قابض انتظامیہ مقبوضہ کشمیر سے بجلی بھارتی ریاستوں کو فراہم کر رہی ہے، فاروق عبداللہ
اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2025 GMT
ذرائع کے مطابق فاروق عبداللہ نے ضلع کٹھوعہ میں ایک عوامی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی کا مطالبہ دہراتے ہوئے کہا کہ اس کے بغیر کشمیریوں کو درپیش کئی چیلنجز کو دور نہیں کیا جا سکتا۔ اسلام ٹائمز۔ نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ نے کہا ہے کہ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر سے بجلی بھارتی ریاستوں راجستھان اور اترپردیش کو فراہم کی جا رہی ہے جس سے کشمیریوں کو بجلی کی شدید لوڈشیڈنگ کا سامنا ہے۔ ذرائع کے مطابق فاروق عبداللہ نے ضلع کٹھوعہ میں ایک عوامی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کشمیر کی ریاستی حیثیت کی بحالی کا مطالبہ دہراتے ہوئے کہا کہ اس کے بغیر کشمیریوں کو درپیش کئی چیلنجز کو دور نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے افسوس ظاہر کیا کہ کشمیری بجلی سے بھی محروم ہیں۔ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی قابض انتظامیہ کشمیر میں پیدا ہونیوالی بجلی بھارتی ریاستوں راجستھان اور اترپردیش کو فراہم کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بجلی مقبوضہ کشمیر میں پیدا ہوتی ہے جس کے کشمیری مالک ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک دن لیفٹیننٹ گورنر اور بھارتیہ جنتا پارٹی بھی سیاسی طاقت سے محروم ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایک دن انصاف ضرور ہو گا۔ فاروق عبداللہ نے جموں و کشمیر کی ریاستی شناخت کی فوری بحالی کی ضرورت پر زور دیا۔انہوں نے ایک روشن مستقبل کی امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ایک دن ضرور جموں و کشمیر کی ریاستی حیثیت بحال ہو گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کشمیر کی ریاستی انہوں نے کہا کہ نے کہا
پڑھیں:
ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
ویب ڈیسک :مسلم لیگ ن کے صدر اور سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا۔
سابق وزیر اعظم نواز شریف نے گلگت میں عوامی جلسے سے خطاب کے دوران کہا ہے کہ میں وہ نواز شریف ہوں جو کسی پر تنقید کرکے نہیں بلکہ کارکردگی پر ووٹ مانگتا ہوں، گلگت بلتستان کی سڑکوں کی حالت دیکھ کر افسوس ہوا،پوچھنا چاہتا ہوں کہ گلگت بلتستان کو نظر انداز کیوں کیا گیا ؟
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
میاں نوازشریف نے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عوامی جوش و جذبہ دیکھ کر خوشی ہوئی ،ہم نےگلگت اور ملحقہ علاقوں میں بہترین شاہراہیں بچھائی تھیں۔
چاہتا ہوں جی بی میں ترقی اور لوگوں کو روزگار ملے، 50 ارب روپے کی لاگت سے گلگت سے سکردو تک سڑک تعمیر کی گئی تھی ،گلگت کے عوام کا پیسہ ان پر کیوں نہیں لگایا گیا؟ہم نے ہائیڈرل پاور منصوبے شروع کیے، اب تک مکمل کیوں نہیں ہوئے؟