WE News:
2026-06-03@07:25:24 GMT

دھمکی دی گئی کہ آپ کی اے آئی ویڈیوز بنا لیں گے، علیمہ خان

اشاعت کی تاریخ: 10th, January 2025 GMT

دھمکی دی گئی کہ آپ کی اے آئی ویڈیوز بنا لیں گے، علیمہ خان

بانی چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے کہا ہے کہ ہمیں دھمکیاں دی گئیں کہ آپ کی اے آئی جنریٹ ویڈیوز بنا لیں گے۔

اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کے دوران علیمہ خان سے سوال پوچھا گیا کہ کیا امید لگ گئی ہے آپ کو کہ عمران خان جلد جیل سے باہر آئیں گے؟ جواب میں علیمہ خان نے کہا کہ عمران خان کے خلاف جو القادر ٹرسٹ کیس جب ہائیکورٹ میں جائے گا تو ساری دنیا کو پتا چلے گا کہ کیس کتنا بڑا مذاق ہے، تو پھر عمران خان کیسے جیل میں رہیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: عمران خان نے بیرون ملک بھجوائے جانے کی متعدد پیشکشیں ٹھکرائیں، علیمہ خان

علیمہ خان نے کہا کہ عمران خان نے پہلے دن سے کہا ہے کہ وہ اپنے ہر کیس کا سامنا کریں گے، ہم نے اور عوام نے عمران خان کا ساتھ دیا کہ وہ ڈیڑھ سال سے چپ کرکے جیل سے اپنے کیسز لڑرہے ہیں، انہوں نے ڈیڑھ سال گزار دیے ہیں وہ سرخرو ہوکر جیل سے نکلیں گے اور ڈیل کے تحت نہیں نکلیں گے۔

انہوں نے کہا کہ القادر کیس میں سب کو پتا ہے کہ عمران خان کو کیا سزا دینی ہے، کیا پتا ان کو کوئی پڑھائی لکھائی میں مشکل پیش آرہی ہو کہ فیصلے میں کیا لکھنا ہے، عمران خان200 سے 250 بچوں کو مفت تعلیم دے رہے ہیں اور یہ ان کا جذبہ ہے، عمران خان کا جرم یہی ہے وہ 200 سے 250 بچوں کو مفت تعلیم دے رہے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ آج انہیں عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی، ہم احتجاجاً پیدل چل کے اندر چلے گئے، اس کے بعد مجھے کہا گیا کہ آپ باہر بیٹھیں گی، ڈاکٹر عظمیٰ اندر جاسکتی ہیں، مجھ پر آج جیل داخلے پر پابندی لگی ہوئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: 26 نومبر کے بے شمار لوگ لاپتا، لال مسجد آپریشن کی طرح لاشیں دفنائی گئیں، علیمہ خان

علیمہ خان نے کہا کہ ڈاکٹر عظمیٰ نے عمران خان سے ملاقات کی، انہوں نے عمران خان کو بتایا کہ مجھے باہر بٹھایا گیا ہے، جس پر عمران خان نے جج سے درخواست کی کہ مجھے اندر آنے دیا جائے، جب اندر نہیں بلایا گیا تو عمران خان نے کیس کی کارروائی رکوا دی۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان سے ان کے گھرکے افراد سے ملاقاتیں محدود کردی گئی ہیں، ان کو فیملی کے افراد سے ملنے نہیں دیا جارہا، ان کو بچوں سے بات نہیں کروائی جاتی، ان کے ذاتی معالج سے بھی ملنے نہیں دیا جاتا، یہ ٹارچر کے اندر آتا ہے، عمران خان کو صرف ان چیزوں سے تنگ کرتے ہیں جو وہ مانگتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں دھمکیاں دی جاتی ہیں، یہ کہا جاتا ہے کہ آپ عمران خان کے پیغام کو مدھم کردیں، ہم نے ذمہ داری لی ہے کہ جو بات عمران خان نے کی ہے وہ ہم پوری کریں، ہم یہ نہیں کرسکتے ہیں، ہمیں کہا گیا کہ ہم آپ کی اے آئی سے جنریٹ ویڈیوز نکال لیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: جج کے رویے سے لگ رہا ہے عمران خان کو 190 ملین پاؤنڈز کیس میں سزا سنا دی جائے گی، علیمہ خان

’ہم گھر سے نکل کے اس لیے نہیں آئے تھے کہ آپ کا اٹیک دیکھیں، آپ کو اس لیے کہنا پڑتا ہے کہ ہم سیاسی طور پر پارٹی ٹیک اوور کرنے لگے ہیں تاکہ آپ ہمیں گھر کی خواتین کے علاوہ علیحدہ کرکے یہ کہیں کہ ہم آپ پر اٹیک کرلیں گے کیوں کہ آپ اب سیاست میں آچکے ہیں۔‘

’عمران خان رانا ثنااللہ کی تقریر پر ہنسے‘

علیمہ خان نے کہا کہ انہوں نے مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثنااللہ کی پریس کانفرنس کے بارے میں عمران خان کو بتایا تو وہ بہت ہنسے۔ ’میں نے عمران خان کو بتایا کہ لگاتا ہے رانا ثنااللہ کو آپ کی پارٹی چاہیے، کیوں کہ انہوں نے دردناک قسم کی پریس کانفرنس کی ہے جس میں انہوں نے کہا کہ علیمہ خان پارٹی ٹیک اوور کرنا چاہتی ہے، میں نے عمران خان سے کہا کہ آپ اپنی پارٹی انہیں دے دیں کہ لگتا ہے اس وقت انہی کو تکلیف ہے۔

’عمران خان کے ساتھ غداریوں پر نظر رکھیں گے‘

ان کا کہنا تھا کہ ہم عمران خان کی رہائی تک سامنے ہیں، جب تک عمران خان جیل میں ہیں، عمران خان ہی جیل سے پارٹی چلا رہے ہیں، ان کو کسی عہدے کی ضرورت نہیں کیوں کہ عوام ان کے ساتھ ہیں، ہر چیز کا فیصلہ اڈیالہ جیل سے ہوتا ہے اور آگے بھی عمران خان کی مرضی کے ہی فیصلے ہوں گے، ہم سیاست میں نہیں ہیں،ہم گھر سے نکلے ہیں تو کچھ سیکھا ہی ہے لیکن ہم لوگوں سے وعدہ کررہے ہیں کہ عمران خان کی حفاظت کریں گے اور ان کے ساتھ جو غداریاں ہوتی ہیں ان کے اوپر بھی نظر رکھیں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

AI we news اڈیالہ جیل اے آئی تحریک انصاف ڈاکٹر عظمی علیمہ خان عمران خان.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: اڈیالہ جیل اے ا ئی تحریک انصاف ڈاکٹر عظمی علیمہ خان عمران خان کو عمران خان کی کہ عمران خان انہوں نے اے ا ئی جیل سے

پڑھیں:

بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو

چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ایران میں جاری جنگ کے اثرات کے باعث معاشی بحران نے جنم لیا ہے اور موجودہ معاشی چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت صرف پیپلز پارٹی کے پاس ہے، گلگت بلتستان کے عوام 7 جون کو تیر پر مہر لگائیں۔

اسکردو میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے پاکستان کی جانب سے امن کے قیام کے لیے کی جانے والی کوششوں کو قابل فخر قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جنگ بندی کے لیے کی جانے والی کاوشیں کامیاب ہوں گی۔

مزید پڑھیں: کسی پر تنقید کرکے نہیں بلکہ کارکردگی پر ووٹ مانگتا ہوں، نواز شریف کا گلگت میں خطاب

چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہاکہ ان کی جماعت ملک کے پسماندہ اور محروم طبقات کی حقیقی نمائندہ ہے۔ ایسی ترقی اور معاشی پالیسی کا کیا فائدہ جس میں امیر مزید امیر اور غریب مزید مشکلات کا شکار ہو جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام ملک کا واحد ایسا ادارہ ہے جو براہ راست مستحق خاندانوں تک پہنچتا ہے اور اس پروگرام کے خلاف ہونے والی سیاسی سازشیں ناکام ہوں گی۔

بدقسمتی اس ملک کی ہے کہ ہمارے سیاست دان ایسے ہیں کہ جب معاشی حالات خراب ہوتے ہیں تو وہ یہ نہیں سوچتے کہ ہم اپنے امیر دوستوں کی سبسڈی کیسے ختم کریں، وہ یہ نہیں سوچتے کہ کاروباری طبقہ کتنا ٹیکس دے رہا ہے، وہ سیدھا اس پر پہنچتے ہیں کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرو، مگر ہم یہ… pic.twitter.com/ioZikOPLZU

— WE News (@WENewsPk) June 2, 2026

انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض حکمران عناصر اس پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی اسے بچانے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی اور آئندہ بجٹ میں اس کے فنڈز میں اضافے کے لیے وزیراعظم سے بات کی جائے گی۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کی بنیاد شہید ذوالفقار علی بھٹو نے رکھی جبکہ میزائل ٹیکنالوجی کے فروغ میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو کا کردار نمایاں رہا۔

انہوں نے کہا کہ ماضی میں گلگت بلتستان کو شمالی علاقہ جات کہا جاتا تھا لیکن اس خطے کو موجودہ شناخت صدر آصف علی زرداری نے دی۔ ذوالفقار علی بھٹو نے بلتستان کی سرزمین سے پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کا اعلان کیا تھا۔

انہوں نے کہاکہ اگر 18ویں آئینی ترمیم کے تحت صوبوں کو دیے گئے اختیارات گلگت بلتستان کو بھی منتقل کر دیے جائیں تو خطے کے متعدد مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

بلاول بھٹو نے کہاکہ حق حاکمیت کے بعد عوام کو حق ملکیت بھی ملنا چاہیے اور اسلام آباد کو تسلیم کرنا ہوگا کہ گلگت بلتستان کے وسائل پر سب سے پہلا حق مقامی آبادی کا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک اس حقیقت کو تسلیم نہیں کیا جاتا، نہ گلگت بلتستان اور نہ ہی پاکستان حقیقی ترقی کر سکتا ہے۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے سندھ حکومت کی کارکردگی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کو گھر فراہم کیے گئے اور یہی عوامی خدمت پیپلز پارٹی کی سیاست کا بنیادی محور ہے۔

ان کے مطابق پارٹی ہمیشہ عام آدمی، مزدور اور محروم طبقات کے حقوق کی سیاست کرتی آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ صدر آصف علی زرداری نے روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے کو بینظیر کارڈ کے ذریعے عملی شکل دی، جبکہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو دنیا کے کئی ممالک نے قابل تقلید ماڈل قرار دیا۔

بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ مسلم دنیا میں ایٹمی صلاحیت رکھنے والا واحد ملک پاکستان ہے اور اس صلاحیت کا سہرا شہید ذوالفقار علی بھٹو کے سر جاتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ آج بھی گڑھی خدا بخش سے پاکستان کے دفاع کی روایت جڑی ہوئی ہے۔ جنرل مشرف کے دور میں غیر ملکی ممالک کو پاکستان میں اڈے حاصل تھے، تاہم سلالہ واقعے کے بعد صدر آصف علی زرداری نے ان اڈوں کو بند کروا دیا۔

انہوں نے سی پیک کے تحت تھرکول منصوبے کو سب سے کامیاب منصوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہاں 80 فیصد ملازمتیں مقامی افراد کو فراہم کی گئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کی کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا کیے جائیں، جبکہ دیگر سیاسی قوتیں لوگوں کو بے روزگار کرنے کی پالیسی اپناتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت غریب نوجوانوں کو روزگار فراہم کرکے معاشی طور پر مضبوط بنانا چاہتی ہے۔

مزید پڑھیں: کسی بھی نئی آئینی ترمیم میں گلگت بلتستان کے عوامی حقوق کا تحفظ یقینی بنانا چاہیے، بلاول بھٹو

چیئرمین پیپلز پارٹی نے سندھ میں سیلاب کے بعد بحالی کے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے پورا صوبہ پانی میں ڈوب گیا ہو، تاہم حکومت 20 لاکھ متاثرہ گھروں کی تعمیر کر رہی ہے اور اتنے ہی خاندانوں کو مالکانہ حقوق کے ساتھ رہائش فراہم کی جا رہی ہے۔

بلاول بھٹو نے کہاکہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ سڑکوں کی تعمیر سے پہلے متاثرین کو گھر دیے جائیں۔ اس منصوبے کے نتیجے میں قریباً 10 لاکھ افراد کو روزگار ملا۔

انہوں نے گلگت بلتستان کے عوام سے اپیل کی کہ 7 جون کو تیر کے انتخابی نشان پر مہر لگائیں، پیپلز پارٹی یہاں بھی سندھ طرز کے عوامی فلاحی منصوبے متعارف کرائے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews بلاول بھٹو چیئرمین پیپلز پارٹی گلگت بلتستان الیکشن وی نیوز

متعلقہ مضامین

  • خان سر کے کوچنگ سینٹر کے باہر فائرنگ، کوچنگ سینٹر کو دو دن میں اڑانے کی دھمکی دی گئی
  • گلگت میں نئے منصوبوں کی نگرانی خود کروں گا: نواز شریف
  • بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی
  • عمران خان کی اب کوئی مقبولیت نہیں، وہ رہا ہو جائیں تو حقیقت سب کے سامنے آ جائے گی، وزیر صحت پنجاب خواجہ عمران نذیر
  • بانی سے ملاقات تک خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس نہ کیا جائے، علیمہ خان کی سہیل آفریدی کو تنبیہ
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • جو ایم پی اے بانی کی رہائی کے لئے جدوجہد کرے گا وہ پاکستان کا سب سے بڑا ہیرو ہو گا ؛علیمہ خانم
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، یہ عمران خان کی آنکھ میں آنکھ ڈال کر دیکھ بھی نہیں سکتے، علیمہ خان
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا