ٹارگٹ کلنگ، دہشت گردی اور بھتہ خوری پولیس قربانیوں کے باعث کم ہوئی، آئی جی سندھ
اشاعت کی تاریخ: 15th, January 2025 GMT
تقریب سے خطاب میں غلام نبی میمن کا کہنا تھا کہ پولیس کا کردار امن و امان کیلیئے اہم رہا ہے، اب رات گئے شہر میں ٹریفک اور رونق ملے گی، رونق کو دیکھ کر اندازہ لگایا جاسکتا ہے شہر میں امن ہوا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ انسپکٹر جنرل (آئی جی) سندھ پولیس غلام نبی میمن نے کہا ہے کہ ٹارگٹ کلنگ، دہشت گردی اور بھتہ خوری پولیس قربانیوں کے باعث کم ہوئی ہے۔ کراچی میں سندھ پولیس کے 48 افسران اور جوانوں کو پاکستان اور قائداعظم میڈل دینے کی تقریب سے آئی جی سندھ نے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس کے جوانوں کو ایوارڈ دینے کی تقریب ہر سال ہونی چاہیئے، 2014ء سے 2024ء تک روکے ہوئے ایوارڈ آج دیئے جارہے ہیں۔
غلام نبی میمن نے کہا کہ 6 شہید اور 42 پولیس اہلکاروں کو ایوارڈ دیئے جارہے ہیں، پولیس نے سندھ اور کراچی میں بہت قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹارگٹ کلنگ، دہشت گردی اور بھتہ خوری پولیس کی قربانیوں اور محنت سے کم ہوئی، پولیس کا کردار امن و امان کیلیئے اہم رہا ہے۔ آئی جی سندھ پولیس نے کہا کہ اب رات گئے شہر میں ٹریفک اور رونق ملے گی، رونق کو دیکھ کر اندازہ لگایا جاسکتا ہے شہر میں امن ہوا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: نے کہا کہ
پڑھیں:
سندھ کی جیلوں میں گنجائش سے زائد قیدی موجود
فائل فوٹوسندھ کی تمام جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدی ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ صوبائی جیلوں میں 14 ہزار قیدیوں کی گنجائش ہے لیکن 27 ہزار قیدی موجود ہیں۔
دستاویز کے مطابق کراچی کی سینٹرل جیل میں بھی قیدیوں کی تعداد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جہاں گنجائش 2400 قیدیوں کی ہے مگر 8 ہزار قیدی رہ رہے ہیں۔
اسی طرح ملیر جیل کی گنجائش 2200 قیدیوں کی ہے لیکن وہاں ساڑھے 5 ہزار قیدی موجود ہیں۔
جیو نیوز کو حاصل دستاویز کے مطابق صوبہ سندھ میں 23 جیلیں ہیں، جو نہ صرف بھری ہوئی ہیں بلکہ اب اوور پاپولیٹڈ ہوگئی ہیں۔
حیدرآباد سینٹرل جیل میں قیدیوں کی گنجائش ڈیڑھ ہزار کی ہے، جہاں 3 ہزار افراد قید کاٹ رہے ہیں۔
لاڑکانہ سینٹرل جیل ساڑھے 6 سو افراد کے لیے بنائی گئی لیکن یہاں 1 ہزار افراد قید ہیں، ٹھٹھہ کی جیل ڈھائی سو افراد کے لیے ڈیزائن کی گئی لیکن قیدی ساڑھے 9 سو ہیں۔
صوبے میں خواتین کی 3 جیلیں کراچی، حیدرآباد اور سکھر میں قائم ہیں، جہاں موجود خواتین قیدیوں کی تعداد 438 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ان میں سے صرف 68 خواتین سزا یافتہ ہیں۔
صوبے بھر کی جیلوں میں 27 ہزار قیدیوں میں سب سے زیادہ 22 ہزار 600 ایسے قیدی ہیں، جن کے کیسز عدالتوں میں زیر سماعت ہیں جبکہ سزا یافتہ قیدیوں کی تعداد محض ساڑھے 3 ہزار ہے۔
جیلوں میں سزائے موت کے 459 افراد بھی اپنی زندگی کے دن گن رہے ہیں۔