وی پی این کے بڑھتے استعمال سے انٹرنیٹ انفرا اسٹرکچراورغیر ملکی زرمبادلہ کو نقصان پہنچنے کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2025 GMT
اسلام آباد:
پاکستان میں انٹرنیٹ کی سست روی اور خلل کے باعث انٹرنیٹ انفرا اسٹرکچر اور غیر ملکی زرمبادلہ کو نقصان پہنچنے کا انکشاف ہوا ہے۔
ذرائع کے مطابق انٹرنیٹ میں خلل کے دوران ملک بھر میں وی پی این کا استعمال کئی گنا بڑھا، وی پی این کے استعمال نے انٹرنیٹ کی مزید سست روی میں کردار ادا کیا ہے، وی پی این کا بڑھتا استعمال پاکستان کے انٹرنیٹ انفرا اسٹرکچر پر دباوٴ ڈال رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ٹی اے کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ انٹرنیٹ میں خلل کے دوران پاکستان میں وی پی این کا استعمال کئی گنا بڑھا ہے، وی پی این کے استعمال نے انٹرنیٹ کی مزید سست روی میں کردار ادا کیا ہے۔ وی پی اینز کے بڑھتے ہوئے استعمال سے مقامی سی ڈی اینز کو نظر انداز کیا جا رہا ہے، پاکستان میں 70 فیصد انٹرنیٹ سی ڈی اینز کے ذریعے فراہم کیا جاتا ہے۔
پی ٹی اے کی رپورٹ کے مطابق وی پی این، سی ڈی اینز کو بائی پاس کرکے ٹریفک کو انٹرنیشنل سرور پر منتقل کر دیتا ہے، وی پی این ٹریفک کی وجہ سے بینڈوڈتھ میں اضافے سے غیر ملکی زرمبادلہ کو نقصان پہنچا ہے۔
وی پی اینز کے استعمال سے ہر میگا بائٹس کا خرچ ایک ڈالر ہوتا ہے، وی پی اینز کے ذریعے بینڈوڈتھ کا استعمال اگست میں 634 جی بی پی ایس تک پہنچا، ستمبر میں 597 جی بی پی ایس، اکتوبر میں 815 جی بی پی ایس تک پہنچ گیا جبکہ نومبر میں وی پی اینز کے ذریعے بینڈوتھ کا استعمال 378 جی بی پی ایس ہوگیا، جب کہ دسمبر میں انٹرنیٹ کی بہتری کے بعد یہ استعمال 437 جی بی پی ایس رہا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: جی بی پی ایس کا استعمال انٹرنیٹ کی
پڑھیں:
بلوچستان: رواں ماہ بارشوں سے 8 افراد جاں بحق، 41 گھروں کو نقصان
---فائل فوٹوصوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی بلوچستان نے بارشوں کے دوران ہونے والے جانی و مالی نقصانات کی رپورٹ جاری کر دی۔
رپورٹ کے مطابق یکم جون سے اب تک بارشوں، آسمانی بجلی گرنے اور دیگر حادثات کے نتیجے میں 8 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں 4 بچے بھی شامل ہیں جبکہ 13 بچوں اور 2 خواتین سمیت 16 افراد زخمی ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق ضلع کوہلو میں آسمانی بجلی اور دیوار گرنے سے 1 خاتون سمیت 2 افراد جان سے گئے۔
خضدار میں آسمانی بجلی گرنے اور چھت گرنے کے واقعات میں 1 بچے سمیت 2 افراد جاں بحق ہوئے۔
ژوب میں آسمانی بجلی اور چھتیں گرنے سے 3 بچوں سمیت 4 افراد زندگی کی بازی ہار گئے۔
بلوچستان بھر میں بارشوں اور سیلابی ریلوں سے 41 گھروں کو نقصان پہنچا۔
خضدار، ژوب، ہرنائی اور بارکھان میں 17 گھر مکمل طور پر تباہ ہو گئے جبکہ 24 گھروں کو جزوی نقصان پہنچا۔