ٹرمپ کی حلف برداری میں شرکت کے ہمارے 20 لوگوں کو دعوت نامے ملے ہیں: سلمان اکرم راجہ
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2025 GMT
پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ— فائل فوٹو
پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے نو منتخب امریکی صدر ٹرمپ کی تقریبِ حلف برداری کے دعوت نامے موصول ہونے سے متعلق آگاہ کیا ہے۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ ٹرمپ کی تقریبِ حلف برداری میں شرکت کے لیے ہمارے 20 لوگوں کو دعوت نامہ آیا ہے۔
پشاور ہائی کورٹ نے پی ٹی آئی کے رہنما سلمان اکرم راجہ کو 3 جنوری تک راہداری ضمانت دے دی۔
صحافیوں نے سوال کیا کہ کیا عمران خان یا پی ٹی آئی کے کسی عہدے دار کے لیے دعوت نامہ آیا ہے؟
پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل نے جواب دیا کہ ہم ٹرمپ کی تقریبِ حلف برداری میں نہیں جا رہے مگر ہمارے لوگ جا رہے ہیں۔
مذاکرات کے حوالے سے سلمان اکرم راجہ کا کہنا ہے کہ ہم نے 2 کمیشن بنانے کا مطالبہ کیا ہے، ہمارے لوگوں کو ضمانت دے کر رہا کیا جائے اور سب قانون کے مطابق ہو، حکومت ایک نوٹیفکیشن سے اس پر عمل درآمد کر سکتی ہے، اگر مذاکرات کامیاب نہیں ہوئے تو پھر آگے دیکھیں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: سلمان اکرم راجہ حلف برداری ٹرمپ کی
پڑھیں:
سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے سرینڈر کا امریکی مطالبہ ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان کر دیا۔ پاسداران انقلاب کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی کہتے ہیں کہ ایرانی فوج کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کیلئے پہلے سے زیادہ تیار ہے، دشمن کو جارحیت پر مختلف نوعیت کی فوجی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑے گا، میدان جنگ اور ہتھیاروں کی اقسام بھی مختلف ہوں گی، جنگ بندی کے دوران ہماری عسکری صلاحیتوں میں اضافہ ہوا۔
خاتم الانبیا سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کے ڈپٹی انسپکٹر بریگیڈیئر جنرل جعفر اسدی کا کہنا ہے کہ امریکا مکمل سرینڈر کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن ایرانی قوم کبھی نہیں جھکے گی، امریکا کے ساتھ دوبارہ جنگ ناگزیر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے ابھی مکمل صلاحیتیں ظاہر نہیں کیں، جنگ میں نیٹو بھی شامل ہوتی ہے تو بھی ہمیں پریشانی نہیں۔