بالی ووڈ کی سینئر اداکارہ نینا گپتا نے انکشاف کیا ہے کہ جب ان کی بیٹی مسابا پیدا ہوئی تو ان کی آنٹی نے انہیں گھر سے نکال دیا تھا۔

اداکارہ نینا گپتا نے حال ہی میں ایک انٹرویو میں اپنی بیٹی مسابا گپتا کی ولادت کے بعد پیش آنے والے چیلنجز اور مشکلات کو یاد کرتے ہوئے ان کے بارے میں بتایا۔

 انہوں نے بتایا کہ اس وقت وہ اپنی آنٹی کے ساتھ رہ رہی تھیں، لیکن بیٹی کی پیدائش کے بعد ان کی آنٹی نے آدھی رات کو انہیں اور ان کی نومولود بیٹی کو گھر سے نکال دیا تھا اور اس وقت ان کے پاس کوئی جائے پناہ بھی نہیں تھی۔

نینا نے بتایا کہ وہ دہلی سے 1980 کی دہائی کے اوائل میں ممبئی منتقل ہوئیں اور ہمیشہ اپنی رہائش کے لیے فلیٹس خریدنے کو ترجیح دی۔ انہوں نے ایک موقع پر اپنا اپارٹمنٹ فروخت کر کے ایک نئے بلڈر کے پروجیکٹ میں تھری بی ایچ کے فلیٹ بک کرایا تھا، جس کے باعث ان کے پاس باقی رقم ختم ہو چکی تھی۔ جب ان کی آنٹی نے انہیں نکال دیا تو وہ بے گھر ہو گئیں، اور ان کے لیے حالات انتہائی مشکل ہو گئے۔

انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اسی بلڈر سے رابطہ کیا جس کے پروجیکٹ میں انہوں نے سرمایہ کاری کی تھی، اور اپنی صورتحال بیان کرتے ہوئے رقم کی واپسی کی درخواست کی۔ جس پر بلڈر نے فوری طور پر تمام رقم واپس کر دی، جس سے نینا نے آرام نگر میں ایک نیا گھر خرید لیا اور اپنی بچی کے ساتھ وہاں منتقل ہوگئیں۔

یاد رہے کہ نینا گپتا اور لیجنڈری کرکٹر سر ویوین رچرڈز کے درمیان قریبی تعلقات تھے جس کے بعد ان دونوں کی بیٹی مسابا گپتا پیدا ہوئی، جو آج بھارت کی ایک معروف فیشن ڈیزائنر ہیں۔

TagsShowbiz News Urdu.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: پاکستان کھیل نکال دیا انہوں نے

پڑھیں:

کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم

— فائل فوٹو 

سندھ ہائی کورٹ نے کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے لواحقین کے واجبات کی ادائیگی کا حکم دے دیا۔

عدالت کے آئینی بینچ نے کے ڈی اے کے مرحوم افسر کے واجبات کی لواحقین کو عدم ادائیگی کے کیس کی سماعت کی۔

درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ کے ڈی اے نے واجبات تسلیم کرنے کے باوجود ادائیگی نہیں کی۔

عدالت کے استفسار پر کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ کے ڈی اے اب تک 3 لاکھ 50 ہزار روپے ادا کرچکا ہے، ادائیگی میں تاخیر مالی مشکلات کے باعث ہوئی۔

کے ڈی اے کے وکیل نے بتایا کہ سندھ حکومت سے 5 ارب روپے کی گرانٹ طلب کی گئی ہے۔

اصل ملزمان کو بچانے کیلئے اسسٹنٹ ایکسائز افسر کو نامزد کیا گیا، وکیل

کراچی سندھ ہائی کورٹ نے ایکسائز افسر کے خلاف 4 من سے...

جس پر عدالت نے اپنے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ کے مطابق مرحوم افسر کے واجبات ان کی زندگی میں ادا نہیں کیے گئے، درخواست گزار قانونی وارث ہونے کے باعث واجبات کی حق دار ہیں، پینشن اور ریٹائرمنٹ فوائد کسی ادارے کی صوابدید نہیں بلکہ قانونی حق ہے۔

عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ واجبات کی بر وقت ادائیگی ریاستی اداروں کی آئینی ذمے داری ہے، ادارے کی مالی مشکلات ملازمین کو تسلیم شدہ حقوق سے محروم رکھنے کا جواز نہیں بن سکتیں، سرکاری ادارے مالی اور انتظامی امور بہتر انداز میں چلانے کے پابند ہیں، کے ڈی اے درخواست گزار کو واجبات کی مد میں 1 کروڑ 10 لاکھ روپے ادا کرے اور عمل درآمد رپورٹ رجسٹرار سندھ ہائی کورٹ کو پیش کی جائے۔

متعلقہ مضامین

  • بجلی تقسیم کار کمپنیوں کی جانب سے ایک ماہ میں47ارب81کروڑ روپے کی اووربلنگ کا انکشاف
  • میں نے اپنی قبر تیار کروا رکھی ہے، لیجنڈ گلوکار عطا اللہ عیسیٰ خیلوی کا انکشاف
  • طلاق کی افواہیں بے بنیاد؟ شہزادی بیٹریس کی شوہر کے ہمراہ نئی خوشگوار تصویر وائرل
  • عطاء اللّٰہ خان عیسیٰ خیلوی کا اپنی قبر تیار کرنے کا انکشاف
  • کے ڈی اے کو مرحوم افسر کے واجبات لواحقین کو ادا کرنے کا حکم
  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف