سفید فام افراد کی نسل کشی کا الزام: امریکا نے جنوبی افریقا میں ہونیوالے جی 20 اجلاس کا بائیکاٹ کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 9th, November 2025 GMT
امریکا نے جنوبی افریقہ میں منعقد ہونے والے جی 20 اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے اجلاس کا بائیکاٹ کر دیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ جنوبی افریقہ میں سفید فام افراد پر مبینہ مظالم کے باعث امریکا اس اجلاس میں شریک نہیں ہوگا۔ اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر ٹرمپ نے لکھا کہ یہ افسوسناک ہے کہ جی 20 اجلاس ایسے ملک میں ہو رہا ہے جہاں سفید فام افراد کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، ان کی زمینیں اور کھیت غیر قانونی طور پر ضبط کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب تک یہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں جاری رہیں گی، کوئی بھی امریکی اہلکار اجلاس میں شریک نہیں ہوگا۔
ابتدائی طور پر ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ خود شرکت نہیں کریں گے اور نائب صدر جے ڈی وینس کو نمائندگی کے لیے بھیجیں گے، تاہم وائٹ ہاؤس نے بعد میں وضاحت کی کہ امریکا کا کوئی بھی نمائندہ اجلاس میں نہیں جائے گا۔
دوسری جانب جنوبی افریقہ کی وزارتِ خارجہ نے امریکی فیصلے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ افریکنرز کو صرف سفید فام گروہ کے طور پر پیش کرنا تاریخی طور پر غلط ہے اور ان کے خلاف منظم مظالم کے دعووں کی کوئی حقیقت نہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان کھیل اجلاس میں سفید فام
پڑھیں:
بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ خلیجی خطے میں بحری جہازوں، کارگو اور متعلقہ سامان کو پہنچنے والے نقصانات کی تلافی کے لیے امریکا اپنی تحویل میں موجود منجمد ایرانی اثاثوں سے ادائیگی کرے گا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ آئندہ کسی بھی بحری جہاز، کارگو یا اس سے متعلق املاک کو نقصان پہنچنے کی صورت میں اس کا مالی ازالہ ایرانی فنڈز سے کیا جائے گا، جو امریکا کے کنٹرول میں ہیں۔
ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ’آج سے اور آئندہ اطلاع تک، بحری جہازوں، کارگو یا ان سے متعلق کسی بھی نقصان کی ادائیگی امریکا کی تحویل میں موجود ایرانی رقم سے کی جائے گی۔‘
امریکی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خلیج، آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی جہاز رانی اور توانائی کی ترسیل شدید دباؤ کا شکار ہے۔ حالیہ ہفتوں میں متعدد تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں پر حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آ چکی ہیں۔
اگرچہ ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ کن ایرانی اثاثوں یا کتنی رقم کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا جائے گا، تاہم امریکا ماضی سے مختلف پابندیوں کے تحت اربوں ڈالر مالیت کے ایرانی اثاثے منجمد کیے ہوئے ہے۔
pic.twitter.com/Lbev6wPsNZ
— Rapid Response 47 (@RapidResponse47) July 23, 2026ماہرین کے مطابق اگر امریکا اس اعلان پر عملی اقدامات کرتا ہے تو اس سے ایران اور امریکا کے درمیان قانونی اور سفارتی تنازعات مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر بین الاقوامی قوانین، مالیاتی ضوابط اور خودمختار ریاستوں کے اثاثوں سے متعلق نئے سوالات بھی جنم لے سکتے ہیں۔