کراچی کو ناپسندیدہ کہنا دن رات شہر کو زندہ رکھنے والے لاکھوں شہریوں کی توہین ہے، خواجہ اظہار الحسن
اشاعت کی تاریخ: 29th, October 2025 GMT
اپنے بیان میں ایم کیو ایم رہنما نے کہا کہ کراچی مسائل کے باوجود پاکستان کی معاشی ریڑھ کی ہڈی ہے، کراچی محنت کشوں، تاجروں، طلبا اور خواب دیکھنے والوں کا شہر ہے، یہ شہر بدصورت نہیں، بدنظمی کا شکار ضرور ہے مگر محبت سے بھرپور ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما خواجہ اظہار الحسن نے صبا قمر کے کراچی سے متعلق بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہاہے کہ کراچی کو ناپسندیدہ کہنا دن رات شہر کو زندہ رکھنے والے لاکھوں شہریوں کی توہین ہے۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ کراچی مسائل کے باوجود پاکستان کی معاشی ریڑھ کی ہڈی ہے، کراچی محنت کشوں، تاجروں، طلبا اور خواب دیکھنے والوں کا شہر ہے۔ خواجہ اظہار الحسن نے آخر میں وی لو کراچی کا ہیش ٹیگ بھی استعمال کیا۔ ایم کیو ایم رہنما نے کہا کہ یہ شہر بدصورت نہیں، بدنظمی کا شکار ضرور ہے مگر محبت سے بھرپور ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔