میئر کراچی کی گھن گرج!
اشاعت کی تاریخ: 17th, September 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی آج جس صورتحال سے دوچار ہے وہ کسی سے مخفی نہیں، ملک کے اقتصادی پہیے کو رواں دواں رکھنے والے اس شہر کے مسائل و مشکلات کو مسلسل نظر انداز کرنے کے نتیجے میں روشنیوں کا شہر کھنڈرات کا منظر پیش کر رہا ہے۔ انفرا اسٹرکچر کی تباہی، ٹرانسپورٹ کے نظام کی زبوں حالی و بربادی، سڑکوں کی خستہ حالی، واٹر ٹینکرز اور ڈمپرز سے شہریوں کی ہلاکتوں کے بڑھتے ہوئے واقعات، سیوریج کے نظام کی خرابی، کچرا کنڈیوں سے اٹھتے ہوئے تعفن کے بھبکے، بے ہنگم ٹریفک، پانی کا مصنوعی بحران، جابجا کھلے مین ہول، اربن فلڈنگ، سیوریج لائن کا پانی کی لائنوں سے ملاپ، برساتی نالوں کی عدم صفائی، تجاوزات کی بھرمار، فٹ پاتھوں پر پتھارے داروں کا قبضہ اور صفائی ستھرائی کی مخدوش صورتحال شہر کے اختیارات پر قابض میئر کراچی کی اعلیٰ کارکردگی کا مظہر ہیں، یہ اعلیٰ کارکردگی اس وقت اور مزید نمایاں ہوجاتی ہے جب شہر میں بارش کی چند بوندیں برس جائیں۔ قومی خزانے سے شہر میں جہاں جہاں تعمیر و ترقی کے کام ہورہے ہیں اس کا حال بھی یہ ہے وہ بارش کے ایک ہی ریلے میں بہہ گئے ہیں جس کی واضح مثال شاہراہ بھٹو اور نئی حب کینال ہے۔ ایک ہفتہ گزرنے کے باوجود آج بھی شہر کی مختلف سڑکوں پر بارش کا پانی جمع ہے۔ شہر کی اس ناگفتہ بہ صورتحال پر جماعت ِ اسلامی طویل عرصے سے آواز اٹھا رہی ہے، حالیہ بارشوں کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر بھی جماعت اسلامی نے بھر پور آواز بلند کی اور مطالبہ کیا کہ وفاقی حکومت کراچی کو ہنگامی طور 500 ارب روپے اور صوبائی حکومت ہر ٹائون کو 2 ارب روپے ترقیاتی فنڈز دے۔ واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن اور سالڈ ویسٹ کے اختیارات ٹائون کو منتقل کیے جائیں۔ جماعت ِ اسلامی کے ان مطالبات اور تنقید پر غور کرنے کے بجائے میئر کراچی مرتضیٰ وہاب سیخ پا ہیں کہتے ہیں کہ شہر میں سیوریج کے نظام کی خرابی کی ذمے دار جماعت اسلامی ہے، ان کا کہنا ہے کہ جماعت اسلامی نے 2003 میں شہر کا ماسٹر پلان ادھیڑ کر رکھ دیا تھا، شہر کی پوری سڑکوں کو کمرشل کرنے کی اجازت جماعت اسلامی نے دی تھی، اب اس شہر میں منافقت نہیں چلنے دوں گا اور ان کو سخت الفاظ میں جواب دوں گا۔ لیجیے بات ہی ختم۔ کسی بھی سطح پر اقتدار کے منصب پر فائز افراد کا یہی وہ طرز عمل ہے جس نے تعمیر و ترقی کی راہوں کو مسدود کردیا ہے، خیر سگالی پر مبنی تنقید پر مثبت طرز عمل کو بالائے طاق رکھ کر جب اسے انا کا مسئلہ بنادیا جائے تو اسی طرح منافقت کے الزامات عاید کیے جاتے ہیں اور ترکی بہ ترکی جواب دینے جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ بلاشبہ اس امر کی حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ بارشوں سے اتنی تباہی نہیں ہوئی جتنی بدانتظامی، نااہلی اور بدعنوانی سے ہوئی ہے، کراچی کے عوام نے بلدیاتی انتخابات میں اپنا میڈیٹ جماعت ِ اسلامی کے حوالے کیا تھا مگر اس میڈیٹ پر ڈاکا ڈالا گیا اس ڈاکے کا لازمی نتیجہ وہی نکلنا تھا جو سامنے ہے۔ میئر کراچی کو آپے سے باہر ہونے اور الزامات عاید کرنے کے بجائے شہر کو درپیش مسائل و مشکلات کے حل کے لیے اپنی توانیاں صرف کرنی چاہییں۔ کراچی مسائل کی آماج گاہ بنا ہوا ہے، کراچی کے شہری روز جن مسائل کا سامنا کرتے ہیں اور شہر عملاً جس صورتحال سے دوچار ہے اس پر لفظوں کی گھن گرج اور منافقت کے الزامات سے پردہ نہیں ڈلا جا سکتا۔ شہر کے حقیقی مسائل کو نظر انداز کر کے محض بلند و بانگ دعوؤں سے کراچی کی تعمیر و ترقی ممکن نہیں عمل کے میزان میں دعوؤں کا کوئی وزن نہیں ہوتا، عوام اپنے مسائل کا حل چاہتے اور بحیثیت میئر انہیں اس پر توجہ دینی چاہیے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی میئر کراچی
پڑھیں:
کراچی کی سڑکوں پر دلچسپ تبصرہ، شرمیلا فاروقی اور وسیم بادامی کے درمیان ہلکا پھلکا مکالمہ
کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن )کراچی کی سڑکوں کی صورتحال پر ایک پروگرام کے دوران دلچسپ گفتگو دیکھنے میں آئی، جہاں میزبان وسیم بادامی، رکن قومی اسمبلی شرمیلا فاروقی اور بیرسٹر دانیال چوہدری نے سڑکوں کی حالت پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
وسیم بادامی نے بیرسٹر دانیال چوہدری سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا، "شکر ہے کہ آپ کی گاڑی ہلی ہے تو دل کو تسلی پہنچی ہے کہ آپ گاڑی میں بیٹھے ہوئے موبائل پر ہی پروگرام میں شریک ہیں۔"
اس پر شرمیلا فاروقی نے جواب دیتے ہوئے کہا "بادامی صاحب! اگلا پروگرام میں اپنی گاڑی سے کروں گی اور آپ کے اسٹوڈیو تک گاڑی میں سفر کروں گی، پھر آپ دیکھیں گے کہ اس میں کتنے جمپ آتے ہیں۔"
بار ایسوسی ایشنز اور بار کونسلز کی ہڑتال کی کالیں غیر قانونی قرار
شرمیلا فاروقی کی اس بات پر وسیم بادامی نے مسکراتے ہوئے کہا "یہ نہیں ہو پائے گا، شرمیلا! میں بھائیوں والا مشورہ دے رہا ہوں، یہ نہیں ہو پائے گا۔" انہوں نے مزید کہا کہ "شفیع جان ہمارے دفتر آ چکے ہیں اور ان کی آنکھیں پھٹی ہوئی تھیں۔ وہ مجھے کہنے لگے کہ وسیم بھائی! آپ روزانہ ادھر آتے ہو۔ شرمیلا آپ کا فون تو کوئی نہیں چھینے گا کیونکہ آپ کے ساتھ گارڈز ہوں گے، لیکن گاڑی اتنی ہلے گی کہ آپ موبائل پر پروگرام میں شرکت نہیں کر سکیں گی۔"
گفتگو میں شامل ہوتے ہوئے بیرسٹر دانیال چوہدری نے کہا، "شرمیلا میری بہن ہیں، میں ان کی بات سے اتفاق کرتا ہوں، لیکن کراچی سے جتنے بھی اراکین اسمبلی آتے ہیں وہ اپنے ساتھ کمر کے پیچھے رکھنے والے کُشن بھی لاتے ہیں۔"
سمرکیمپ سے متعلق احکامات پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا، وزیر تعلیم پنجاب
انہوں نے مزید کہا "میں اس وقت اسلام آباد میں نہیں بلکہ راولپنڈی کی اندرونِ شہر سڑکوں پر ہوں، لیکن اگر کراچی کے اندرونی علاقوں میں جائیں تو شاید گاڑی کے آدھے ٹائر ہی واپس آئیں۔"
لائیو پروگرام میں دانیال چوہدری اپنی گاڑی میں سفر کرتے شامل ہوۓ تو وسیم بادامی نے پوچھ لیا اتنی دیر سے سفر کر رہے ہیں میں نے کوئی جھٹکا یا آپ کو ہلتے نہیں دیکھا پنجاب کی سڑک میں کوئی گڑھا وغیرہ نہیں ہوتا پھر جو کچھ باتیں ہوئیں آپ نے شرمیلہ کی شرم اور فاروقی الگ الگ دیکھنی ہے۔۔۔۔ pic.twitter.com/ozcP0ATAQv
— Zafar Shirazi ???????? (@ZafarShirazi7) June 2, 2026مزید :