ہماری حکومت تمام خطوں کیساتھ یکساں سلوک روا رکھے گی، ڈاکٹر فاروق عبداللہ
اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2025 GMT
نیشنل کانفرنس کے صدر نے کہا کہ جموں کو اقتصادی بدحالی سے نکالنے کیساتھ ساتھ خطہ پیرپنچال اور خطہ چناب کی تعمیر و ترقی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ اسلام ٹائمز۔ جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ وقت نے ثابت کردیا کہ عوامی نمائندہ سرکار کا کوئی متبادل نہیں ہوسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لوگوں کی خود کی سرکار میں عوام کے ہی نمائدے ہوتے ہیں جو اپنے اپنے حلقہ انتخابات کے مسائل، مشکلات اور مطالبات سے حقیقی طور پر باخبر ہونے کیساتھ ساتھ عوامی کے لئے ہر وقت دستیاب ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس کے برعکس 2018ء کے بعد یہاں کے عوام کو گورنر راج کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا تھا، عوام کی کہیں نمائندگی نہ تھی اور نہ ہی سرکاری سطح پر عوام کیلئے دستیاب ہوتا تھا، تاناشاہی اور لال فیتہ شاہی کا دور دورہ تھا اور عوام مشکلات اور مصائب کی چکی میں پس رہے تھے۔ ان باتوں کا اظہار موصوف نے صوبہ جموں کے رام نگر، بھدروار، کشتواڑ، ڈوڈہ، پونچھ اور راجوری سے آئے ہوئے عوامی وفود، پارٹی لیڈران اور کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
وفود نے ڈاکٹر فاروق عبداللہ کو اپنے اپنے علاقوں کے مسائل و مشکلات سے آگاہ کیا، جو انہوں نے موقعے پر ہی متعلقہ حکام کیساتھ اُٹھا کران کا سدباب کرانے کی تاکید کی۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے وفود سے کہا کہ آپ کی عوامی نمائندہ سرکاری عوام کی خدمت کرنے کی پابند ہے کیونکہ عوامی حمایت کی بنا پر نیشنل کانفرنس کی حکومت معرض وجود آئی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس وقت دن رات عوامی فلاح کے کاموں میں مصروف ہے اور اُمید ہے کہ ریاستی درجے کی بحالی کے بعد حکومت زیادہ موثر طریقے سے عوام کو راحت پہنچا سکتی ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ نیشنل کانفرنس کی حکومت تمام خطوں کیساتھ یکساں سلوک روا رکھے گی اور تمام خطوں کی تعمیر و ترقی کے کام مساوی بنیادوں پر ہوں گے۔ ہم نے عوام کو راحت پہنچانے کا وعدہ کیاہے اور ہماری حکومت اس سمت میں کام پر لگی ہوئی ہے۔
نیشنل کانفرنس کے صدر نے کہا کہ جموں کو اقتصادی بدحالی سے نکالنے کیساتھ ساتھ خطہ پیرپنچال اور خطہ چناب کی تعمیر و ترقی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے اور انشاء اللہ جو الیکشن منشور ہم نے عوام کے سامنے انتخابات سے پہلے رکھا تھا اُس میں کئے گئے تمام وعدوں کو پورا کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا منشور اگلے 5 سال کیلئے ایک منظم لائحہ عمل ہے اور اس کی ایک ایک شق کو پورا کیا جائے۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے پارٹی سے وابستہ افراد پر زور دیا کہ وہ پارٹی کی مضبوطی کیلئے کام کریں، پارٹی کی مضبوطی کی صورت میں ہی حکومت بھی مضبوط ہوتی ہے۔ انہوں نے پارٹی لیڈران، عہدیداران اور کارکنوں کو ہمیشہ عوام کیلئے دستیاب رہنے کی ہدایت کی اور مکمل تال میل بنانے رکھنے کی تاکید کی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: نیشنل کانفرنس نے کہا کہ انہوں نے عوام کی ہے اور
پڑھیں:
کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
کراچی میں ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا۔
میئر کراچی نے وفاقی وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس سے پلاٹ نمبر 39-G-4 کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے کہا ہے کہ 1959 کے اصل منظور شدہ پی ای سی ایچ ایس ماسٹر پلان میں پلاٹ نمبر 39-G-4 موجود نہیں تھا۔
مرتضیٰ وہاب کے مطابق ابتدائی جانچ میں متنازع مقام پر پانچ سو گز کا پلاٹ اصل منظور شدہ لے آؤٹ میں ظاہر نہیں ہوتا، جبکہ اصل ماسٹر پلان کے مطابق مذکورہ مقام پر صرف تقریباً دو سو گز بقایا اراضی بنتی ہے۔
یئر کراچی نے سوال اٹھایا کہ پانچ سو گز کا پلاٹ کس قانونی بنیاد پر ظاہر کیا گیا، متعلقہ حکام اس کی وضاحت فراہم کریں۔
خط میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پلاٹ کے تمام ٹائٹل دستاویزات، الاٹمنٹ آرڈرز، لیز، میوٹیشن ریکارڈ، اصل اور نظرثانی شدہ لے آؤٹ پلانز سمیت تمام تبدیلیوں کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی نے پلاٹ کی ملکیت، الاٹمنٹ ہسٹری، سروے تفصیلات، حدبندی کارروائی، ریگولرائزیشن، تبادلے، انضمام، سب ڈویژن یا ریکنسٹیٹیوشن سے متعلق تمام ریکارڈ بھی طلب کیا ہے۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ہل پارک سے متصل اراضی عوامی زمین میں شامل تھی یا نہیں، اس کی وضاحت بھی کی جائے، جبکہ ہل پارک، اوپن اسپیس، امنیٹی یا سرکاری زمین پر تجاوزات سے متعلق تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔
میئر کراچی کا کہنا ہے کہ عوامی مفاد اور بلدیاتی اثاثوں کے تحفظ کے لیے متنازع پلاٹ کی جامع تحقیقات ضروری ہیں اور ہل پارک سے متصل زمین کے تمام قانونی اور ملکیتی ریکارڈ کی فوری تصدیق کی جانی چاہیے۔
مرتضیٰ وہاب نے مطالبہ کیا کہ متنازع پلاٹ سے متعلق تمام حقائق اور دستاویزی شواہد فوری فراہم کیے جائیں، جبکہ کے ایم سی بلدیاتی اثاثوں اور عوامی سہولتوں کے تحفظ کے لیے قانون کے مطابق کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔