لاہور(اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔14 جنوری 2025)صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری کا کہنا ہے کہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ موٹرسائیکل کی رفتار60 کلومیٹر سے زیادہ نہیں ہو گی، کمپنیوں کو کہا جائے گا کہ نئی موٹرسائیکل کی رفتار 60 کلومیٹر سے زائد نہ ہو، کابینہ نے ہندو میرج ایکٹ رولز کی منظوری کے علاوہ گاڑیوں کی 6 ماہ میں رجسٹریشن کی منظوری بھی دی گئی ہے،لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیر نے کہا کہ دو سے تین دن میں 28 الیکٹرک بسیں لاہور پہنچ جائیں گی۔

بہت جلد آپ کو پنجاب کی سڑکوں پر الیکٹرک گاڑیاں نظر آئیں گی۔ نوجوانوں کو پنجاب حکومت کاروبار کیلئے قرضے دیگی۔ آسان کاروبار کارڈ سے 3 کروڑ روپے تک بلا سود قرض ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں ترقیاتی کام ہو رہے ہیں ۔

(جاری ہے)

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز پنجاب کی ترقی کیلئے کوشاں ہیں۔پنجاب میں اپنی نوعیت کی پنجاب فنانس کاروبار کی منظوری دے دی گئی ہے۔

ڈبل ڈیکر بسوں کیلئے نئے ڈپوز بنائے جائیں گے۔ ایک لاکھ سٹارٹ اپس کو اس سال شروع کیا جائےگا۔ کاٹن و گنے کی پیداوار کو بھی مانیٹر کیا جائے گا۔ گنے اور کپاس کی فصل بڑھانے کیلئے اقدامات کئے جائیں گے۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراطلاعات عظمیٰ بخاری کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی جانب سے شروع کئے گئے ہونہار پروگرام کی وجہ سے بہت سے لوگوں کی نیندیں اڑ چکی ہیں جبکہ ایک جماعت نے اپنے مقاصد کیلئے نوجوانوں کو انتشار کیلئے استعمال کیا اور نوجوانوں کے ہاتھوں میں لیپ ٹاپ کے بجائے پیٹرول بم تھمائے۔

9 مئی کو انقلاب کے نام پر بغاوت کی گئی۔پی ٹی آئی رہنماءاعجاز چودھری نے کہا تھا کہ ہم نے کچھ نہیں چھوڑا سب کچھ توڑ پھوڑ دیا ہے۔ 9 مئی کے واقعات میں ملوث افراد کو سزا ملے گی۔ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے اپنے اختیارات کا غلط استعمال کیا۔بانی پی ٹی آئی 190 ملین پاﺅنڈ کیس کا سامنا کرنے سے کیوں بچ رہے ہیں ؟ انہیں عدالت میں مقدمات کا سامنا کرنا چاہیے۔بانی پی ٹی آئی کی جب صبح آنکھ ہی نہیں کھلے گی تو اس میں عدالتوں کا کیا قصور ہے۔
.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے پی ٹی آئی

پڑھیں:

ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت

اسلام آباد:

 قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔

ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔

جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔

اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔

سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔

چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔

سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔

اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔

متعلقہ مضامین

  • کشمیر کا وہ گاوٴں جس کے باسی فون چارج کرنے کے لیے 45 کلومیٹر دور جاتے ہیں
  • دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ
  • پنکی ڈرگ والی پر ڈرامہ بنانےکا اعلان کیا گیا، اس موضوع پر فلم بننی چاہیے تھی، عظمیٰ بخاری
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • گلگت بلتستان انتخابات کیلئے سیکیورٹی ہائی الرٹ، 13 ہزار سے زائد اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ
  • نوجوانوں کو آسان اقساط پر الیکٹرک بائیکس اور ٹیکسیاں بلا سود دینے کا فیصلہ
  • تاریخ میں پہلی بار پاکستان کے دو پروجیکٹ اقوام متحدہ کی سطح پر شارٹ لسٹ
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ