متحدہ عرب امارات میں جنسی جرائم اور جسم فروشی کی سزاؤں میں بڑی تبدیلیاں
اشاعت کی تاریخ: 14th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
دبئی: متحدہ عرب امارات میں جنسی جرائم اور جسم فروشی سے متعلق سزاؤں میں نمایاں تبدیلیاں کر دی گئی ہیں۔
متحدہ عرب امارات نے جنسی جرائم اور جسم فروشی کے قوانین میں اہم اصلاحات نافذ کی ہیں، جن کا مقصد بچوں کا تحفظ اور عوامی سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔
کم عمر بچوں کے ساتھ جنسی تعلق پر سخت سزائیں مقرر
نئے اماراتی قوانین کے تحت اگر کوئی بالغ فرد 18 سال سے کم عمر بچے کے ساتھ جنسی تعلق میں ملوث پایا گیا تو اسے کم از کم 10 سال قید اور ایک لاکھ درہم (تقریباً 76 لاکھ پاکستانی روپے) جرمانے کی سزا دی جائے گی۔
قانون کے مطابق یہ سزا اس صورت میں بھی لاگو ہوگی، اگر متاثرہ کم عمر فرد نے رضامندی ظاہر کی ہو۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
کراچی:ایڈیشنل سیشن جج جنوبی نے بی ایم ڈبلیو تحویل میں لے کر پانچ لاکھ روپے جرمانہ وصولی پر ڈی ایچ اے ویجلنس، ایس ایس پی جنوبی اور ایس ایچ او ساحل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر جواب طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق درخواست گزار نے ڈی ایچ اے ویجلنس پر گاڑی غیر قانونی طور پر قبضے میں لینے کا الزام عائد کیا ہے۔
درخواست گزار ارسلان خواجہ نے موقف اختیار کیا ہے کہ ڈی ایچ اے ویجلنس اہلکاروں نے اختیارات سے تجاوز کیا، بغیر شواہد درخواست گزار پر ڈرفٹنگ اور ڈونٹس کا الزام لگایا گیا، 25 سے 30 اہلکاروں نے گاڑی کو گھیر کر تحویل میں لیا، بی ایم ڈبلیو گاڑی ضبط کرکے ڈی ایچ اے ویجلنس دفتر منتقل کی گئی اور 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا۔
درخواست گزار نے وکیل کے توسط سے کہا کہ گاڑی کی رہائی کے لیے 5 لاکھ روپے طلب کیے گئے، ڈی ایچ اے ویجلنس کو گاڑیاں ضبط کرنے کا اختیار حاصل نہیں، شہریوں کو روکنے اور جرمانہ عائد کرنے کا اختیار صرف پولیس کے پاس ہے، ڈی ایچ اے ویجلنس پولیس فورس نہیں، ویجلنس حکام کے اقدامات اختیارات کے ناجائز استعمال کے مترادف ہیں، درخواست میں بھتہ خوری، غیر قانونی حراست اور دھمکیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
درخواست پر عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 5 جون کو جواب طلب کرلیا۔