اسلام آباد ( نمائندہ جسارت)قومی اسمبلی میں پاکستان تحریک انصاف کا شدیداحتجاج، نشستوں پر کھڑے ہوکر اووو اووو اور ڈیسک بجاتے رہے، اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کامائیک بندکرنے پر ایوان سے واک آؤٹ کرگئے۔پی ٹی آئی کے رکن اقبال آفریدی نے ایوان میں آکر کورم کی نشاندہی کردی مگرگنتی کرانے پر کورم پورا نکلا۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے الزام لگایاہے کہ ملک سے باہر پی ٹی آئی کے نمائندے غیر ملکی ایجنٹوں سے پیسے لیتے ہیں،وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہاکہ یہ مذاکرات کو ڈسٹرب کر رہے ہیںان لوگوں سے بلیک میل نہ ہوں یہ لوگ مذاکرات کے لیے سنجیدہ نہیں ہیں، ہمارے فوجی بڑی بہادری کے ساتھ ٹی ٹی پی کے ساتھ لڑرہے ہیں۔قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی اسپیکر سید غلام مصطفی شاہ کی زیر
صدارت ہوا۔ اجلاس میںایم کیو ایم پاکستان کے نومنتخب رکن سنجے پروانی نے اسمبلی رکنیت کا حلف اٹھا لیا۔قومی اسمبلی میں اپوزیشن ارکان نے اوووو اووو کر کے احتجاج کیا۔اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ 26 نومبر کو 13 شہری شہید ہوئے26 نومبر کا کمیشن نہایت ضروری ہے جن لوگوں پر ٹارچر ہوا اس کی انکوائری ہونی چاہیے القادر یونیورسٹی بانی پی ٹی آئی نے بنائی، اس پر حکومتی لوگ فیصلہ دے رہے ہیں، ایک شخص نے القادر یونیورسٹی بنائی نمل یونیورسٹی بنائی، ان لوگوں نے صرف ملک لوٹا۔علاوہ ازیں وزارت داخلہ نے گزشتہ 5سال میں بلاک کیے گئے شناختی کارڈز کی تفصیلات قومی اسمبلی میں پیش کردیں۔ قومی اسمبلی اجلاس کے وقفہ سوالات میں وزارت داخلہ کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ گزشتہ 5سال کے دوران کل 71ہزار 849 شناختی کارڈز بلاک کیے گئے۔وزارت داخلہ کے مطابق خیبرپختونخوا میں سب سے زیادہ 25 ہزار 981شناختی کارڈز بلاک کیے گئے، پنجاب میں 13 ہزار سے زاید، سندھ میں 9 ہزار 677 اور بلوچستان میں 20 ہزار 583 شناختی کارڈز بلاک کیے گئے۔ وزارت داخلہ نے مزید بتایا کہ اسلام آباد میں 1370، گلگت بلتستان 228 اور آزاد کشمیر میں 446 شناختی کارڈز بلاک کیے گئے۔ وزارت داخلہ کے مطابق گزشتہ 5سال کے دوران پورے پاکستان میں 44ہزار 460شناختی کارڈز ضروری تصدیق کے بعد ان بلاک کیے گئے ہیں، اور 13ہزار 618بلاک شناختی کارڈز ابھی تک زیر تفتیش ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: شناختی کارڈز بلاک کیے گئے قومی اسمبلی وزارت داخلہ

پڑھیں:

کسی سیاسی جماعت کا نمائندہ نہیں، آئین کے مطابق قومی ذمہ داری نبھاؤں گا: گورنر سندھ نہال ہاشمی

گورنر سندھ نہال ہاشمی نے کہا ہے کہ وہ گورنر کے منصب پر رہتے ہوئے اپنی تمام ذمہ داریاں آئینِ پاکستان کے مطابق ادا کریں گے اور ان کی حیثیت کسی سیاسی جماعت کے نمائندے کی نہیں بلکہ وفاق کی آئینی ذمہ داریاں نبھانے والے عہدیدار کی ہوگی۔

انہوں نے ان خیالات کا اظہار ایڈیٹرز کلب کے ایک وفد سے ملاقات کے دوران کیا۔ ملاقات میں صحافت، تعلیم، گورننس اور سندھ کو درپیش مختلف امور پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

گورنر سندھ نے کہا کہ ان کی اولین ترجیح آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنی قومی ذمہ داریاں ادا کرنا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ گورنر ہاؤس میں بیٹھ کر وہ معاشرے کے تمام طبقات کے لیے یکساں طور پر دستیاب رہیں گے اور کسی بھی فیصلے میں سیاسی یا لسانی وابستگی کو بنیاد نہیں بنایا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ وہ لسانی تعصبات سے بالاتر ہو کر سندھ کے تمام شہریوں کی خدمت پر یقین رکھتے ہیں اور بطور گورنر ان کا کردار صوبے کے مختلف طبقات کے درمیان ہم آہنگی، اعتماد اور باہمی تعاون کو فروغ دینا ہوگا۔

صحافت کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے نہال ہاشمی نے کہا کہ سوشل میڈیا اور ریلز کلچر نے معلومات کی ترسیل کا انداز بدل دیا ہے، تاہم اس تبدیلی کے ساتھ پیشہ ورانہ صحافت کے بنیادی اصولوں کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ سنجیدہ صحافت کی بنیادی ذمہ داری تحقیق، حقائق اور عوامی مفاد کو مقدم رکھنا ہے۔

انہوں نے میڈیا اداروں پر زور دیا کہ وہ اپنی ادارتی پالیسیوں اور ایڈیٹوریل گائیڈ لائنز کو مزید مؤثر بنائیں تاکہ نئے آنے والے رپورٹرز کی بہتر تربیت کی جا سکے۔ ان کے بقول صحافیوں کو یہ سکھانا وقت کی اہم ضرورت ہے کہ وہ متعلقہ، بامقصد اور مؤثر سوالات کریں، کیونکہ معیاری سوال ہی معیاری صحافت کی بنیاد بنتا ہے۔

گورنر سندھ نے تعلیم کے شعبے کو اپنی ترجیحات میں شامل قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ سندھ میں تعلیمی نظام کی بہتری کے لیے ہر ممکن کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ تعلیم کے شعبے میں اصلاحات اور معیار کی بہتری کے لیے متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر کام کیا جائے گا تاکہ نوجوانوں کو بہتر تعلیمی مواقع میسر آ سکیں۔

انہوں نے اپنی طرزِ حکمرانی پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ وہ گورنر ہاؤس ہی میں رہائش پذیر ہیں، اس لیے غیر ضروری پروٹوکول کے قائل نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب سرکاری رہائش گاہ موجود ہے تو غیر ضروری نقل و حرکت اور بڑے پروٹوکول کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ سادگی، کفایت شعاری اور عوامی سہولت کو ترجیح دینا ہی بہتر طرزِ حکمرانی ہے۔

ملاقات کے دوران وفد کے ارکان نے بھی میڈیا کو درپیش چیلنجز، صحافیوں کی پیشہ ورانہ تربیت، تعلیم اور گورننس سے متعلق مختلف امور پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ گورنر سندھ نے اس موقع پر صحافتی برادری کے ساتھ مسلسل رابطے اور تعمیری مکالمے کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

گورنر سندھ نہال ہاشمی

متعلقہ مضامین

  • اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی ڈپٹی سیکرٹری وزارتِ خزانہ عائشہ جاوید کو بین الاقوامی اعزاز پر مبارکباد
  • اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی ڈپٹی سیکرٹری وزارتِ خزانہ عائشہ جاوید کو عالمی اعزاز پر مبارکباد
  • کسی سیاسی جماعت کا نمائندہ نہیں، آئین کے مطابق قومی ذمہ داری نبھاؤں گا: گورنر سندھ نہال ہاشمی
  • وزارتِ خارجہ کی اپوسٹل سروسز کے ٹھیکوں پر سوالات، آڈٹ میں قواعد کی مبینہ خلاف ورزیوں کی نشاندہی
  • ’ابھی ہو گیا، بس‘، سونو نگم نے نیٹ احتجاج پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • بدقسمت خواجہ سرا۔۔۔؟
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر