سیاسی جماعتوں میں ثالثی کیلئے کردار ادا کرنے کو تیار ہوں، شاہد خاقان
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2025 GMT
ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سربراہ عوام پاکستان پارٹی کا کہنا تھا کہ ملک کا نظام آئین کے مطابق ہونا چاہیے، سیاسی جماعتیں مسائل کےحل کیلئے پارلیمان میں بات کریں، ملک میں آئین کی بالادستی ہونی چاہیے۔ اسلام ٹائمز۔ سربراہ عوام پاکستان پارٹی شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ مجھے سیاسی جماعتوں میں کوئی ثالثی کا کہے گا تو کردار ادا کروں گا۔ ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی کا کہنا تھا کہ کل محمود اچکزئی دعوت دینے آئے تھے، انہوں نے تحریک تحفظ آئین پاکستان میں شمولیت کی دعوت دی، میں نے کہا اپنی جماعت سے مشاورت کرنے کے بعد آپ کو آگاہ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کا نظام آئین کے مطابق ہونا چاہیے، سیاسی جماعتیں مسائل کےحل کیلئے پارلیمان میں بات کریں، ملک میں آئین کی بالادستی ہونی چاہیے۔ پی ٹی آئی کی آرمی چیف سے ملاقات کا مجھے کوئی علم نہیں، میرے مطابق میٹنگ خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورتحال پر تھی۔ سربراہ عوام پاکستان پارٹی کا کہنا تھا کہ 8 فروری کو تحریک انصاف کے یوم سیاہ میں شرکت کی دعوت نہیں ملی، احتجاج آئین کے دائرے میں رہ کر کرنا چاہیے، ملک کے لیے بیٹھنا پڑے گا۔
شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ اگر مجھے کوئی ثالثی کا کہے گا تو کردار اداکروں گا۔ مہنگائی کی شرح کم نہیں ہوئی، ملک میں سرمایہ کاری نہیں آ رہی، ملک میں سرمایہ کاری نہ ہونا حکومت کی ناکامی ہے۔ نیب نے آج تک کسی کرپٹ آدمی کو نہیں پکڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی دور میں اپوزیشن کہتی تھی نیب کو ختم کرو، یہاں چور دوسروں کو پکڑنے کے چکر میں ہوتا ہے۔جمہوریت میں ایک حکومت اور دوسری اپوزیشن ہوتی ہے، اپوزیشن کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے، پی ٹی آئی کی ناکامی ہے اپوزیشن نہیں کرتی۔ سربراہ عوام پاکستان پارٹی کا مزید کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کبھی سڑکوں پر کبھی عدالتوں میں گھوم رہی ہوتی ہے، پی ٹی آئی پارلیمان میں کیوں بات چیت نہیں کرتی۔؟
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سربراہ عوام پاکستان پارٹی کا کہنا تھا کہ شاہد خاقان پی ٹی ا ئی ملک میں نے کہا
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔