اسلام آباد:وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان چینی کرنسی یوان پر مبنی بانڈز جاری کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے، جو ملکی معیشت کے استحکام اور مالی وسائل کے حصول کے لیے ایک اہم قدم ہے۔

انہوں نے کہا کہ جاری مالی سال کے دوران مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.5 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے، جو پچھلے سال کے 2.

5 فیصد سے بہتر کارکردگی ہے۔

بلوم برگ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں وزیر خزانہ نے کہا کہ یوان پر مبنی بانڈز جاری کرنے سے چین کے سرمایہ کاروں سے 200 سے 250 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کرنے کا ہدف ہے، جو آئندہ 6سے 9ماہ میں ممکن ہو سکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ طے شدہ شرائط پر عملدرآمد کے لیے حکومت پرعزم ہے اور اصلاحات کے عمل کو آگے بڑھا رہی ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ گزشتہ 5دہائیوں میں پاکستان نے 25 آئی ایم ایف پروگرامز میں حصہ لیا ہے، اور قرضوں کے اس چکر کو ختم کرنے کے لیے توانائی، ٹیکس وصولی اور ریاستی اداروں میں اصلاحات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پائیدار معاشی ترقی کے لیے برآمدات پر مبنی معیشت کو فروغ دینا ہوگا۔

انہوں نے معیشت کی موجودہ صورتحال کو مستحکم قرار دیتے ہوئے کہا کہ برآمدات، ترسیلات زر اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری آئی ہے۔ تاہم وزیر خزانہ نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کو اپنی معیشت کی بنیادوں کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ اسے پائیدار ترقی کے راستے پر گامزن کیا جا سکے۔ آئی ایم ایف کا وفد بھی آئندہ ماہ پاکستان کا دورہ کرے گا تاکہ اصلاحاتی عمل کا جائزہ لیا جا سکے۔

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: انہوں نے نے کہا کے لیے کہا کہ

پڑھیں:

ملک بھر میں دکانیں، مارکیٹیں اور ریسٹورنٹس جلد بند کرنے کا نیا شیڈول جاری

وفاقی حکومت نے ملک میں ایندھن کی بچت اور کفایت شعاری کے اقدامات کے تحت کاروباری و تجارتی مراکز کے اوقاتِ کار سے متعلق نیا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔ کیبنٹ ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق وزیراعظم کی منظوری سے یہ فیصلہ موسمِ گرما، بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور توانائی کے بہتر استعمال کو مدنظر رکھتے ہوئے نافذ کیا گیا ہے۔

نوٹیفیکیشن کا عکس

نوٹیفکیشن کے مطابق ملک بھر میں تمام دکانیں، مارکیٹس، شاپنگ مالز، جنرل اسٹورز اور کریانہ کی دکانیں رات 9 بجے بند ہوں گی۔ اسی طرح شادی ہالز اور ایونٹس مارکیز کے لیے بندش کا وقت رات 10 بجے مقرر کیا گیا ہے، جبکہ ریسٹورنٹس، کیفے اور دیگر فوڈ آؤٹ لیٹس رات 11 بجے تک کھلے رہ سکیں گے۔ کھانے پینے کے مراکز سے ٹیک اوے اور ہوم ڈلیوری سروسز کو اس پابندی سے استثنیٰ حاصل ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:ایندھن کا بحران: آپ فیول کی بچت کیسے کر سکتے ہیں؟

دوسری جانب ضروری خدمات فراہم کرنے والے اداروں کو ان پابندیوں سے مکمل استثنیٰ دیا گیا ہے، جن میں میڈیکل اسٹورز، فارمیسیز، اسپتال، لیبارٹریز، بیکریاں، تندور، ڈیری شاپس، پیٹرول پمپس، سی این جی اسٹیشنز، جم، اسپورٹس مراکز اور آئی ٹی کمپنیوں سمیت کال سینٹرز شامل ہیں۔

حکومت نے تمام صوبائی و علاقائی انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ نئے اوقاتِ کار پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ توانائی کی بچت اور کفایت شعاری کے اہداف حاصل کیے جا سکیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

ایندھن بچت کاروباری اوقات کفایت شعاری مارکیٹیں

متعلقہ مضامین

  • ملک بھر میں دکانیں، مارکیٹیں اور ریسٹورنٹس جلد بند کرنے کا نیا شیڈول جاری
  • انتقال کی خبریں بے بنیاد،طاہرہ سید نے ویڈیو پیغام جاری کر دیا
  • انسانی اسمگلنگ اور منی لانڈرنگ کے خلاف ٹرمپ کا نیا ایگزیکٹو آرڈر
  • اسحاق ڈار کا کویتی وزیر خارجہ سے رابطہ‘ بیلجیئم میں تعینات پاکستانی سفیر کی ملاقات
  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • پاکستان اور کویت جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کیلئے پرامید
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد