لاہور میں اپنے آبائی حلقے میں ترقیاتی کاموں کے جائزے کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ آج مجرم اور اس کے حواریوں کو سزا ہوئی ہے، این سی اے نے پیسہ پاکستان کو دیا، انہوں نے جیبوں میں ڈال لیا، انہوں نے رشوت کے طور پر 5-5 قیراط کی انگوٹھیاں لیں، اپنی کرپشن کو چھپانے کیلئے اب مذہب کا استعمال کررہے ہیں، ان کو شرم آنی چاہیے۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہا ہے کہ پوری دنیا نے پی ٹی آئی کا اصل چہرہ دیکھ لیا، اب تم آؤٹ ہوچکے۔ لاہور میں اپنے آبائی حلقے میں ترقیاتی کاموں کے جائزے کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عطا تارڑ کا کہنا تھا کہ ہر جگہ سے اچھی خبریں آرہی ہیں، پچھلے سال مہنگائی 38 فیصد تھی اب 3.

9 فیصد پر ہے، معیشت کی ترقی کے حوالے سے عالمی ادارے بھی بات کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے ملک کو ترقی کی راہ پر ڈال دیا ہے، پاکستان پر بیرون ملک کے سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھ رہا ہے، آج معیشت گروتھ کی طرف جارہی ہے، پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا ڈاکہ 190 ملین پاؤنڈز کا تھا۔

وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ آج مجرم اور اس کے حواریوں کو سزا ہوئی ہے، این سی اے نے پیسہ پاکستان کو دیا، انہوں نے جیبوں میں ڈال لیا، انہوں نے رشوت کے طور پر 5-5 قیراط کی انگوٹھیاں لیں، اپنی کرپشن کو چھپانے کیلئے اب مذہب کا استعمال کررہے ہیں، ان کو شرم آنی چاہیے۔ عطا تارڑ نے کہا کہ یہ اسلامی ٹچ، مذہب کارڈ استعمال کرکے جھوٹے بولتے ہیں، یہ مذہب کے پیچھے چھپ کر بچنے کی ناکام کوشش کررہے ہیں، اب جو مرضی کارڈ لے آؤ، تم پر مہر لگ چکی، تم ایک سرٹیفائیڈ ڈاکو ہو، انہوں نے ملک میں تقسیم ڈالی، سیاست کو زہر آلود کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہماری جماعت نے صرف ایک ہی چیز سکھائی ہے کہ عوام کی خدمت کرتے رہنا۔ جس دن ان کو سزا ہوئی سٹاک مارکیٹ 1 ہزار پوائنٹ اوپر گئی، ملکی معیشت، بزنس پر اس سزا کا مثبت اثر پڑا، تم جہاں مرضی اپیل کرو اس سزا کا تمہارے پاس جواب نہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات کا مزید کہنا تھا کہ پوری دنیا نے تمہارا اصل چہرہ دیکھ لیا،اب تم آؤٹ ہوچکے، یہ ملک ترقی کرے گا اور عوام خوشحال ہوں گے۔

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ کررہے ہیں عطا تارڑ انہوں نے

پڑھیں:

کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن)سینیٹر سرمد علی کی قائم مقام صدارت میں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس منعقد ہوا جس میں این سی سی آئی اے کی جانب سے سوشل میڈیا کے اعداد و شمار اور میٹا  کی جانب سے قابلِ اعتراض مواد ہٹانے کے حوالے سے بریفنگ دی گئی۔ این سی سی آئی اے نے واضح کیا کہ اس سے قبل کمیٹی کو جو اعداد و شمار فراہم کیے گئے تھے، وہ میٹا کے عوامی سطح پر دستیاب ڈیٹا پر مبنی تھے۔ کمیٹی نے اس وضاحت کو قبول کیا اور تصدیق شدہ حقائق کی بنیاد پر ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت پر زور دیا۔
کمیٹی نے بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ متنازعہ ریمارکس پر ایک اخبار کے کالم نگار کو نوٹس جاری کرنے کے معاملے کا بھی جائزہ لیا۔ این سی سی آئی اے نے کمیٹی کو بتایا کہ یہ نوٹس پاس (PAS) افسران ایسوسی ایشن کے صدر کی طرف سے درج کرائی گئی شکایات کے بعد صرف کالم نگار کا مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا۔ مزید آگاہ کیا گیا کہ پیکا کے تحت کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، کالم نگار نے تاحال نوٹس کا جواب نہیں دیا، اور یہ مضمون اخبار کے ای پیپر سے ہٹا دیا گیا ہے، اگرچہ یہ کالم نگار کے فیس بک پیج پر اب بھی دستیاب ہے۔

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے

بحث کے دوران اراکین نے پارلیمنٹ میں دی گئی حکومت کی اس یقین دہانی کو دہرایا کہ پیکا کا استعمال اخبارات اور ٹیلی ویژن کی ویب سائٹس یا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے خلاف نہیں کیا جائے گا کیونکہ ان کے منظم کردہ مواد کو بالترتیب پریس کونسل اور پیمرا کنٹرول کرتے ہیں۔ سینیٹر پرویز رشید نے اس بات پر زور دیا کہ حقائق واضح کرنے کے لیے کالم نگار کو نوٹس کا جواب دینے کا کہا جائے۔ کمیٹی نے متفقہ طور پر مشاہدہ کیا کہ ہر فرد کی عزت اور تقدس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ مشاورت کے بعد، قائم مقام چیئرمین نے این سی سی آئی اے کو ہدایت کی کہ وہ شکایت اور شکایات کنندہ دونوں کو پریس کونسل آف پاکستان کے پاس بھیجیں، جو کہ شائع شدہ کالم کا جائزہ لینے اور اس معاملے پر فیصلہ کرنے والا مناسب فورم ہے۔
کمیٹی نے صوبائی حکام سے پیکا کے مقدمات کی این سی سی آئی اے کو منتقلی کا بھی جائزہ لیا۔ سینیٹر وقار مہدی کے سوال پر این سی سی آئی اے کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ سندھ سے اب تک صرف نو مقدمات منتقل کیے گئے ہیں، جبکہ دیگر صوبوں میں مقدمات کی منتقلی کا عمل ابھی باقی ہے۔ تفصیلی غوروخوض کے بعد، سینیٹر سرمد علی نے ہدایت کی کہ تمام متعلقہ صوبائی حکام کو خطوط بھیجے جائیں تاکہ عمل درآمد کے لیے سینیٹ کی ذیلی کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کی سفارشات اور رپورٹ کے ساتھ زیر التوا مقدمات کی منتقلی کو تیز کیا جا سکے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

مزید :

متعلقہ مضامین

  • دنیا کی مہنگی ترین طلاق، جنوبی کوریا کی اہم ترین کاروباری شخصیت کو 944 ارب وون سابق اہلیہ کو ادا کرنے کا حکم
  • قدیم انجینیئرنگ سے دنیا حیران، 2 ہزار سال پرانا چینی تالا جسے کھولنے کے لیے محض چابی نہیں بڑا دماغ بھی چاہیے
  • ایران کے جزیرہ قشم میں ایک جنگی طیارہ گرنے کی اطلاعات
  • طالبان کے خلاف مسلح مزاحمت کا دائرہ وسیع، کئی افغان صوبوں میں جھڑپوں کی اطلاعات
  • میں نے اپنی قبر تیار کروا رکھی ہے، لیجنڈ گلوکار عطا اللہ عیسیٰ خیلوی کا انکشاف
  • بيزوس، مسک اور زکربرگ جیسے ارب پتی ہر سال ایک خفیہ سمر کیمپ میں کیوں اکٹھے ہوتے ہیں؟
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان