اسلام آباد (نیوز ڈیسک) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے گوادر ائیرپورٹ سے پروازوں کے آغاز پر گہری خوشی اور اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اس موقع کو پاکستان کی ترقی اور خطے میں مواصلاتی روابط کے فروغ کی جانب ایک اہم سنگ میل قرار دیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ آج اللہ کے فضل سے گوادر کو وسطی اور مشرقی ایشیا، مشرق وسطیٰ، اور خلیجی ممالک کے درمیان ایک اہم رابطہ بنانے کی جانب ایک اور قدم اٹھایا گیا ہے۔ گوادر ائیرپورٹ کی فعالی نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے ترقی کے نئے مواقع پیدا کرے گی اور سی پیک کے ذریعے خطے کی خوشحالی کے خواب کو حقیقت میں بدلنے میں مددگار ہوگی۔

وزیراعظم نے چینی صدر شی جن پنگ اور سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی قیادت میں سی پیک کے آغاز کو پاکستان اور خطے کی ترقی کے لیے ایک مشترکہ عزم کی مثال قرار دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ سی پیک کے تحت ہونے والے اہم منصوبے نواز شریف کے دور میں شروع ہوئے اور ان کے دوراندیش فیصلے آج ثمر دے رہے ہیں۔

وزیراعظم نے پاک چین دوستی کو سراہتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی معیار کی سہولیات سے آراستہ گوادر ائیرپورٹ اس مثالی تعلقات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ چین پاکستان کا وہ بھائی ہے جس نے ہمیشہ پاکستان کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔

وزیراعظم نے اس موقع پر وزیر دفاع و ہوابازی خواجہ آصف، وزیر اعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی، سیکیورٹی افسران، اہلکاروں، اور عسکری قیادت کی ائیرپورٹ کی تعمیر میں انتھک محنت کو سراہتے ہوئے انہیں خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ گوادر ائیرپورٹ نہ صرف پاکستان بلکہ خطے کی ترقی کا مرکز ثابت ہوگا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: گوادر ائیرپورٹ انہوں نے کہا کہ

پڑھیں:

سمندری تجارت میں بہتری، کراچی اور گوادر بندرگاہوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی

خلیج میں جاری کشیدگی اور بحری راستوں میں رکاوٹوں کے باعث پاکستان کی سمندری تجارت میں نمایاں بہتری دیکھنے میں آ رہی ہے، جس سے کراچی(Karachi) اور گوادر(Gwadar) بندرگاہوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔

عرب نیوز کے مطابق ہچیسن پورٹس پاکستان کا کہنا ہے کہ نیا کارگو کئی بحری جہازوں کے ذریعے پاکستان پہنچے گا، دو جہاز پہلے ہی بندرگاہ پر آ چکے ہیں، جبکہ تیسرا جہاز جون کے پہلے ہفتے میں پہنچنے کی امید ہے۔

کراچی میں ہچیسن پورٹس ٹرمینل 4 ہزار نئے ٹرانس شپمنٹ کارگو سنبھالے گا، جس کے بعد مارچ 2026 تک مجموعی تعداد 14,300 سے بڑھ جائے گی، خلیجی خطے میں رکاوٹوں کے باعث بین الاقوامی شپنگ کمپنیاں دوسرے راستے کے طور پر پاکستان کی بندرگاہوں کو اہمیت دے رہی ہیں۔

میری ٹائم حکام کے مطابق خلیج کے بحران کے باعث نہ صرف کراچی بلکہ گوادر پورٹ کے استعمال میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے، جہاں سرگرمیاں 20 فیصد سے بڑھ کر 30 فیصد تک پہنچ گئی ہیں۔

مزیدپڑھیں:دنیا بھر میں غیر قانونی طور پر مقیم بھارتی شہری مختلف ممالک کیلیے وبال جان بن گئے

حکام کا کہنا ہے کہ گوادر پورٹ کو پرکشش بنانے کے لیے برتھنگ فیس میں 25 فیصد، بین الاقوامی ٹرانس شپمنٹ کارگو چارجز میں 40 فیصد اور ٹرانزٹ کارگو چارجز میں 31 فیصد کمی کی گئی ہے، تاہم سی پیک 2.0، علاقائی تجارتی راہداریوں اور نئی سرمایہ کاری سے گوادر پورٹ کی علاقائی اہمیت میں اضافے کی امید ہے۔

 کراچی اور گوادر بندرگاہوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں پاکستان کے علاقائی لاجسٹکس اور ٹرانس شپمنٹ کا اہم مقام بننے کے لیے ایک اچھا اشارہ ہیں، پاکستان کا منفرد جغرافیائی محلِ وقوع کراچی، پورٹ قاسم اور گوادر کو خطے کے ابھرتے ہوئے تجارتی اور لاجسٹکس مقامات میں تبدیل کر رہا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • بجٹ میں عوام کو ریلیف دینے کیلئے پر عزم ہیں،وزیراعظم
  • بجٹ میں عوام کو ریلیف دینے کیلیے اقدامات کر رہے ہیں، وزیراعظم
  • کاروباری رہنماؤں کا حکومتی معاشی پالیسیوں پر اعتماد، تعاون جاری رکھنے کا عزم
  • پاکستان کی سمندری تجارت میں اہم بہتری، کراچی اور گوادر بندرگاہوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی
  • سمندری تجارت میں بہتری، کراچی اور گوادر بندرگاہوں کی اہمیت مزید بڑھ گئی
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف
  • گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ