باڈی بنانے اور رنگ گورا کرنے کیلئے انجیکشن لگوانے کے مشورے ملے، حارث وحید
اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT
اداکار و میزبان حارث وحید نے انکشاف کیا ہے کہ شوبز انڈسٹری میں نئے فنکاروں کو اکثر ایسے مشورے دیے جاتے ہیں جو نہ صرف غیر حقیقی ہوتے ہیں بلکہ اداکاروں کی خود اعتمادی کو بھی متاثر کرتے ہیں۔
حال ہی میں ایک پوڈکاسٹ میں گفتگو کے دوران حارث وحید نے اپنے کیرئیر کے آغاز سے متعلق تجربات شیئر کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب وہ انڈسٹری میں نئے تھے تو ایک اسسٹنٹ ڈائریکٹر نے انہیں مشورہ دیا کہ بہتر باڈی بنانے کے لیے انجکشن لگوائیں کیونکہ صرف جم کرنے سے مطلوبہ تبدیلی حاصل نہیں ہوگی۔
حارث نے بتایا کہ اسی شخص نے انہیں رنگ گورا کرنے والی کریمیں استعمال کرنے کا بھی کہا تاکہ وہ اسکرین پر زیادہ پُرکشش دکھائی دیں۔
حارث وحید نے مزاحیہ انداز میں بتایا کہ انہوں نے ایسے تمام مشوروں کو نظر انداز کیا اور اپنے اصولوں پر قائم رہے۔ اداکار نے واضح کیا کہ انہوں نے نہ کوئی انجکشن لگوایا اور نہ ہی رنگت گوری کرنے والی کوئی مصنوعات استعمال کیں۔
اداکار نے کہا کہ وہ اپنی اصل شخصیت اور قدرتی رنگت پر فخر محسوس کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ حقیقی خوبصورتی انسان کی سچائی اور خود اعتمادی میں ہوتی ہے اور اسے بدلنے کے مشورے ملنے سے خوداعتمادی متاثر ہوتی ہے اس لئے انہوں نے کبھی ایسے مشوروں پر عمل نہیں کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔