برقع پہنو اور نماز پڑھو، شاہ رُخ خان نے بیوی کو حکم کیوں دیا؟
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2025 GMT
شاہ رخ خان کا ایک پرانا انٹرویو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے، جس میں انہوں نے گوری سے شادی کے وقت پیش آئے ایک دلچسپ واقعے کا ذکر کیا۔
فریدہ جلال کے ایک پرانے شو میں شاہ رخ نے بتایا کہ گوری کے خاندان کو ان کی مسلم شناخت کے بارے میں خدشات تھے۔ انہوں نے کہا، ’مجھے یاد ہے، گوری کا پورا خاندان بیٹھا ہوا تھا، اور میں سوا ایک بجے کے قریب وہاں پہنچا۔ وہ سب باتیں کر رہے تھے کہ یہ لڑکا مسلم ہے۔ کیا یہ گوری کا نام بدل دے گا؟ کیا یہ اسے مسلمان بنا دے گا؟‘
اسی انٹرویو میں شاہ رخ نے انکشاف کیا کہ انہوں نے شادی کے بعد سسرال میں اپنے پہلے دن مذاق میں گوری سے کہا کہ وہ برقعہ پہن لیں اور اپنا نام عائشہ رکھ لیں۔
شاہ رخ کے مطابق ’وہ سب پنجابی میں بات کر رہے تھے۔ میں نے وقت دیکھتے ہوئے مذاق میں کہا، ٹھیک ہے گوری، اپنا برقعہ پہن لو اور نماز پڑھنے چلتے ہیں۔‘
انہوں نے بتایا کہ میرے اس مزاق پر گوری کے خاندان والے حیرت سے ہمیں دیکھنے لگے، یہ سوچتے ہوئے کہ شاید میں نے پہلے ہی اس کا مذہب تبدیل کر دیا ہے۔ پھر میں نے کہا، ’آج سے یہ ہمیشہ برقعہ پہنے گی، گھر سے باہر نہیں جائے گی، اس کا نام عائشہ ہوگا اور یہ ایسی ہی رہے گی۔‘
تاہم بعد میں شاہ رخ نے اعتراف کیا کہ ان کا اس طرح اہلیہ کے خاندان والوں کے ساتھ مذاق کرنا، خاص طور پر مذہب جیسے حساس موضوع پر، جذبات کے ساتھ کھیلنے کے مترادف تھا اور یہ عمل مناسب نہیں تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
لاہور : پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا۔رانا سکندر حیات نے ستمبر کے پہلے ہفتے سے انگلش اور کیمسٹری سمیت دیگر مضامین کی تدریس کا اعلان کیا۔انہوں نے کہا کہ لاہور میں ستمبر کے پہلے ہفتے سے کلاس کو پڑھاناشروع کروں گا، انگلش اور کیمسٹری میرے پسندیدہ مضمون ہیں لہٰذا ان ہی مضامین سے شروع کروں گا۔وزیر تعلیم نے کہنا ہےکہ پرائمری اسکولوں میں انگلش اور ہائی اسکولوں میں کیمسٹری سے آغاز کروں گا جب کہ انگلش اور کیمسٹری کے علاؤہ دیگرمضامین کی بھی تدریس کروں گا۔انہوں نے مزید کہا کہ ہر ہفتے کسی ایک اسکول میں بغیر پیشگی اطلاع پڑھانے جاؤں گا، اساتذہ کی عزت کرتا ہوں، استاد بن کر فخر محسوس کروں گا۔ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے تعلیمی معیار کو جانچ کر تدریسی کمزوریاں دور کرنے میں مدد ملے گی۔