استور، پاک فوج نے بیمار شخص کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے ریسکیو کر لیا
اشاعت کی تاریخ: 13th, January 2025 GMT
ریسکیو آپریشن میں دو ہیلی کاپٹرز نے حصہ لیا۔ مریض کو ابتدائی طبی امداد کے بعد منی مرگ پہنچایا گیا، جہاں مزید طبی استحکام کے اقدامات کیے گئے۔ اسلام ٹائمز۔ پاک فوج نے ضلع استور کے دور افتادہ اور دشوار گزار علاقے میں ایک اور شاندار ریسکیو آپریشن انجام دیا۔ ٹٹوال کے رہائشی شہری بشیر کو شدید تکلیف میں قمری سیکٹر میں قائم فوجی پوسٹ پر پہنچایا گیا۔ پاک فوج کے میڈیکل عملے نے فوری طور پر ابتدائی طبی امداد اور زندگی بچانے والی طبی سہولیات فراہم کیں۔ مریض کی تشویشناک حالت کو مدنظر رکھتے ہوئے اور سخت موسمی حالات کے باوجود پاک فوج نے فوری طور پر ہیلی کاپٹر فراہم کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ ریسکیو آپریشن جلد از جلد ممکن بنایا جا سکے۔ ریسکیو آپریشن میں دو ہیلی کاپٹرز نے حصہ لیا۔ مریض کو ابتدائی طبی امداد کے بعد منی مرگ پہنچایا گیا، جہاں مزید طبی استحکام کے اقدامات کیے گئے۔ بعد ازاں، مریض کو بروقت سی ایم ایچ اسکردو منتقل کیا گیا، جہاں اس کا مکمل علاج جاری ہے۔ علاقے کے عوام نے اس مشکل آپریشن میں شریک پاک فوج کے افسران اور جوانوں کو عوام کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے اپنی پیشہ وارانہ مہارت اور انسانی ہمدردی کے تحت ایک قیمتی جان بچائی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ریسکیو آپریشن پاک فوج
پڑھیں:
میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا
ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔
سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار
ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ