اسلام آباد، سوشل میڈیا پر قابل اعتراض مواد اپلوڈ کرکے میاں بیوی کو بلیک میل کرنے والا ملزم گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT
اسلام آباد:
نیشنل سائبر کرائم انوسٹی گیشن ایجنسی اسلام آباد نے سوشل میڈیا پر قابل اعتراض مواد اپ لوڈ کرکے فیملی کو ہراساں اور بلیک میل کرنے میں ملوث ملزم کو گرفتار کرکے پیکا ایکٹ سمیت دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیا۔
حکام کے مطابق ڈیرہ اسماعیل خان سے تعلق رکھنے والے ملزم نے متاثرہ شہری اور اس کی اہلیہ کی ذاتی تصاویر غیر قانونی طور پر حاصل کر کے سوشل میڈیا پر پھیلائیں اور فیس بک گروپس میں تصاویر کے ساتھ نازیبا اور فحش تبصرے پوسٹ کیے اور اس کے لیے ملزم نے فیس بک اکاؤنٹ استعمال کیا۔
انکوائری میں انکشاف ہوا کہ ملزم “Capablelynx6329” کے نام سے ان گروپس میں بطور اجنبی ممبر سرگرم تھا، جس کو نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں چھاپہ مارکر گرفتار کیا گیا اور پیکا ایکٹ سمیت دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیاگیا ہے۔
حکام نے بتایا کہ ملزم سے ڈیجیٹل شواہد بھی قبضے میں لے لیے گئے اور تفتیش کے دوران مزید انکشافات متوقع ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
بحرین میں محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی شیعیان علیؑ کیخلاف کریک ڈاون میں تیزی
گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ شیعہ نشین عرب ملک بحرین پر قابض ال خلیفہ حکام اپنے جرائم کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں اور متعدد شہریوں کی گرفتاریوں کا ایک سلسلہ شروع کیا ہے۔ محرم الحرام کی آمد کیساتھ ہی بحرین میں شیعہ شہریوں کے خلاف سیکیورٹی اداروں کی طرف سے شروع کیے گئے کریک ڈاؤن کے تحت، انہیں تفتیش کے لیے طلب کرنے کے بعد متعدد شہریوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔ گرفتار کیے گئے افراد کے نام حسب ذیل ہیں: - ناصر الکشری (اهل بیت علیہم السلام کے ذاکر) - حاج عبدالجبّار میرزا - حاج حسین درویش - إیهاب الحمدی - احمد حسن - السید عبدالله ماجد - حسین الخیاط - محمود مسلم - حاج مهدی صالح - دو بھائی علی و حسن الغانم - رضا ابراهیم محمد حمادة - السید حسین جعفر - محمد سرحان
غاصب بحرینی حکام یہیں نہیں رکے بلکہ انہوں نے دو بچوں مصطفی یوسف اور زین محمد ابراهیم کو بھی گرفتار کر لیا ہے۔ شیعہ آبادی والے دیہاتوں میں سیکیورٹی الرٹ کی حالت ہے، جہاں حکام نے زیادہ تر دیہاتوں کے اطراف اپنی افواج تعینات کر رکھی ہیں، تاکہ وہ متعدد شہریوں کو طلب کر کے گرفتار کریں۔ یہ گرفتاریاں بحرین کی وزارت داخلہ کی طرف سے چلائی جانے والی ایک بڑھتی ہوئی مہم کے تناظر میں کی جا رہی ہیں، جو خطے میں جاری واقعات، بشمول شیعوں کو براہ راست نشانہ بنانے، کے بعد سامنے آئی ہے۔