اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) چیئرمین بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ ایک ہفتے میں جوڈیشل کمیشن نہیں بنا تو چوتھی میٹنگ نہیں ہو گی۔چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے ترجمان حکومتی کمیٹی سینیٹر عرفان صدیقی پر حکومت سے مذاکرات کو تاخیر کا شکار کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ مذاکرات میں تعطل مناسب نہیں ہے۔اڈیالہ جیل راولپنڈی کے باہر میڈیا سے گفتگو کے دوران چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ عرفان صدیقی حکومتی مذاکراتی کمیٹی کے ترجمان ہیں.

یہ مناسب نہیں کہ وہ مذاکرات کو تاخیر کا شکار کردیں۔ ہماری آرمی چیف سے جو ملاقات ہوئی. اس میں ملک بھر میں امن و امان کی صورتحال پر بات چیت ہوئی تھی۔گفتگو کے دوران بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہم آرمی چیف سے ملاقات پر تنازعہ کھڑا کرنے کے حق میں نہیں. مذاکرات کا عمل جاری رکھا جائے گا. شرط اتنی ہے کہ جوڈیشل کمیشن بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری جو ملاقات ہوئی اس میں امن و امان کی صورت حال پر گفتگو ہوئی۔ اور امن و امان کی صورتحال پر ہونے والی ملاقات پر ایشو کھڑا نہیں کرنا چاہیے۔ ہم حکومت کے ساتھ مذاکرات جاری رکھنا چاہتے ہیں۔بیرسٹر گوہر نے کہا کہ ہماری شرط ہے کہ جوڈیشل کمیشن بنایا جائے۔ اور 7 دن میں کمیشن نہ بنا تو چوتھی میٹنگ نہیں ہو گی۔ ہم حکومت کا انتظار کر رہے ہیں کہ وہ کیا پیشرفت بتاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر کمیشن نہیں بننے جا رہا تو مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ حکومت کو اس وقت مذاکرات پر توجہ دینی چاہیے۔ اور ہم سمجھتے ہیں کہ مذاکرات کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے۔پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ تحمل اور برداشت کے ساتھ مذاکرات پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔

دوسری جانب سینیٹر عرفان صدیقی کا کہنا ہے کہ ایک ہی وقت میں پی ٹی آئی بیک ڈور ڈائیلاگ اور حکومت کے ساتھ مذاکرات دونوں کرے، یہ نہیں چل سکتا۔ یہ دو دو تین تین دروازوں کے مذاکرات نہیں چلتے، جب وہ یہ کہتے ہیں کہ ہماری بات چیت اعلیٰ ترین فوجی سطح پر شروع ہوگئی تو ہمارے سامنے بٹھائے ہوئے لوگوں کو بھی بتائیں۔چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ اگر حکومت نے 7روز میں جوڈیشل کمیشن نہ بنایا تو چوتھی ملاقات نہیں ہوگی. ہمیں حکومت کا انتظار ہے کہ ان کی جانب سے پیشرفت کیا ہوگی؟ جوڈیشل کمیشن کے بغیر مذاکرات بے فائدہ ہیں۔ حکومت گھبرائی ہوئی اس لیے ہے کیونکہ یہ فارم 47 کے تحت بنی ہوئی حکومت ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ مذاکرات پر توجہ دے۔

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

کلیدی لفظ: بیرسٹر گوہر نے جوڈیشل کمیشن پی ٹی آئی نے کہا کہ تو چوتھی نہیں ہو ہیں کہ

پڑھیں:

روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن

روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔

کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔

جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔

متعلقہ مضامین

  • اسحاق ڈار کی عباس عراقچی سے ملاقات، پاک۔ایران دیرینہ تعلقات کا اعادہ
  • جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران
  • دو ہفتے کے دوران پٹرول 20 اور ڈیزل 55 روپے فی لیٹر مہنگا
  • پیٹرول مہنگا، کیا دفتروں کے لیے ہفتہ دوبارہ 3 یا 4 روز پر مشتمل ہوسکتا ہے؟
  • باکو میں بین الاقوامی جوڈیشل ٹریننگ پروگرام، سپریم کورٹ کے جج نے متبادل نظامِ انصاف پر زور
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • محسن نقوی کی مستونگ کے قریب  سیشن جج اور جوڈیشل مجسٹریٹ پر فائرنگ کی پرزور مذمت
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن