ایم کیوا یم کی پی ایف یو جے ورکرز حیدرآبادکے نومنتخب عہدیداران کو مبارکباد
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2025 GMT
حیدرآباد (اسٹاف رپورٹر) ایم کیو ایم حیدرآبادکے ڈسٹرکٹ آرگنائزر ظفر احمد صدیقی و اراکین ڈسٹرکٹ کمیٹی نگراں میڈیا و جوائنٹ انچارج ڈسٹرکٹ افتخار قائم خانی، میڈیا انچارج نعیم زئی و رضوان احمد گدی، اراکین قومی اسمبلی سید وسیم حسین ، پروفیسر انجینئر عبدالعلیم خانزادہ ،اراکین سندھ اسمبلی راشد خان ایڈووکیٹ، انجینئر صابر حسین قائم خانی اورناصر حسین قریشی نے پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ ورکرز حیدرآباد چیپٹر کے انتخابات میں نو منتخب عہدیداران صدر امجد اسلام، عمران ملک، ساجد آرائیں، وہاب منشی ایڈووکیٹ، جاوید چنا، اصغر خانوٹی،عرفان آرائیں،امتیاز کھاوڑ،مبین مگسی، آصف شیخ ،عمران راجپوت،ذوالفقار،یامین قریشی، ندیم خاور کو دلی مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کا انتخاب حیدرآباد کی صحافی برادری کے مسائل کے حل کا باعث بنے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت
لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔
منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔
میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔
یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔
برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔
مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں
مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔