بھارت میں بجلی بل جمع کرانے کا انوکھا طریقہ، الیکٹرک کمپنی ملازمین کے پسینے نکل گئے
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2025 GMT
بھارتی ریاست مہاراشٹرا میں ایک شخص نے ’الیکٹرک‘ کمپنی کو اس وقت انتہائی مشکل میں ڈال دیا جب اس نے بجلی کا بل ادا کرنے کے لیے 40 کلوگرام یعنی ایک ’من‘ سکّوں کا استعمال کیا، سخت سرد موسم میں بھی کمپنی ملازمین سکوں کی گنتی کےدوران پسینے نکل گئے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی ریاست مہاراشٹرا میں اس وقت ایک دلچسپ صورت حال پیدا ہوئی جب ریاست مہاراشٹرا کے واشم علاقے سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے 7 ہزار 160 روپے کا بل ادا کرنے کے لیے 1 اور 2 روپے کے سکوں پر مشتمل ایک من سکّے الیکٹرک کمپنی کے حوالے کر دیا۔
میڈیا کے مطابق ان سکھوں کی گنتی کرنا مہاراشٹرا اسٹیٹ الیکٹریسٹی ڈسٹری بیوشن کمپنی لمیٹڈ کے ملازمین کے لیے بدترین ڈراؤنا خواب ثابت ہوا۔
کمپنی ملازمین کا کہنا تھا کہ مہاراشٹرا کے واشم علاقے میں پیش آنے والے اس غیر معمولی واقعہ میں بجلی صارف نے مہا ویتران پاور ڈسٹری بیوشن کمپنی کو 7،160 روپے بجلی بل ادا کرنا تھا، جس کے لیے انہوں نے ایک روپے اور 2 روپے کے سکوں پر مشتمل 40 کلوگرام سکے پیش کر دیے۔
ملازمین کا کہنا ہے کہ اس کے لیے صارف نے مزید ستم ظریفی یہ کی گئی صارف کے گھر سے کمپنی کے دفتر تک لانے کے لیے 2 پہیوں والی گاڑی پر ایک کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنا پڑا۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ ان سکوں کی گنتی پر 3 ملازمین جن میں پرشانت تھوٹے (کیشئر)، ادھو گجبھر (لائن مین) اور اتل تھر (کنٹریکٹ ورکر) کو معمور کیا گیا جنہیں ان سکوں کی گنتی میں مسلسل تقریباً 5 گھنٹے صرف کرنا پڑے۔
ملازمین کا کہنا ہے کہ یہ عمل انتہائی تھکا دینے والا اور مشکل ترین ثابت ہوا۔ سرد ترین موسم کے باوجود گنتی کرنے والے ملازمین کے چہروں سے پسینہ ٹپک رہا تھا۔
کمپنی کا کہنا ہےکہ چونکہ یہ سکے رائج الوقت تھے اور قانونی طور پر درست تھے اس لیے الیکٹرک کمپنی کے عملے کو صارف کی ادائیگی کے طریقہ کار سے انکار کرنے کا کوئی جواز نہیں تھا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق ایسا ہی ایک واقعہ نومبر 2023 میں کرناٹک کے کولم میں پیش آیا تھا جب کیرالہ اسٹیٹ الیکٹریسٹی بورڈ (کے ایس ای بی) کی جانب سے بجلی کی مسلسل کٹوتی اور ناقص سروس سے مایوس ایک شخص نے اپنا بجلی کا بل سکوں میں ادا کیا تھا۔
اس شخص نے 8 دیگر گھرانوں کے بل بھی سکوں میں جمع کیے اور رقم کے ایس ای بی میں جمع کرائی، جمع کرائی گئی کل رقم تقریباً 10 ہزار روپے تھی جو کہ سبھی سکوں کی صورت میں تھے۔ یہ شخص سی رنجیت بھارتیا جنتا پارٹی کا رکن تھا۔
کیا بجلی کے بل سکوں میں ادا کیے جا سکتے ہیں؟ادھر مہاراشٹرا کے ناگپور ضلع میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ کنزیومر ڈسپیوٹس فورم نے 2021 کے ایک فیصلے میں کہا تھا کہ سکہ ایکٹ 2011 کے مطابق کوئی بھی شخص روزانہ 1000 روپے سے زیادہ مالیت کے سکے جمع نہیں کرا سکتا۔
تاہم فورم نے بعد ازاں اس فیصلے کو کالعدم قراردے دیا تھا کیونکہ ایک شخص نے درخواست دائر کی تھی کہ وہ سکوں کا استعمال کرتے ہوئے تقریباً 36،000 روپے کا بل ادا کرنا چاہتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ادائیگی بجلی بل بھارت پسینہ دلچسپ ریاست سرد سکوں کا استعمال سکے صورت حال عجیب فورم کرناٹک ملازمین مہاراشٹرا.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ادائیگی بجلی بھارت دلچسپ ریاست سکوں کا استعمال سکے صورت حال فورم کرناٹک ملازمین مہاراشٹرا کا کہنا ہے ایک شخص نے کے مطابق کی گنتی سکوں کی کے لیے
پڑھیں:
قاتل وہیل کا انوکھا طرز عمل: دیوہیکل دشمن کی لاش کو زور دار ٹکریں مارنے کی وجہ کیا ہے؟
سائنس دانوں نے پہلی بار قاتل وہیل (اورکا) کے ایک ایسے غیرمعمولی رویے کا مشاہدہ کیا ہے جس میں وہ مردہ سن فش کو زور دار ٹکر مار کر ٹکڑے ٹکڑے کر دیتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: لاکھوں سال پرانا وہیل مچھلیوں کا وسیع و عریض قبرستان دریافت، سائنسدان حیران
اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق محققین بتاتے ہیں کہ یہ عمل یا تو خوراک کو چھوٹے حصوں میں تقسیم کرنے کے لیے کیا جاتا ہے یا پھر ممکن ہے کہ اورکا محض تفریح کے لیے ایسا کرتی ہوں۔
امریکی غیر سرکاری تنظیم ’بینیتھ دی ویوز‘ کی جانب سے جاری کی گئی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک اورکا وہیل سن فش کی دم کو پکڑے ہوئے ہے جبکہ دوسری پوری طاقت کے ساتھ اس پر حملہ کرتی ہے جس کے نتیجے میں مچھلی کے ٹکڑے بکھر جاتے ہیں۔
محقق کیتھرین آئرس کے مطابق یہ سن فش پہلے ہی مردہ تھی اس لیے یہ شکار کرنے کا عمل نہیں تھا۔
Killer whales: orcas blow fish to bits, study finds.
Video from US-based NGO Beneath The Waves shows an orca holding the tail of a sunfish, while another whale charges with full force into the already dead fish, which explodes into pieces – possibly an attempt to turn the fish… pic.twitter.com/ZK4ZUnSzMH
— AFP News Agency (@AFP) July 23, 2026
انہوں نے بتایا کہ ممکن ہے اورکا وہیل مچھلی کو کھانے میں آسانی کے لیے چھوٹے حصوں میں تقسیم کر رہی ہوں تاہم یہ بھی ممکن ہے کہ وہ صرف کھیل رہی ہوں، کیونکہ اورکا وہیل اپنے شکار کے ساتھ کھیلنے کے لیے مشہور ہیں۔
کیتھرین آئرس نے کہا کہ اورکا اکثر اپنے شکار کو ٹکڑوں میں تقسیم کرکے اپنے گروہ کے دیگر ارکان خصوصاً بچوں اور کم عمر وہیلوں کے ساتھ بھی بانٹتی ہیں۔
یہ غیرمعمولی مناظر سال 2024 اور سال 2025 کے دوران خلیج کیلیفورنیا میں دو مختلف مواقع پر ریکارڈ کیے گئے جن کی تفصیلات سائنسی جریدے فرنٹیئرز اِن ایتھولوجی میں شائع ہونے والی تحقیقی رپورٹ میں پیش کی گئی ہیں۔
مزید پڑھیے: جرمنی میں ساحل پر پھنسے ہمپ بیک وہیل کو بچانے کی دوڑ، ریسکیو آپریشن جاری
تنظیم اوشن کیئر کے ڈائریکٹر برائے سائنس مارک پیٹر سیمنڈز نے اس رویے کو انسانوں کی اجتماعی دعوتوں سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ جیسے لوگ کھانے کے دوران سماجی روابط بھی قائم رکھتے ہیں اسی طرح اورکا وہیلوں میں بھی خوراک بانٹنے کا عمل سماجی تعلقات کا حصہ ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ شاید یہ اسی طرح ہو جیسے کسی رسمی دعوت میں میزبان گوشت کاٹ کر دوسروں میں تقسیم کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اورکا وہیل دنیا کے ذہین ترین سمندری شکاریوں میں شمار ہوتی ہیں اور شکار کے لیے نہایت پیچیدہ حکمت عملیاں استعمال کرتی ہیں۔
اس سے قبل بھی انہیں برف کے بڑے ٹکڑوں پر موجود سیل مچھلیوں کو گرانے کے لیے اجتماعی طور پر لہریں پیدا کرتے دیکھا جا چکا ہے تاکہ انہیں آسانی سے شکار کیا جا سکے۔
تحقیقی رپورٹس میں یہ بھی سامنے آ چکا ہے کہ بعض اورکا وہیل مردہ سالمن مچھلیوں کو اپنے سروں پر رکھتی ہیں تاہم اس عجیب رویے کی وجہ اب تک معلوم نہیں ہو سکی۔
مزید پڑھیں: ممبئی ساحل پر پھنسا 26 فٹ لمبا وہیل کا بچہ ریسکیو کے باوجود دم توڑ گیا
گزشتہ سال شائع ہونے والی ایک اور تحقیق کے مطابق سیلش سی میں رہنے والی شدید خطرے سے دوچار اورکا وہیلوں کو سمندری گھاس کے ٹکڑے توڑ کر ایک دوسرے کی صفائی اور جسم رگڑنے کے لیے بطور آلے استعمال کرتے بھی دیکھا گیا تھا۔
ویسٹرن آسٹریلیا کی کرٹن یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والی سائنس دان ریبی کا ویلارڈ جو اس تحقیق کا حصہ نہیں تھیں نے کہا کہ یہ مشاہدہ ایک بار پھر ثابت کرتا ہے کہ اورکا وہیل انتہائی ذہین مخلوق ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امید ہے اس طرح کی تحقیقات لوگوں میں ان طاقتور سمندری شکاریوں کے لیے مزید احترام پیدا کریں گی۔
تحقیق کے مطابق سن فش دنیا کی سب سے بڑی ہڈی والی مچھلیوں میں شمار ہوتی ہے جس کا وزن 2 ہزار کلوگرام تک ہو سکتا ہے۔ اس کا چپٹا جسم اور منفرد ساخت اسے دیگر مچھلیوں سے ممتاز بناتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستانی سمندر میں وہیل اور ڈولفن کی 27 اقسام کی موجودگی خوش آئند ہے، وفاقی وزیر بحری امور
ماہرین نے واضح کیا کہ سن فش عام طور پر اس طرح ٹکڑوں میں نہیں بکھرتی جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اورکا وہیل کی ٹکر غیرمعمولی طور پر طاقتور تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اورکا وہیل دلچسپ تحقیق سن فش قاتل وہیل کلر وہیل وہیل پر تحقیق وہیل کی سن فش کو ٹکر