پی ڈی پی کی صدر نے کہا کہ 5 اگست 2019ء کے بعد دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد تحقیقات یا مقدمے کا سامنا کرنے والے بہت سے باشندے جموں اور کشمیر سے باہر جیلوں میں بند ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلٰی اور پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر محبوبہ مفتی نے جموں و کشمیر اور لداخ ہائی کورٹ میں ایک عرضی دائر کی ہے جس میں طویل عرصے سے جیلوں میں بند زیر سماعت قیدیوں کے حقوق کے تحفظ کی مانگ کی گئی ہے۔ اپنی درخواست میں محبوبہ مفتی نے عدالت پر زور دیا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائے کہ زیر سماعت افراد کو بروقت انصاف اور مناسب قانونی مدد ملے۔ انہوں نے درخواست کی کہ یونین ٹیریٹری سے باہر کی جیلوں میں بند قیدیوں کو واپس مقامی جیلوں میں منتقل کیا جائے جب تک کہ حکام انہیں علاقے سے باہر رکھنے کی تحریری، کیس سے متعلق وجوہات فراہم نہ کریں۔ انہوں نے ہر تین ماہ بعد ایسے مقدمات کا عدالتی جائزہ لینے کا بھی مطالبہ کیا۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ عدالت سے رجوع کرنے سے پہلے انہوں نے حکومت سے زیر سماعت قیدیوں کو واپس جموں و کشمیر منتقل کرنے کی اپیل کی تھی لیکن کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔

انہوں نے عرضی میں کہا "میں یہ عرضی مفاد عامہ میں دائر کر رہی ہوں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ زیر سماعت قیدیوں کے حقوق کا تحفظ کیا جائے"۔ ہندوستانی آئین کے دفعہ 226 کا حوالہ دیتے ہوئے پی ڈی پی کے سربراہ نے عدالت سے درخواست کی کہ وہ مودی حکومت، جموں و کشمیر کے محکمہ داخلہ اور پولیس کے ڈائریکٹر جنرل کو مرکز کے زیر انتظام علاقوں سے باہر بند تمام زیر سماعت قیدیوں کو فوری طور پر مقامی جیلوں میں منتقل کرنے کی ہدایت کرے۔ انہوں نے دوری کی وجہ سے قیدیوں اور ان کے اہل خانہ کو درپیش مشکلات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ 5 اگست 2019ء کے بعد دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد تحقیقات یا مقدمے کا سامنا کرنے والے بہت سے باشندے جموں اور کشمیر سے باہر جیلوں میں بند ہیں۔ اس سے خاندانوں کو سفر کرنے اور قانونی مشورہ لینے میں بہت زیادہ مشکلات کا سامنا ہے۔

درخواست میں زیر سماعت قیدیوں کو ان کے گھروں سے دور رکھنے کے طرز عمل پر تنقید کی گئی ہے اور اسے آئین کے آرٹیکل 21 کے تحت دیے گئے ان کے منصفانہ ٹرائل کے حق اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے خاندان کے باقاعدگی سے ملنے اور وکلاء سے مشاورت میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے اور قیدیوں کے حالات سزا یافتہ قیدیوں سے بدتر ہیں۔ محبوبہ مفتی نے ان مسائل کو حل کرنے کے لئے کئی اقدامات تجویز کی، جن میں ہفتہ وار فیملی وزٹ کو یقینی بنانے کے لیے ایک پروٹوکول، بغیر کسی مداخلت کے نجی وکیل کلائنٹ کی ملاقاتیں اور زیر سماعت قیدیوں کے خاندانوں کے لئے سفری اخراجات کی کوریج شامل ہے۔ محبوبہ مفتی نے تعمیل کی نگرانی کے لئے ہائی کورٹ کے ایک ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں دو رکنی نگرانی اور شکایات کے ازالے کی کمیٹی تشکیل دینے کا بھی مطالبہ کیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: زیر سماعت قیدیوں کے محبوبہ مفتی نے جیلوں میں بند قیدیوں کو نے کہا کہ انہوں نے سے باہر کے بعد

پڑھیں:

مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی

مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔

اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔

دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔

سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • بجلی کی قیمت میں ایک روپے 72 پیسے اضافے کا امکان
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • سپریم کورٹ: اے پی ایس شہداء لواحقین کو پیکیج نہ ملنے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب
  • مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود