آئی جی پنجاب کے ذاتی گھر کے قریب ڈکیتی کی واردات
اشاعت کی تاریخ: 9th, January 2025 GMT
فوٹو: فائل
لاہور میں انسپکٹر جنرل (آئی جی) پنجاب پولیس ڈاکٹر عثمان انور کے سندر میں واقع ذاتی گھر کے قریب ڈکیتی کی واردات ہوئی ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ واردات سندر کے علاقے میں نجی ہاؤسنگ سوسائٹی میں واقع گھر ایک میں ہوئی، متاثرہ گھر آئی جی پنجاب کے ذاتی گھر کے سامنے واقع ہے، واردات صبح ساڑھے 5 بجے ہوئی، ملزمان کی سی سی ٹی وی جیونیوز نے حاصل کرلی۔
سی سی ٹی وی فوٹیج کے مطابق ڈاکو عقبی سائیڈ سےگھر میں داخل ہوتے ہیں، ڈاکوؤں نے گھر کے چوکیدار اور دو خانساماؤں کو یرغمال بنا کر ایک کمرے میں بند کیا، ملزمان نے چوکیدار سے بندوق اور خانساماؤں سے موبائل فون چھین لیے۔
ڈاکو ایک خانساماں کو دوسرے کمرے میں لے کر گئے تو اس نے شور مچا دیا، شور مچانے پر ملزمان فرار ہوگئے۔
دوسری جانب ڈی آئی جی آپریشنز کا کہنا ہے کہ ڈکیتی نہیں ہوئی، ڈکیتی کی کوشش کی گئی، پولیس نے بروقت واردات ناکام بنائی، مقدمہ درج کیا جا رہا ہے، جلد ملزمان کو ٹریس کر لیا جائے گا۔
ترجمان پنجاب پولیس کا کہنا ہے کہ آئی جی پنجاب جی او آر ون میں سرکاری گھر میں رہتے ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
سیالکوٹ(نیوز ڈیسک) ٹک ٹاکر حکیم بابر سے متعلق مبینہ زہر خوری کیس میں نامزد ملزم صفدر کے بھائی ملک سلیم کھوکھر کا ویڈیو بیان منظر عام پر آگیا جس میں انہوں نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
ویڈیو بیان میں ملک سلیم کھوکھر نے دعویٰ کیا کہ محمد افضل عرف حکیم بابر نے سوشل میڈیا پر ویوز حاصل کرنے کیلئے خود کو زہر خورانی کا شکار ظاہر کرنے کا ڈرامہ رچایا، اسپتال کی رپورٹ میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکیم بابر کو کسی قسم کا زہر نہیں دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ حکیم بابر نشے کے عادی ہیں اور کسی مبینہ اوور ڈوز کے واقعے کو ان کے خاندان پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ان کے خاندان کا حکیم بابر کے ساتھ کسی قسم کا کوئی ذاتی تنازع یا دشمنی موجود نہیں۔
ملک سلیم کھوکھر انکشاف کیا کہ حکیم بابر کا اصل نام افضل ہے اور وہ کوئی مستند حکیم نہیں بلکہ تعلیمی طور پر بھی میٹرک پاس نہیں ہیں، جھوٹے مقدمے کی وجہ سے میرا خاندان شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ رات کے وقت پولیس کی جانب سے دو بار گھر پر چھاپے مارے گئے، کو ہراساں مت کیا جائے۔
انہوں نے ڈی پی او سیالکوٹ اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی کہ کیس کی شفاف اور میرٹ پر انکوائری کی جائے اور حقائق کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے۔
مزید پڑھیں۔مشرق وسطیٰ کی صورتحال، خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد اضافہ