وینزویلا نے منگل کے روز اپنے ساحل کے قریب امریکی بحری موجودگی کے خلاف ایک بڑے پیمانے پر ملکی فوجی تعیناتی کا اعلان کیا ہے۔

غیرملکی خبر رساں ادارے کے مطابق واشنگٹن کی جانب سے کریبیئن اور مشرقی پیسفک میں فوجی مہم چلائی جا رہی ہے، جس میں بحری اور فضائی افواج کو تعینات کیا گیا ہے اور یہ کہا جا رہا ہے کہ اس کا مقصد منشیات کی اسمگلنگ کو روکنا ہے۔

لیکن اس آپریشن نے کراکس میں خدشات پیدا کر دیے ہیں کہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو ہٹانا امریکا کا حتمی مقصد ہے۔

امریکی اعداد و شمار کے مطابق واشنگٹن کی افواج نے ستمبر کے اوائل سے بین الاقوامی پانیوں میں 20 جہازوں پر حملے کیے جن میں 76 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

تاہم، امریکا نے اب تک یہ ثبوت پیش نہیں کیا کہ یہ جہاز منشیات کی اسمگلنگ میں استعمال ہوئے یا ملک کے لیے خطرہ بنے۔

وینزویلا کی وزارت دفاع نے ایک بیان میں کہا کہ وہ زمینی، بحری، فضائی، دریائی اور میزائل افواج کے ساتھ ساتھ سول ملیشیا کو بھی تعینات کرے گی۔

ریاستی ٹی وی نے مختلف ریاستوں میں فوجی رہنماؤں کے تقاریر کرتے ہوئے مناظر دکھائے، اس قسم کے اعلانات وینزویلا میں عام ہیں، لیکن ضروری نہیں کہ یہ فوری طور پر زمینی فوجی تعیناتی میں بدل جائیں۔

گزشتہ ہفتے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا کے ساتھ جنگ کے امکان کو کم دکھایا، لیکن کہا تھا کہ مادورو کے دن گنے جا چکے ہیں۔

واشنگٹن نے منگل کو دنیا کے سب سے بڑے ایئر کرافٹ کیریئر کو لاطینی امریکا کے علاقے میں بھیجا، جس سے فوجی تعیناتی میں اضافہ ہوا ہے، جس پر وینزویلا نے خبردار کیا ہے کہ یہ مکمل جنگ کا باعث بن سکتا ہے۔

ایک بیان میں، یو ایس نیول فورسز جنوبی کمانڈ نے کہا کہ یو ایس ایس جیرالڈ فورڈ، جسے تقریباً 3 ہفتے قبل منشیات کی اسمگلنگ کو روکنے کے لیے تعینات کرنے کا حکم دیا گیا تھا، وہ کمانڈ کے علاقے میں داخل ہو گیا ہے، جو کہ لاطینی امریکا اور کریبیئن کو شامل کرتا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان کھیل

پڑھیں:

ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام

واشنگٹن:

امریکا نے ایران کے خلاف مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے مکمل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ کارروائی کے دوران ایرانی فوجی تنصیبات، ڈرون مراکز اور ساحلی نگرانی کے نظام کو نشانہ بنایا گیا۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ تازہ کارروائی میں فوجی کمانڈ سینٹرز، ڈرون ذخیرہ گاہیں، مواصلاتی نیٹ ورک، ساحلی نگرانی کے مراکز اور بحری صلاحیتوں سے متعلق اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔

https://t.co/Wtbk84dEsc

— U.S. Central Command (@CENTCOM) July 24, 2026

سینٹکام کے مطابق ان حملوں کا مقصد آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں اور شہری بحری نقل و حمل کو درپیش خطرات میں مزید کمی لانا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ آبنائے ہرمز بدستور کھلی ہوئی ہے اور تجارتی جہاز امریکی فوج کی معاونت کے ساتھ معمول کے مطابق اس اہم بحری راستے سے گزر رہے ہیں۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے مزید بتایا کہ اس وقت مشرق وسطیٰ کے مختلف علاقوں میں 50 ہزار سے زائد امریکی فوجی اہلکار تعینات ہیں جو خطے میں جاری صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے سیکیورٹی اہلکار کے خلاف تحقیقات شروع، کون سی خفیہ معلومات افشا کی؟
  • ایران کے بحرین اور اردن میں امریکی فوجی تنصیبات پر ڈرون حملے، طیارہ گرانے کا دعویٰ
  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • مبینہ مقابلے‘ 45 سے زائد مقدمات کا ملزم گوجرانوالہ‘ 2 ڈ اکو پیر محل میں ہلاک 
  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف فیشن ڈیزائن میں قائممقام وائس چانسلر کی تعیناتی کیلیے سینیٹ کا اجلاس طلب
  • امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی