Jasarat News:
2026-06-03@00:23:51 GMT

قید کے پار روشنی؛ فلسطینی استقامت کی داستان

اشاعت کی تاریخ: 26th, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251026-03-7

 

میر بابر مشتاق

دنیا نے تاریخ میں بہت سے معجزات دیکھے، مگر کچھ معجزے صرف دیکھنے کے لیے نہیں، سمجھنے کے لیے ہوتے ہیں۔ فلسطین آج بھی اسی معجزے کی سرزمین ہے۔ جہاں خون مٹی میں جذب ہو کر ایمان بن جاتا ہے، جہاں زخم چراغ بنتے ہیں، اور جہاں قید بھی آزادی کی علامت بن جاتی ہے جب اسرائیلی قیدی عمری میران کی رہائی کے مناظر دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ پر سامنے آئے تو بیش تر لوگوں نے صرف ایک اسرائیلی کی واپسی دیکھی، مگر حقیقت کا دوسرا رُخ کہیں زیادہ حیران کن تھا۔ دو سال سے زائد عرصے تک کسی قیدی کو زیرِ زمین سرنگوں میں محفوظ رکھنا، بغیر کسی شور، غل یا سراغ کے یہ کوئی معمولی کارنامہ نہیں۔ یہ جنگ صرف ہتھیاروں سے نہیں لڑی گئی، یہ نظم، حکمت، صبر اور ایمان کی جنگ تھی۔ عمری میران کی جسمانی حالت بہتر تھی، چہرے پر غذائیت اور اطمینان کے آثار تھے۔ یہ صرف ایک پیغام تھا کہ حماس نے قیدی نہیں، امانتیں سنبھالیں۔ دنیا کے لیے یہ ناقابلِ یقین تھا کہ زمین کے نیچے، تباہی کے بیچ، اتنے عرصے تک کوئی زندہ، محفوظ اور پرامن رہ سکتا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں سیاست اور فوجی تزویرات ناکام ہو جاتی ہیں، اور ایمان کی تدبیر غالب آ جاتی ہے۔

سرنگوں میں زندگی… دن کی روشنی سے دور، زمین کی خاموشی تلے، پھر بھی دنیا کی مسلسل نگرانی سے بچا کر قیدیوں کو رکھنا یہ محض طاقت نہیں بلکہ غیر معمولی تدبیر، استقامت اور ضبط کا مظہر ہے۔ یہ واقعہ دنیا کو یہ باور کروا رہا ہے کہ طاقت ہمیشہ اسلحے میں نہیں ہوتی، کبھی کبھی وہ خاموشی، حکمتِ عملی اور ایمان کی روشنی میں چھپی ہوتی ہے۔ اسرائیلی جیلوں سے رہائی پانے والے فلسطینی قیدیوں کی بسیں جب خان یونس کے ناصر میڈیکل کمپلیکس پہنچیں تو وہاں ایک عجیب منظر تھا۔ کچھ اپنے زخم دکھانے آئے تھے، اور کچھ اپنے زخم چھپانے۔ یہ قافلے صرف قیدیوں کے نہیں، صبر، قربانی اور امید کے قافلے تھے۔ ہر آزاد سانس، فلسطین کی فتح کی گواہ بن چکی تھی۔ اسی کاروان میں ایک نام نمایاں تھا خیری حسن سلامہ۔ نابلس کا یہ اسیر 23 سال بعد گھر لوٹ رہا تھا۔ اس کے بھتیجے، جنہوں نے اسے صرف تصویروں میں دیکھا تھا، آج قومی لباس پہن کر دروازے پر کھڑے تھے۔ ان کے لیے یہ ملاقات کسی خواب کے سچ ہونے جیسی تھی۔ سلامہ کو 15 جولائی 2003 کو گرفتار کیا گیا۔ وہ کتائب شہداء الاقصیٰ کے کمانڈروں میں سے ایک تھے، جنہوں نے دوسری انتفاضہ کے دوران اسرائیلی افواج کو ناکوں چنے چبوائے۔ ان پر عمر قید کی سزا سنائی گئی اور یہ ’’عمر‘‘ واقعی ایک پوری زندگی بن گئی۔

قید کا آغاز مگر اْس وقت ہوا تھا جب وہ صرف 13 سال کے بچے تھے۔ آزادی کا سبق انہوں نے پہلی گرفتاری کے دوران سیکھا۔ دو سال بعد رہا ہوئے، مگر جلد ہی دوبارہ مزاحمت میں شریک ہو گئے۔ انتفاضہ الاقصیٰ کے دوران جب ان کا نام اسرائیلی فوج کی فہرست میں آیا، تو ان کے گھر پر چھاپے پڑے، املاک مسمار کی گئیں، اہلِ خانہ کو ہراساں کیا گیا اور بالآخر وہ دن آیا جب وہ اپنے ایک سالہ بیٹے کو پیچھے چھوڑ کر قید میں چلے گئے۔ آج وہ بیٹا جوان ہے، خود باپ بن چکا ہے اور سلامہ کے پوتے پہلی بار اپنے دادا کو دیکھنے جا رہے ہیں۔ یہ صرف ایک خاندان کی خوشی نہیں، ایک قوم کی استقامت کی علامت ہے۔ سلامہ نے جیل میں تعلیم حاصل کی، سوشل ورک میں بیچلر ڈگری مکمل کی، اور ماسٹرز کے مراحل میں ہیں۔ انہوں نے قیدیوں کے درمیان تعلیم، نظم و ضبط اور اتحاد کی فضا قائم کی۔ مگر آزمائش ختم نہیں ہوئی۔

2019 میں ان کی والدہ کا انتقال ہوا، انہیں آخری دیدار کی اجازت نہ ملی۔ 2023 میں بھائی بھی دنیا سے رخصت ہو گئے۔ اور 7 اکتوبر کے بعد جب غزہ پر بمباری شروع ہوئی، تو جیلوں کے اندر فلسطینی قیدیوں کو اذیت، بھوک اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ سلامہ کئی بار موت کے دہانے تک پہنچے، مگر ان کے ایمان کی روشنی بجھی نہیں۔ آج جب وہ واپس اپنے شہر نابلس پہنچے، تو فضاؤں میں اذان کی طرح ایک صدا گونجی! استقامت کی، وفا کی، اور آزادی کی۔ یہ ملاقات ایک نظریے کی جیت ہے، وہ نظریہ کہ صبر کا سورج کبھی غروب نہیں ہوتا۔ ’’یہ چراغِ صبر جلتا ہے تو بجھنے نہیں پاتا؍ یہ وہ دل ہے جو ظلمت میں بھی اُجالا کرتا ہے‘‘۔ خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق، 1966 فلسطینی قیدیوں کو اسرائیلی جیلوں سے رہائی دی گئی۔ ان میں سے 1716 کو غزہ کے ناصر میڈیکل کمپلیکس کے قریب آزاد کیا گیا، جب کہ 250 قیدی جو طویل المدت یا عمر قید کی سزائیں کاٹ رہے تھے انہیں مغربی کنارے، مشرقی یروشلم اور بیرونِ ملک منتقل کیا گیا۔

یہ رہائی محض ایک سیاسی معاہدہ نہیں، ایک اخلاقی اور روحانی فتح ہے۔ اسرائیلی جیلوں میں اس وقت بھی 11,100 سے زائد فلسطینی قید ہیں جو تشدد، بھوک اور طبی غفلت کے شکار ہیں۔ متعدد قیدی دورانِ حراست جاں بحق ہو چکے ہیں۔ فلسطینی اسیران کے دفتر اطلاعات کے ڈائریکٹر نے کہا: ’’قیدیوں کی رہائی اور غزہ میں جنگ بندی ایک عظیم قومی دن ہے۔ ان قیدیوں میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو کئی دہائیوں سے اسرائیلی جیلوں میں قید ہیں۔ قابض دجال ہمیشہ اپنے وعدوں سے پیچھے ہٹنے کی کوشش کرتا ہے‘‘۔ یہ الفاظ محض سیاسی بیان نہیں، ایک حقیقت کا اعتراف ہیں۔ اسرائیل کے تمام فوجی اور سیکورٹی منصوبے اْس ایمان کے سامنے ناکام ہیں جو قید میں بھی زندہ رہتا ہے، جو بھوک میں بھی سجدہ نہیں چھوڑتا، اور جو زنجیروں کے بیچ بھی آزادی کا خواب دیکھتا ہے۔ دنیا کی جنگیں اب ہتھیاروں سے نہیں جیتی جاتیں، نظریات سے جیتی جاتی ہیں۔ فلسطینی مجاہدین نے جس صبر، نظم اور خفیہ تدبیر کا مظاہرہ کیا، اس نے جدید اسرائیلی انٹیلی جنس کو بھی مفلوج کر دیا۔ سرنگوں کے نیچے زندگی کی حفاظت کرنا، قیدیوں کو انسانی احترام کے ساتھ رکھنا، اور پھر انہیں معاہدے کے تحت سالم واپس کرنا، یہ صرف عسکری نہیں بلکہ اخلاقی برتری کا ثبوت ہے۔

یہی اصل معجزہ ہے کہ ظلم کی تاریکی میں بھی روشنی بجھتی نہیں۔ فلسطینی قیدی جب آزادی کی ہوا میں سانس لیتے ہیں تو دنیا کے ہر باضمیر انسان کا ضمیر جاگ اٹھتا ہے۔ یہ ان لوگوں کی داستان ہے جو قید میں بھی آزاد رہے، اور آزادی میں بھی عاجز۔ یہ لمحہ امتِ مسلمہ کے لیے ایک دعوتِ فکر ہے کہ ایمان، نظم، اور صبر کی قوت اگر حماس جیسے گروہ میں زندہ ہے تو کیوں نہیں وہی جذبہ ہماری پوری امت میں بیدار ہو؟ یہ رہائی دراصل ایک اعلان ہے کہ فتح کبھی صرف توپ اور ٹینک سے نہیں آتی، بلکہ ایمان، عزم، اور صبر کے سنگم سے جنم لیتی ہے۔ دنیا کے نقشے پر فلسطین اب صرف ایک خطہ نہیں رہا، وہ ایک نظریہ ہے؛ جو ہر اس انسان کے دل میں زندہ ہے جو ظلم کے خلاف کھڑا ہونا جانتا ہے۔ یہ وہ قوم ہے جس کے قیدی بھی فاتح ہیں، جس کی ماؤں کے آنسو بھی دعا بن جاتے ہیں، اور جس کے بچے بھی دنیا کو آزادی کا مطلب سکھا رہے ہیں۔ قید کے پار روشنی صرف فلسطینیوں کی نہیں، انسانیت کی داستان ہے۔ یہ وہ روشنی ہے جو ظلمت میں بھی بجھتی نہیں کیونکہ یہ روشنی ایمان سے جلتی ہے۔

میر بابر مشتاق.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: اسرائیلی جیلوں فلسطینی قیدی فلسطینی قید قیدیوں کو ایمان کی صرف ایک میں بھی کیا گیا کے لیے

پڑھیں:

عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی

بین الاقوامی سیاست کے افق پر بعض لمحات ایسے طلوع ہوتے ہیں جو محض روزمرہ سفارتی سرگرمیوں کا حصہ نہیں ہوتے بلکہ تاریخ کے دھارے میں ایک معنی خیز موڑ کی حیثیت اختیار کر لیتے ہیں۔ آج مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر اسی نوع کی بے یقینی، اضطراب اور کشمکش سے دوچار ہے۔

ایک طرف جنگ کے بادل ہیں جو لبنان، غزہ اور خطے کے دیگر حساس مقامات پر مسلسل گہرے ہوتے جا رہے ہیں، دوسری طرف سفارت کاری کی وہ نحیف مگر روشن کرن بھی موجود ہے جو انسانیت کو ایک بڑے تصادم سے بچانے کی جدوجہد کر رہی ہے۔ ایسے نازک ماحول میں پاکستان کے کردار کو عالمی سطح پر ملنے والی پذیرائی نہ صرف قومی سفارت کاری کی کامیابی کا اعتراف ہے بلکہ اس حقیقت کی علامت بھی ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں پاکستان کو ایک ذمے دار، متوازن اور قابلِ اعتماد ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایا کالاس کی جانب سے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو سراہنا بظاہر ایک بیان ہے، مگر اس کے مضمرات کہیں زیادہ گہرے ہیں۔ عالمی سیاست میں تعریف کے الفاظ اکثر مفادات کے پردے میں لپٹے ہوتے ہیں، لیکن جب کسی ملک کی ثالثی کی صلاحیت، اس کی قائدانہ بصیرت اور امن کے لیے اس کی سنجیدہ کوششوں کا اعتراف مختلف بین الاقوامی حلقوں سے ہونے لگے تو یہ محض سفارتی آداب نہیں رہتے بلکہ ایک نئی حقیقت کا اظہار بن جاتے ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی گزشتہ نصف صدی سے عالمی سیاست کے حساس ترین موضوعات میں شمار ہوتی رہی ہے۔

ان دونوں ممالک کے درمیان محاذ آرائی صرف دو ریاستوں کا تنازع نہیں بلکہ اس کے اثرات توانائی کی عالمی منڈیوں، بین الاقوامی تجارت، علاقائی سلامتی اور عالمی اقتصادی استحکام تک پھیل جاتے ہیں۔ ایسی صورت میں اگر پاکستان نے متعدد مواقع پر دونوں فریقوں کو جنگ کے دہانے سے واپس لانے میں کردار ادا کیا ہے تو یہ ایک ایسی کامیابی ہے جسے محض رسمی تعریف کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ یہ امر بھی قابلِ غور ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں طاقت کی تعریف تبدیل ہو رہی ہے۔

ماضی میں عسکری قوت کو ریاستی برتری کی سب سے بڑی علامت سمجھا جاتا تھا، مگر آج دنیا بتدریج اس نتیجے پر پہنچ رہی ہے کہ مستقل اثر و رسوخ صرف وہی ریاست حاصل کر سکتی ہے جو تنازعات کے حل میں معاون ثابت ہو، جو پل تعمیر کرے، دیواریں نہیں؛ جو رابطے پیدا کرے، فاصلے نہیں۔ پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیاں اسی نئے تصور قوت کی عکاسی کرتی ہیں۔ ایران اور امریکا کے درمیان براہِ راست یا بالواسطہ روابط کی راہیں ہموار کرنا، مختلف سطحوں پر اعتماد سازی کے عمل کو زندہ رکھنا اور کشیدگی کو جنگ میں تبدیل ہونے سے روکنے کی کوشش کرنا درحقیقت ایک ایسی ذمے داری ہے جس کے نتائج پوری دنیا پر مرتب ہوتے ہیں۔ دوسری طرف لبنان کی صورتحال عالمی ضمیر کے لیے ایک کڑا امتحان بن چکی ہے۔

اسرائیلی حملوں، حزب اللہ کے ساتھ جاری محاذ آرائی اور علاقائی طاقتوں کی مداخلت نے اس ملک کو ایک مرتبہ پھر عدم استحکام کے بھنور میں دھکیل دیا ہے۔ لبنان ایک ایسا معاشرہ ہے جو پہلے ہی معاشی بحران، سیاسی تقسیم اور سماجی مشکلات کا شکار ہے۔ ایسے میں مسلسل عسکری کارروائیاں نہ صرف اس کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہی ہیں بلکہ لاکھوں شہریوں کے مستقبل کو بھی تاریکی کی طرف دھکیل رہی ہیں۔

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے رابطہ اور بیروت میں ممکنہ کارروائی کو روکنے کی کوشش اس امر کی نشاندہی کرتی ہے کہ واشنگٹن بھی اس بحران کے ممکنہ نتائج سے پوری طرح آگاہ ہے۔ تاہم مسئلہ یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں سفارتی بیانات اور زمینی حقائق کے درمیان ہمیشہ ایک وسیع فاصلہ موجود رہا ہے۔ ایک جانب جنگ بندی کے اعلانات ہوتے ہیں، دوسری جانب گولہ باری، فضائی حملے اور عسکری پیش قدمی جاری رہتی ہے۔ یہی تضاد عالمی سفارت کاری کی ساکھ کو مجروح کرتا ہے اور متحارب فریقوں کے درمیان عدم اعتماد کو مزید گہرا کر دیتا ہے۔

 نیتن یاہو کی جانب سے جنوبی لبنان میں کارروائیاں جاری رکھنے کے اعلانات دراصل اسی پیچیدہ حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں۔ اسرائیل اپنی سلامتی کے نام پر عسکری اقدامات کو ناگزیر قرار دیتا ہے، جب کہ لبنان اور خطے کی دیگر قوتیں انھیں جارحیت اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ جب ہر فریق اپنی کارروائی کو دفاع اور دوسرے کے عمل کو جارحیت قرار دینے لگے تو پھر امن کا راستہ مزید دشوار ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں بین الاقوامی اداروں اور ثالث ریاستوں کا کردار فیصلہ کن اہمیت اختیار کر لیتا ہے۔

 لبنان میں ہونے والی ہلاکتوں اور زخمیوں کے اعداد و شمار محض شماریاتی معلومات نہیں بلکہ انسانی المیوں کی ایک طویل داستان ہیں۔ ہزاروں جانوں کا ضیاع اور لاکھوں انسانوں کی بے یقینی اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ کبھی بھی صرف فوجیوں کے درمیان نہیں ہوتی، اس کا سب سے بھاری بوجھ ہمیشہ عام شہریوں کے کندھوں پر آتا ہے۔ ایک ماں کی آغوش اجڑتی ہے، ایک بچے کا مستقبل تاریک ہوتا ہے، ایک خاندان اپنے سہارے سے محروم ہو جاتا ہے۔ افسوس یہ ہے کہ عالمی سیاست میں اکثر انسانی دکھ کو جغرافیائی مفادات کے شور میں نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔

 ایران کی جانب سے امریکا کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل کو معطل کرنے کی اطلاعات اسی بگڑتی ہوئی صورتحال کا منطقی نتیجہ معلوم ہوتی ہیں، اگرچہ اس حوالے سے سرکاری سطح پر مکمل وضاحت سامنے نہیں آئی، تاہم ایرانی قیادت کے بیانات واضح کرتے ہیں کہ لبنان میں جاری کارروائیاں اعتماد کے ماحول کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔

سفارت کاری کا بنیادی اصول یہ ہے کہ مذاکرات طاقت کے استعمال کا متبادل ہوتے ہیں، لیکن جب میدانِ جنگ مسلسل گرم رہے تو مذاکراتی میز پر سنجیدہ پیش رفت تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔ ایران کا یہ مؤقف کہ جنگ بندی کا اطلاق تمام محاذوں پر ہونا چاہیے، بین الاقوامی اصولوں کے تناظر میں خاصی اہمیت رکھتا ہے، اگر ایک معاہدہ صرف مخصوص علاقوں تک محدود رہے اور دوسرے مقامات پر عسکری کارروائیاں جاری رہیں تو اس کی حیثیت ایک عارضی سیاسی انتظام سے زیادہ نہیں رہتی۔ اس پورے بحران نے اقوام متحدہ کے کردار پر بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس، تشویش کے بیانات اور قراردادوں کے مسودے اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عالمی ادارے اکثر طاقتور ریاستوں کے سیاسی مفادات کے سامنے بے بس دکھائی دیتے ہیں۔

بین الاقوامی قانون کی بالادستی کا تصور اسی وقت معتبر رہ سکتا ہے جب اس کا اطلاق سب پر یکساں ہو، اگر بعض ریاستوں کے لیے ایک معیار اور دوسروں کے لیے دوسرا معیار اختیار کیا جائے تو عالمی نظام کی اخلاقی بنیادیں کمزور پڑ جاتی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے سلامتی کونسل میں اختیار کیا گیا مؤقف خاص اہمیت رکھتا ہے۔ لبنان کی صورتحال کو ایک انسانی بحران قرار دینا دراصل اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ جنگوں کو محض عسکری زاویے سے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انسانی جانوں کا تحفظ، بنیادی حقوق کی پاسداری اور شہری آبادی کا امن ہر قسم کی سیاسی مصلحت سے بالاتر ہونا چاہیے۔

پاکستان نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ تنازعات کا حل طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قانون کے دائرے میں تلاش کیا جانا چاہیے۔ یہی مؤقف آج خطے کی ضرورت بھی ہے اور عالمی امن کا تقاضا بھی۔ اس پوری صورتحال کو اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اس وقت ایک تاریخی دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک راستہ مسلسل عسکری تصادم، انتقامی کارروائیوں اور بڑھتی ہوئی نفرت کی طرف جاتا ہے۔ دوسرا راستہ مکالمے، مفاہمت اور سیاسی حل کی جانب لے جاتا ہے۔ بدقسمتی یہ ہے کہ جنگ کا راستہ ہمیشہ زیادہ شور پیدا کرتا ہے جب کہ امن کی کوششیں خاموشی سے آگے بڑھتی ہیں۔ میڈیا کی شہ سرخیوں میں بمباری کی آواز زیادہ سنائی دیتی ہے، مگر سفارت کاری کی خاموش محنت اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں بالآخر مذاکراتی میز پر ہی ختم ہوتی ہیں۔ کوئی بھی تنازع مستقل طور پر بارود کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکا۔ انسانی تہذیب کی بقا، اقتصادی ترقی اور عالمی استحکام کا انحصار بالآخر مکالمے پر ہی ہوتا ہے۔ آج لبنان، ایران، امریکا اور اسرائیل کے گرد گھومتا بحران اسی ابدی حقیقت کی ایک نئی یاد دہانی ہے، اگر عالمی قیادت نے دانش کا راستہ اختیار کیا تو یہ خطہ ایک اور بڑے سانحے سے بچ سکتا ہے، لیکن اگر طاقت کے استعمال کو ہی واحد حل سمجھا گیا تو اس کے نتائج صرف مشرقِ وسطیٰ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کو عدم استحکام کی نئی لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔ایسے میں پاکستان کی آواز، جو جنگ کے شور میں امن، مفاہمت اور مذاکرات کی بات کر رہی ہے، محض ایک سفارتی مؤقف نہیں بلکہ ایک اخلاقی ضرورت اور بین الاقوامی ذمے داری کی علامت بن چکی ہے۔ یہی وہ راستہ ہے جو تباہی کے اندھیروں سے نکل کر امن، استحکام اور مشترکہ انسانی مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی؟ حقیقت سامنے آگئی
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود