اجتماع عام میں 25 ممالک کی خواتین رہنماؤں کی شرکت
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور (نمائندہ جسارت)جماعت اسلامی پاکستان کے زیرِ اہتمام منعقدہ اجتماعِ عام میں 25 مسلم ممالک سے تعلق رکھنے والی ممتاز خواتین رہنماؤں اور اسلامی تحریکات کی قائدین نے خصوصی شرکت کی۔ مہمانوں کی شرکت نے اجتماع کو عالمی سطح پر نمایاں اور مؤثر رنگ عطا کیا۔تقریب میں جماعت اسلامی کی جانب سے معزز مہمان خواتین رہنماؤں کو یادگاری شیلڈز پیش کی گئیں جب کہ مختلف اسلامی ممالک کی رہنماؤں نے بھی محبت، خیر سگالی اور اپنائیت کا اظہار کیا۔اس موقع پر تحریک النہضہ تیونس کی طرف سے جماعت اسلامی پاکستان کی ویمن ونگ کی صدر ڈاکٹر حمیرا طارق کو خصوصی یادگاری تختی پیش کی گئی۔ تحریک النہضہ کی رہنما سہام، لیلی الزیتونی، بنگلا دیش جماعت اسلامی ویمن ونگ کی صدر نورالنساء اور ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی بھی موجود تھیں۔اسی دوران ڈاکٹر حمیرا طارق نے معزز مہمانوں کے لیے مختصر مگر دلی جذبات پر مشتمل کلمات ادا کرتے ہوئے کہا کہ مہمان قائدین کی آمد اور محبت نے اجتماع کی وقعت میں بے پناہ اضافہ کیا ہے، ان کا یہ تعاون امت مسلمہ کی خواتین قیادت کے باہمی رشتوں کو مزید مضبوط کرتا ہے۔اجتماع عام کی ناظمہ ثمینہ سعید کو بھی خصوصی شیلڈ پیش کی گئی۔ اس موقع پر عظمیٰ عمران ناظمہ حلقہ لاہور اور نازیہ توحید ناظمہ وسطی پنجاب بھی موجود تھیں۔ ثمینہ سعید نے تمام مہمان خواتین قائدین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ان کی آمد کو امت مسلمہ کی خواتین میں قیادت، اخوت اور یکجہتی کی نئی مثال قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ آپ کی موجودگی امت مسلمہ کے روشن مستقبل اور مضبوط فکری رشتے کی نوید ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی رہنماو ں
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔