عمران خان ایک نظریہ اور تحریک، وہ جیل میں بیٹھا ہوا بھی آپ پر بھاری ہے، فیصل چوہدری
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2025 GMT
پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی ) کے بانی چیئرمین عمران خان کے وکیل فیصل چوہدری نے کہا ہے کہ عمران خان ایک نظریہ اور تحریک کا نام ہے، وہ جیل میں بیٹھا ہوا بھی آپ پر بھاری ہے۔
جمعہ کو عمران کو احتساب عدالت کی جانب سے 190 ملین پاؤنڈز میں 14 سال قید اور جرمانے کی سزا سنائے جانے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے فیصل چوہدری نے کہا کہ عمران خان جیل میں بیٹھا تم پربھاری ہے، عمران ایک نظریہ اور تحریک کا نام ہے، اس تحریک کو پی ٹی آئی کا ہر ورکر اپنے خون سے سینچے گا۔
فیصل چوہدری نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کی تصاویر اٹھا کر احتجاج کرتے ہوئے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ ہمیں پتا ہے کہ یہ لکھے لکھائے فیصلے کہاں سے آتے ہیں، یہ فیصلہ کسی اور جگہ سے آتے ہیں، یہ واٹس ایپ پر آتے ہیں یہ لکھے نہیں جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مجھے یہ کہنے میں کوئی عار نہیں ہے کہ جب یہ فیصلہ عوام میں آئے گا تو یہ ایک شرمناک فیصلہ ہو گا، یہ مذائقہ خیز فیصلہ ہو گا، عمران خان دنیا بھرمیں بسنے والے پاکستانیوں کے دلوں کی دھڑکن ہے۔
فیصل چوہدری نے کہا کہ 8 فروری کو یہ ثابت ہو چکا ہے کہ ہم نے بانی پی ٹی آئی کے جیل میں ہوتے ہوئے بھی آمریت، فسطائیت اور ظلم و جبر کو شکست دی ہے۔ عمران خان ایک نظریہ اور تحریک ہے اور پی ٹی آئی کے کارکن اس تحریک کو اپنے خون سے سینچیں گے۔ق
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
احتساب عدالت آمریت پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی جرمانہ جیل سزا ظلم و جبر عار عمران خان فسطائیت فیصل چوہدری قید.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: احتساب عدالت ا مریت پاکستان تحریک انصاف پی ٹی ا ئی جیل فسطائیت فیصل چوہدری فیصل چوہدری نے پی ٹی ا ئی جیل میں کہا کہ نے کہا
پڑھیں:
20 سال تک بیوی سے بات نہ کرنے والا شوہر، وجہ آپ کو حیران کر دے گی
جاپان (Japan)میں ایک شوہر نے 20 سال تک اپنی بیوی سے بات نہیں کی۔
جاپان سے تعلق رکھنے والے ایک جوڑے کی کہانی نے دنیا بھر کی توجہ اپنی جانب سمیٹ لی ہے۔
میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا کہ جاپان کے جزیرے ہوکائڈوسے تعلق رکھنے والے ایک 18 سالہ نوجوان نے ایک ٹیلی ویژن شو میں ایک غیر معمولی درخواست کی تھی اور ایک ایسے خاندانی مسئلے کے حل کے لیے مدد مانگی جو برسوں پرانا تھا۔
نوجوان میں بتایا کہ اس کے والدین تقریباً 20 سال تک ایک ساتھ رہے لیکن اس نے کبھی اپنے والدین کو آپس میں باقاعدہ گفتگو کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق 2 دہائیوں تک شوہر اوکو کاتایاما اور ان کی اہلیہ یومی ایک ہی گھر میں رہے، تین بچوں کی پرورش کی اور ایک ساتھ کھانا کھایا لیکن اس کے باوجود ان کے درمیان شاذ و نادر ہی کوئی بامعنی بات چیت ہوئی۔
مزیدپڑھیں:تاریخی لارڈز کرکٹ گراؤنڈ سے ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے فائنل کی میزبانی واپس لے لی گئی
اس خاموشی کی وجہ کوئی تلخ جھگڑا یا بے وفائی نہیں تھی بلکہ شوہر اوکو کاتایاما نے اپنی اہلیہ سے بات کرنا اس لیے چھوڑ دیا تھا کیونکہ وہ بیوی کی بچوں پر زیادہ توجہ پر حسد محسوس کرتا تھا۔
میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا کہ جب بیوی بات کرنے کی کوشش کرتی تو اوکو کاتا یاما عام طور پر صرف سر ہلا کر یا کوئی بے ساختہ جواب دیتا۔
اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے جوڑے کے سب سے چھوٹے بیٹے نے ایک ٹیلی ویژن پروگرام کے دوران اپنے والدین کے درمیان صلح کروانے میں مدد کی درخواست کی، جس کے بعد شو کی انتظامیہ نے جوڑے کی ملاقات کا انتظام اسی پارک میں کیا جہاں ماضی میں پہلی بار ملے تھے، جبکہ ان کے تینوں بچے کچھ فاصلے سے یہ منظر دیکھ رہے تھے۔
ملاقات کے دوران شوہر نے خاموشی توڑتے ہوئے اپنی اہلیہ سے کہا کہ “ہماری بات چیت ہوئے خاصا عرصہ گزر چکا ہے، تم بچوں کے معاملے میں بہت فکرمند رہتی تھیں، اب تک تم نے بہت مشکلات برداشت کی ہیں اور میں ہر اس چیز کے لیے شکر گزار ہوں”۔