ضلع خیبر ؛ سکیورٹی فورسز کا آپریشن، 5 خارجی دہشتگرد جہنم واصل
اشاعت کی تاریخ: 17th, January 2025 GMT
سٹی 42 : ضلع خیبر کےعلاقے تیراہ میں سکیورٹی فورسز نے کارروائی کرتے ہوئے خارجی رنگ لیڈر سمیت 5 خارجی دہشتگرد ہلاک کردیے ۔
ضلع خیبر میں سکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا، جس دوران سیکیورٹی فورسز نے خوارج کو موثر طریقے سے نشانہ بنایا، فائرنگ سے خارجی رنگ لیڈر عبداللہ عرف تراب سمیت 5 خواج ہلاک کردیے ۔ ہلاک دہشت گردی کی متعدد کارروائیوں میں ملوث تھے، جن سے اسلحہ و ایمونیشن بھی برآمد ہوئی۔
مریم نواز نے اوکاڑہ میں میڈیکل کالج، گرلز ہاسٹل اور انڈر پاس بنانے کااعلان کردیا
علاقے میں سینٹائزیشن آپریشن بھی کیا گیا، سکیورٹی فورسز دہشت گردی کے خاتمے کے لئے پرعزم ہیں ۔
سورس : آئی ایس پی آر
وزیراعظم شہباز شریف کا سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے ضلع خیبر میں فتنتہ الخوارج کے دہشت گردوں کے خلاف کامیاب کارروائی پر سکیورٹی فورسز کی ستائش کی گئی ہے۔ وزیراعظم نے 5 خوارجی دہشت گردوں کو ہلاک کرنے پر سیکیورٹی فورسز کو خراج تحسین پیش کیا۔
خرچہ نہ دینے پر بیوی نے بیٹے سے مل کر شوہر کو قتل کردیا
شہباز شریف نے کہا کہ دہشت گردوں کے خلاف جاری جنگ میں پوری قوم سیکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑی ہے ، ملک سے ہر قسم کی دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لئے پر عزم ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
کلیدی لفظ: سکیورٹی فورسز
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔