جموں و کشمیر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر نے وزیراعلٰی عمر عبداللہ کو کم نظر سیاست دان قرار دیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ جموں و کشمیر میں حزب اختلاف کی سیاسی جماعتوں نے زیڈ موڑ ٹنل کی افتتاحی تقریب میں جموں و کشمیر کے وزیراعلٰی عمر عبداللہ کی تقریر پر انہیں نشانہ بنایا ہے۔ اس ٹنل کا کل بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے افتتاح کیا۔ عمر عبداللہ سے اپوزیشن لیڈر ناراض ہیں کیونکہ انہوں نے اس دوران دفعہ 370 کو ختم کرنے اور اس کی بحالی کا ذکر نہیں کیا۔ ٹنل کے افتتاح کے بعد جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے نریندر مودی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ موسم صاف ہے اور سردی کے باوجود آسمان پر بادل نہیں ہیں۔ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر اور سابق وزیراعلٰی محبوبہ مفتی نے عمر عبداللہ کو کم نظر سیاست دان قرار دیا۔ محبوبہ مفتی نے سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کے دورہ کشمیر کا ایک کلپ شیئر کیا، جس میں انہوں نے جمہوریت، کشمیریت اور انسانیت کے بارے میں بات کی۔

محبوبہ مفتی نے کہا کہ اٹل بہاری واجپائی کے ان تین الفاظ نے مرکزی دھارے کی سیاسی جماعتوں، خاص طور پر پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی، جو اس وقت کانگریس کے ساتھ اتحاد میں تھی، کے درمیان آنجہانی وزیر اعظم کے لئے سیاسی خیر سگالی پیدا کی۔ انہوں نے کہا کہ ایک کم نظر سیاست دان اور ایک سچے سیاستدان کے درمیان فرق واضح ہے، 2003ء میں، اس وقت کے وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی نے اپنے سرینگر کے دورے کے دوران، مفتی سعید کے امن اور احترام کے وژن پر بہت اعتماد ظاہر کیا تھا، حالانکہ اس وقت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے پاس محض 16 ارکان اسمبلی تھے۔ انہوں نے کہا کہ آج ہمارے وزیراعلیٰ نے 50 ایم ایل اے ہونے کے باوجود اگست 2019ء میں دہلی کے یکطرفہ اقدامات کے بعد حالات کو معمول پر لانے کے لئے سب کچھ کیا جس نے جموں و کشمیر کو اس کی خصوصی حیثیت سے محروم کر دیا۔ قابل ذکر ہے کہ نریندر مودی نے زیڈ موڑ ٹنل کا افتتاح کیا جو گاندربل ضلع کے کنگن شہر کو سیاحتی مقام سونمرگ سے جوڑتی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: عمر عبداللہ محبوبہ مفتی انہوں نے کہا کہ

پڑھیں:

سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود

فائل فوٹو

سندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔

دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔

اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔

جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔

حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔

لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔

صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔

صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔

جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • بابوسر ٹاپ 8 جون تک ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • اگر لداخ سیاسی اتحاد قائم کرسکتا ہے تو ہم بھی کرسکتے ہیں، محبوبہ مفتی
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • پنجاب بھر میں دفعہ 144 کے نفاذ میں توسیع
  • شیخ رشید نے راولپنڈی ڈسٹرکٹ بار میں رکنیت بحالی کی درخواست جمع کرا دی
  • سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا