ایک ہفتے میں جوڈیشل کمیشن نہ بنا تو چوتھی میٹنگ نہیں ہو گی:بیرسٹر گوہر
اشاعت کی تاریخ: 20th, January 2025 GMT
اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ ایک ہفتے میں جوڈیشل کمیشن نہیں بنا تو چوتھی میٹنگ نہیں ہو گی۔چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے ترجمان حکومتی کمیٹی سینیٹر عرفان صدیقی پر حکومت سے مذاکرات کو تاخیر کا شکار کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذاکرات میں تعطل مناسب نہیں ہے۔اڈیالہ جیل راولپنڈی کے باہر میڈیا سے گفتگو کے دوران چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ عرفان صدیقی حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے ترجمان ہیں.
دوسری جانب سینیٹر عرفان صدیقی کا کہنا ہے کہ ایک ہی وقت میں پی ٹی آئی بیک ڈور ڈائیلاگ اور حکومت کے ساتھ مذاکرات دونوں کرے، یہ نہیں چل سکتا۔ یہ دو دو تین تین دروازوں کے مذاکرات نہیں چلتے، جب وہ یہ کہتے ہیں کہ ہماری بات چیت اعلیٰ ترین فوجی سطح پر شروع ہوگئی تو ہمارے سامنے بٹھائے ہوئے لوگوں کو بھی بتائیں۔چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ اگر حکومت نے 7روز میں جوڈیشل کمیشن نہ بنایا تو چوتھی ملاقات نہیں ہوگی. ہمیں حکومت کا انتظار ہے کہ ان کی جانب سے پیشرفت کیا ہوگی؟ جوڈیشل کمیشن کے بغیر مذاکرات بے فائدہ ہیں۔ حکومت گھبرائی ہوئی اس لیے ہے کیونکہ یہ فارم 47 کے تحت بنی ہوئی حکومت ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ مذاکرات پر توجہ دے۔
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: بیرسٹر گوہر نے جوڈیشل کمیشن پی ٹی آئی نے کہا کہ تو چوتھی نہیں ہو ہیں کہ
پڑھیں:
روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔
کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔
جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔