کشمیری نظربندوں کی مقامی جیلوں میں منتقلی کے لیے محبوبہ مفتی کا ہائی کورٹ سے رجوع
اشاعت کی تاریخ: 26th, October 2025 GMT
محبوبہ مفتی نے کہا کہ زیر سماعت قیدیوں کے ساتھ مجرموں سے مختلف سلوک کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ زیر سماعت قیدیوں کو دور دراز کی جیلوں میں منتقل کرنے سے ان کے بنیادی حقوق سلب ہو جاتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے ہائی کورٹ میں ایک درخواست دائر کی ہے جس میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ بھارتی جیلوں میں نظربند تمام کشمیری قیدیوں کو فوری طور پر مقامی جیلوں میں منتقل کرنے کی ہدایت دی جائے۔ ذرائع کے مطابق محبوبہ مفتی نے درخواست میں مطالبہ کیا کہ زیر سماعت قیدیوں کو اس وقت تک مقبوضہ جموں و کشمیر واپس لایا جائے جب تک کہ حکام انہیں علاقے سے باہر کی جیلوں میں رکھنے کی ٹھوس وجوہات پیش نہ کریں۔ انہوں نے اس طرح کے مقدمات کا سہ ماہی عدالتی جائزہ لینے کا بھی مطالبہ کیا۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ حکومت سے بار بار اپیل کرنے کے باوجود زیر سماعت قیدیوں کی واپسی کے حوالے سے کوئی کارروائی نہیں کی گئی جس کی وجہ سے مفاد عامہ میں یہ درخواست دائر کی گئی ہے۔ بھارتی آئین کی دفعہ 226 کے تحت دائر کی گئی درخواست میں عدالت سے اس سلسلے میں فوری مداخلت اور حکم جاری کرنے کی استدعا کی گئی ہے، جس میں بھارتی حکومت، مقبوضہ جموں و کشمیر کے محکمہ داخلہ اور ڈائریکٹر جنرل آف پولیس کو ہدایت کی جائے کہ وہ مقبوضہ علاقے سے باہر رکھے گئے تمام زیر سماعت کشمیری قیدیوں کو اس وقت تک واپس مقامی جیلوں میں منتقل کریں جب تک کسی اور جگہ پر ان کی نظربندی کی کوئی معقول اور تحریری وجہ پیش نہ کی جائے۔
درخواست میں کہا گیا کہ اس طرح کے مقدمات کا سہ ماہی عدالتی جائزہ لینا چاہیے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ اگست 2019ء میں دفعہ370 کی منسوخی کے بعد مقبوضہ جموں و کشمیر کے بہت سے لوگوں کو جن کے خلاف تحقیقات یا مقدمات چل رہے ہیں، علاقے سے باہر کی جیلوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے طویل مسافت کی وجہ سے قیدیوں کے اہلخانہ کو درپیش مشکلات کی نشاندہی کی جن میں عدالتوں تک رسائی، وکلاء اور اہلخانہ کے ساتھ ملاقاتوں میں رکاوٹ اور مالی بوجھ شامل ہے۔ محبوبہ مفتی نے کہا کہ زیر سماعت قیدیوں کے ساتھ مجرموں سے مختلف سلوک کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ زیر سماعت قیدیوں کو دور دراز کی جیلوں میں منتقل کرنے سے ان کے بنیادی حقوق سلب ہو جاتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: نے کہا کہ زیر سماعت قیدیوں جیلوں میں منتقل محبوبہ مفتی نے کی جیلوں میں درخواست میں قیدیوں کو انہوں نے کی گئی
پڑھیں:
مانچسٹر، پاکستانی قونصل خانہ کے اوقات میں اضافہ
—تصویر بشکریہ سوشل میڈیاقونصلیٹ جنرل آف پاکستان مانچسٹر نے پاکستانی کمیونٹی کی سہولت کے لیے سرکاری اوقات میں اضافہ کر دیا ہے۔
ہائی کمشنر آف پاکستان ٹیپو عثمان کی ہدایت پر اب قونصل خانہ کمیونٹی خدمات کے لئے روزانہ صبح 8:00 بجے کام کا آغاز کرے گا۔
قونصل جنرل امتیاز فیروز گوندل کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق نئے اوقات کار سے کمیونٹی کو بہتر سہولیات فراہم کی جا سکیں گی، جبکہ روزانہ اپوائنٹمنٹ کی تعداد بھی بڑھا دی جائے گی۔
تمام درخواست گزاروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ قونصل خانے کی آن لائن اپوائنٹمنٹ پورٹل کے ذریعے وقت لینا ہوگا۔
یہ اپوائنٹمنٹ ہر ہفتہ کے روز صبح 10:00 بجے جاری کی جائیں گی۔درخواست گزار اپوائنٹمنٹ بک کرتے وقت اپنی ذاتی معلومات استعمال کریں اور مقررہ وقت پر پہنچیں۔
30 منٹ سے زیادہ تاخیر سے آنے والے درخواست گزاروں کو نئی اپوائنٹمنٹ لینا ہوگی۔
قونصل جنرل امتیاز فیروز گوندل نے کہا کہ یہ اقدامات کمیونٹی کو مؤثر، شفاف اور بہتر خدمات فراہم کرنے میں مدد گار ثابت ہوں گے۔