سندھ ہائیکورٹ: ریٹائرڈ ڈاکٹر کی پنشن روکنے کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2025 GMT
کراچی:
سندھ ہائیکورٹ کے آئینی بینچ نے پنشن روکنے کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔
جسٹس کے کے آغا کی سربراہی میں دو رکنی آئینی بینچ کے روبرو ریٹائرمنٹ کے 3 سال بعد پینشن روکنے کیخلاف درخواست کی سماعت ہوئی۔
آئینی بینچ نے ڈاکٹر پریتم داس کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔ درخواست گزار کے وکیل نے موقف اپنایا تھا کہ محکمہ صحت سندھ نے 2021 میں ریٹائرڈ ہونے والے ڈاکٹر پریتم داس کی پینشن 2024 میں روک دی۔
ریٹائرمنٹ کے 3 سال بعد پنشن روکنا غیر قانونی ہے، 2019 میں ہونے والی کرپشن کی انکوائری 2024 میں کیسے ہوسکتی ہے۔ جس دور کی کرپشن کا ذکر ہے اس وقت ڈاکٹر پریتم داس وہاں تعینات ہی نہیں تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
راولپنڈی:ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کی گائنی وارڈ کی نرسری میں زیرِ علاج 23 روزہ نومولود بچی کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا پراسرار طور پر کٹ جانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، جبکہ متاثرہ بچی کے والد نے واقعے پر پولیس کو درخواست دے دی ہے۔
متاثرہ بچی کے والد قیصر محمود نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے رہائشی اور پیشے کے لحاظ سے کارپینٹر ہیں۔ ان کے مطابق ان کی بیٹی کی پیدائش ہولی فیملی ہسپتال میں ہوئی تھی اور پیدائش کے بعد سے بچی کو نرسری میں رکھا گیا ہے۔
والد کا کہنا ہے کہ جب وہ آج اپنی 23 روزہ بیٹی سے ملنے ہسپتال پہنچے تو دیکھا کہ اس کے دائیں ہاتھ کا انگوٹھا کٹا ہوا تھا۔ انہوں نے فوری طور پر ڈاکٹروں سے اس بارے میں استفسار کیا۔
قیصر محمود کے مطابق ڈاکٹرز نے انہیں بتایا کہ انگوٹھا نرس سے غلطی سے کٹ گیا۔ تاہم ان کے بقول ہسپتال انتظامیہ نے صرف انکوائری کی یقین دہانی کرائی نہ واقعے کی وجہ واضح کی گئی اور نہ ہی اب تک کسی ذمہ دار کے خلاف کارروائی کی گئی۔
متاثرہ والد نے انصاف کے لیے پولیس کو درخواست دے دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ درخواست موصول ہونے کے بعد ابتدائی چھان بین مکمل کر لی گئی ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب اس سنگین واقعے پر ہولی فیملی ہسپتال کی انتظامیہ کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔