پہلے ایشیز ٹیسٹ سے قبل آسٹریلیا کو بڑا دھچکا، پیٹ کمنز باہر، نیا کپتان کون ہوگا؟
اشاعت کی تاریخ: 27th, October 2025 GMT
آسٹریلوی کھلاڑی پیٹ کمنز کی کمر کی انجری برقرار رہنے کے باعث انہیں پہلے ایشیز ٹیسٹ سے باہر کر دیا گیا ہے، جبکہ اسٹیو اسمتھ کو ٹیم کی قیادت سونپ دی گئی ہے۔
کرکٹ آسٹریلیا کی جانب سے پیر کی صبح جاری بیان میں تصدیق کی گئی کہ کپتان پیٹ کمنز این آر ایم اے انشورنس ایشیز ٹیسٹ کے پہلے میچ کے لیے فٹ نہیں ہو سکیں گے، ان کی عدم موجودگی میں اسٹیو اسمتھ ٹیم کی قیادت کریں گے۔ پیٹ کمنز نے رننگ شروع کر دی ہے اور جلد ہی بولنگ دوبارہ شروع کرنے کی توقع ہے۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستانی کھلاڑیوں کو بگ بیش لیگ کھیلنے کی اجازت، کرکٹ آسٹریلیا کی تصدیق
رپورٹس کے مطابق پیٹ کمنز ابھی تک بولنگ کے لیے میدان میں واپس نہیں آئے اور وقت کی کمی کے باعث وہ پہلے ٹیسٹ کے لیے تیار نہیں ہو پائے۔ تاہم، سیریز کے اگلے میچز میں ان کی واپسی کے امکانات موجود ہیں۔
اسٹیو اسمتھ 7ویں بار بطور قائم مقام کپتان ٹیم کی قیادت کریں گے۔ ان کا کہنا تھا، میں نے پچھلے چند سالوں میں کچھ مواقع پر کپتانی کی ہے، یہ کوئی نئی بات نہیں۔ ٹیم اچھے ماحول میں ہے، اگر یہ ذمہ داری ملی تو خوشی سے نبھاؤں گا۔
پیٹ کمنز کی غیر موجودگی میں فاسٹ بولر اسکاٹ بولینڈ کے پہلے ٹیسٹ میں شامل ہونے کے امکانات روشن ہیں۔ اسٹیو اسمتھ اس سے قبل قائم مقام کپتان کی حیثیت سے پانچ فتوحات حاصل کر چکے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آسٹریلیا پیٹ کمنز کرکٹ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: آسٹریلیا پیٹ کمنز کرکٹ اسٹیو اسمتھ پیٹ کمنز کے لیے
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔