوعات پر بات چیت کی، میں نے بتایا کہ افغانستان میں ہونے والے تمام فیصلوں اور وعدوں کو کابل میں ہی دنیا کے سامنے رکھا۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ ’میں نے کابل میں واضح کیا کہ افغانستان اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دے، یا تو ٹی ٹی پی کو ہمارے حوالے کر دے یا کہیں دور لے جائے۔

متعلقہ مضامین

  • اسحاق ڈار، چینی سفیر ملاقات، تاجکستان ہلاکتوں پر اظہار افسوس
  • پاکستان اقوام متحدہ کی منظوری کے بعد فوجی دستے بھیجنے کو تیار، نائب وزیراعظم کا اعلان
  • افغانستان ٹی ٹی پی کو ہمارے حوالے کر دے ،نائب وزیر اعظم
  • افغانستان ٹی ٹی پی کو ہمارے حوالے کر دے یا کہیں دور لے جائے، نائب وزیر اعظم
  • افغانستان ٹی ٹی پی کو ہمارے حوالے کر دے یا کہیں دور لے جائے، نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار
  • افغانستان میں امن خطے کے امن کے لیے بہت ضروری ہے، نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار کی پریس کا نفرنس
  • ماسکو اجلاس میں پاکستان کے معاشی ترجیحات پر بات کی، اسحاق ڈار
  • ملکی نظام چلانے کیلیے قرآن سے سبق لینا ضروری ہے، فساد اور دہشت گردی کو ختم کرنے کا حکم ہے: اسحاق ڈار
  • خطے میں پائیدار ترقی کے لیے شراکت داری لازم ہے: اسحاق ڈار
  • ای سی او ملکوں سے تعاون بڑھا رہے ہیں، اسحاق ڈار