کرم سے فریقین کے جرگہ مشران کا وزیر اعظم کو مشترکہ خط، زمینی حقائق سے آگاہ کرتے ہوئے مطالبات سامنے رکھ دیئے
اشاعت کی تاریخ: 19th, January 2025 GMT
پشاور، اسلام آباد (ویب ڈیسک) کرم کے دونوں فریقین کے جرگہ مشران نے وزیراعظم، وزیر اعلی سمیت دیگر حکام کو ایک مشترکہ خط لکھا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ کوہاٹ میں کامیاب جرگے پر دستخط کے بعد معاہدے پر عمل درآمد کیلئے کرم میں موجود ہیں، کرم میں اشیاء ضروریہ، تیل، گیس، ادویات کی شدید قلت ہے، ادویات نہ ہونے سے اموات میں اضافہ ہو رہا ہے۔
آج نیوز کے مطابق مشران کی جانب سے لکھے گئے خط میں کہا گیا کہ کرم میں بڑی تعداد میں پھنسے لوگ موجود ہیں جو دوسرے علاقوں میں ضروری سفر کرنا چاہتے ہیں، ضلع بھر کے لئے مستقل طور پر کانوائے کا بندوسبت کیا جائے۔
پاکستان جون 2025 تک پانڈا بانڈز جاری کرے گا: وفاقی وزیر خزانہ
خط میں کہا گیا کہ بگن بازار میں لوگ شدید سردی میں سڑکوں پر احتجاج کر رہے ہیں، بگن کے کافی تعداد میں لوگ بمعہ خواتین دوسرے علاقوں سے واپس نہیں آئے، بگن کے عوام کے گھر اور بازار جلے ہوئے ہیں جس کی فی الفور آبادکاری کی جائے، اور بگن کی جلی ہوئی دکانوں کے لئے معاوضے کا اعلان کیا جائے۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔
انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔
بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔