غیر قانونی طور پر بیرون ملک جانے اور زندگی کو خطرے میں ڈالنے کے خلاف فتویٰ جاری
اشاعت کی تاریخ: 18th, January 2025 GMT
لاہور کے مشہور ادارے جامعہ نعیمیہ نے بیرون ملک سفر کے لیے غیر قانونی طریقوں کے استعمال کی مذمت کا فتویٰ جاری کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:یورپ جانے کا جنون، بحیرہ روم میں ایک اور کشتی الٹنے سے 44 پاکستانیوں سمیت 50 افراد ہلاک
ڈاکٹر مفتی راغب حسین نعیمی اور مفتی عمران حنفی کی جانب سے مشترکہ طور پر جاری ہونے والے فتوے میں کہا گیا ہے کہ اس طرح کا عمل نہ صرف غیر قانونی ہے بلکہ اسلامی تعلیمات کے بھی خلاف ہیں۔
فتوے میں زور دیا گیا ہے کہ کوئی بھی ایسا اقدام کرنا جس سے کسی کی جان کو خطرہ ہو، بشمول خودکشی، شریعت میں سختی سے ممنوع ہے۔
معتبر علما کے فتوے کے مطابق اسلام اپنی زندگی کو ختم کرنے یا ایسے کاموں میں ملوث ہونے کی اجازت نہیں دیتا جس سے موت واقع ہو، خواہ حالات کچھ بھی ہوں۔
انہوں ایسے افراد کو مشورہ دیا ہے کہ وہ بین الاقوامی سطح پر سفر کرنے کے لیے قانونی اور محفوظ ذرائع کو ترجیح دیں۔
یہ بھی پڑھیں:یونان میں پاکستانیوں سے بھری کشتی الٹ گئی، 5 افراد جاں بحق، متعدد لاپتا
جامعہ نعیمیہ کے فتوے میں غیر قانونی سفر کی سہولت فراہم کرنے کے لیے ایجنٹوں کی جانب سے رقم وصول کرنے کو ناجائز قرار دیا گیا ہے۔
انہوں نےحکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان لوگوں کے خلاف سخت اقدامات کرے جو غیر قانونی طریقوں کے ذریعے معصوم شہریوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال کر ان کا استحصال کرتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
جامعیہ نعیمیہ لاہور ڈاکٹر مفتی راغب حسین نعیمی ڈنکی غیرقانونی فتویٰ مفتی عمران حنفی.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے جرائم میں ملوث افراد کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیےفاسٹ ٹریک عدالتیںقائم کی جائیں گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ طلبہ کے مستقبل سے کھیلنے والوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے بیان میں وزیراعظم مودی نے کہا کہ نوجوانوں کا مستقبل حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امتحانی نظام میں بدعنوانی یا پرچے لیک کرنے جیسے جرائم میں ملوث عناصر کو سخت اور فوری سزا دی جائے گی۔
یہ امتحانی پرچوں کے لیک ہونے کے معاملے پر وزیراعظم مودی کا پہلا عوامی بیان ہے۔ تاہم ان کے ردعمل کے بعد بھی ملک بھر میں جاری طلبہ احتجاج میں کمی نہیں آئی۔ متعدد طلبہ اور سماجی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت نے اس حساس معاملے پر ردعمل دینے میں اتنی تاخیر کیوں کی۔
دوسری جانب لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے وزیراعظم کے بیان کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے حکومت پر تعلیمی نظام کو کمزور کرنے کا الزام عائد کیا۔
راہل گاندھی نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں لکھا کہ نوجوانوں کے مستقبل کو سب سے زیادہ نقصان موجودہ حکومت نے پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے نہ صرف تعلیمی نظام کو تباہ ہونے دیا بلکہ ذمہ دار افراد کو بھی تحفظ فراہم کیا۔
انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے تین بنیادی مطالبات ہیں، جن میں وزیر تعلیم دھرمندر پردھان کو عہدے سے ہٹانا، طلبہ سے باضابطہ معافی مانگنا اور احتجاج کے دوران طلبہ پر مبینہ تشدد میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
واضح رہے کہ ملک میں تعلیمی اصلاحات اور امتحانی نظام میں شفافیت کے مطالبات کے حوالے سے احتجاجی تحریک جاری ہے۔ حالیہ دنوں میں طلبہ اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے بعد یہ معاملہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے، جبکہ امتحانی پرچے لیک ہونے کے واقعات نے بھارت کے تعلیمی نظام پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔