ریسکیو آپریشن میں دو ہیلی کاپٹرز نے حصہ لیا۔ مریض کو ابتدائی طبی امداد کے بعد منی مرگ پہنچایا گیا، جہاں مزید طبی استحکام کے اقدامات کیے گئے۔ اسلام ٹائمز۔ پاک فوج نے ضلع استور کے دور افتادہ اور دشوار گزار علاقے میں ایک اور شاندار ریسکیو آپریشن انجام دیا۔ ٹٹوال کے رہائشی شہری بشیر کو شدید تکلیف میں قمری سیکٹر میں قائم فوجی پوسٹ پر پہنچایا گیا۔ پاک فوج کے میڈیکل عملے نے فوری طور پر ابتدائی طبی امداد اور زندگی بچانے والی طبی سہولیات فراہم کیں۔ مریض کی تشویشناک حالت کو مدنظر رکھتے ہوئے اور سخت موسمی حالات کے باوجود پاک فوج نے فوری طور پر ہیلی کاپٹر فراہم کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ ریسکیو آپریشن جلد از جلد ممکن بنایا جا سکے۔ ریسکیو آپریشن میں دو ہیلی کاپٹرز نے حصہ لیا۔ مریض کو ابتدائی طبی امداد کے بعد منی مرگ پہنچایا گیا، جہاں مزید طبی استحکام کے اقدامات کیے گئے۔ بعد ازاں، مریض کو بروقت سی ایم ایچ اسکردو منتقل کیا گیا، جہاں اس کا مکمل علاج جاری ہے۔ علاقے کے عوام نے اس مشکل آپریشن میں شریک پاک فوج کے افسران اور جوانوں کو عوام کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اپنی پیشہ وارانہ مہارت اور انسانی ہمدردی کے تحت ایک قیمتی جان بچائی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ریسکیو آپریشن پاک فوج

پڑھیں:

روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن

روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔

کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔

جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔

متعلقہ مضامین

  • نتیجہ خیز آپریشن شعبان!
  • چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن