UrduPoint:
2026-07-24@02:15:47 GMT

سرویلنس کیپیٹلزم اور آن لائن پرائیویسی

اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2025 GMT

سرویلنس کیپیٹلزم اور آن لائن پرائیویسی

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 24 جنوری 2025ء) اگرچہ ڈیٹا اکھٹے کرنے سے کئی فوائد حاصل ہوئے ہیں، جیسے کہ ٹارگٹڈ اشتہارات لیکن اس کے ساتھ آن لائن پرائیویسی اور نگرانی کے سرمائے (Surveilance Capitalism) کے حوالے سے خدشات بھی پیدا ہوئے ہیں۔

سرویلنس کیپیٹلزم کی اصطلاح شوشانا زوبوف (Shoshana Zuboff) نے وضع کی ہے۔ وہ ان طریقوں کو بیان کرتی ہے، جن کے ذریعے کمپنیاں صارفین کے رویوں اور ان کی آن لائن ایکٹیویٹی کو ٹریک کر کے اس سے حاصل شدہ ڈیٹا کا استعمال کرتی ہیں۔

اس ماڈل میں صارفین کے ڈیٹا کو ایک ایسے ذریعے کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جسے منافع کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

کمپنیاں جدید الگورتھمز اور ڈیٹا اینالیٹکس کا استعمال کرتے ہوئے صارفین کی تفصیلی پروفائلز تیار کرتی ہیں، جنہیں پھر ذاتی نوعیت کے اشتہارات اور دیگر مارکیٹنگ کے مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

(جاری ہے)

جیسے جیسے افراد کے بارے میں زیادہ سے زیادہ ڈیٹا اکٹھا کیا جا رہا ہے، اس بات پر خدشات ہیں کہ یہ ڈیٹا کس طرح استعمال ہو رہا ہے اور کس کو اس تک رسائی حاصل ہے۔

یہ مسئلہ خاص طور پر پاکستان جیسے ممالک میں زیادہ اہمیت رکھتا ہے، جہاں کمپنیوں اور سرکاری اداروں کے ذریعے ڈیٹا کے جمع کرنے اور استعمال کے حوالے سے قوانین نہ ہونے کے برابر ہیں۔

ڈیٹا اور پرائیویسی کے ایک ماہر ریسرچر ڈیویڈ لیون لکھتے ہیں کہ جدید تکنیکی ڈھانچہ، جیسے کوکیز، ڈیوائسز، آن لائن اور موبائل سروسز، سرچ انجنز اور پلیٹ فارمز کو اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ ڈیجیٹل ڈیٹا پیدا کیا جا سکے جسے الگورتھمز کے ذریعے پڑھا جا سکتا ہے۔

نتیجتاً، ڈیجیٹل ڈیٹا کی بڑی مقدار کی دستیابی اور اس کے پراسیسنگ کے لیے بہتر کمپیوٹیشنل ٹیکنالوجی، جو زیادہ تر مصنوعی ذہانت پر تحقیق سے اخذ کی گئی ہے، نے وسیع پیمانے پر سماجی، ثقافتی اور سیاسی زندگی کی ڈیٹا فیکیشن کو ممکن بنایا ہے اور ایک رجحان "Big Data" کے نام سے شروع کیا ہے۔

اس تناظر میں یہ جاننا دلچسپ ہو گا کہ کتنے ڈیجیٹل میڈیا صارفین الگورتھمز کے ان میکانزم کے بارے میں جانتے ہیں، جو ان کی نجی زندگی کی حدود کو ان کی منظوری کے بغیر پامال کرتے ہیں اور انہوں نے نگرانی کے سرمایہ داری کے خلاف کیا حفاظتی حکمت عملی اپنائی ہے۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ اسمارٹ فونز میں نصب مختلف ایپلیکیشنز کی وجہ سے، کمپنیاں یہ جان سکتی ہیں کہ ہم کتنی دیر سوتے ہیں، دن بھر کیا سرگرمیاں انجام دیتے ہیں، کام، اسکول اور گھر آنے جانے میں کتنا وقت صرف کرتے ہیں، ہمیں کیا پسند ہے، ہم فارغ وقت کیسے گزارتے ہیں، ہمارے مشاغل کیا ہیں، وغیرہ۔ بگ ڈیٹا مختلف اقسام کے ڈیٹا فراہم کرتا ہے، جنہیں کسی بھی طرح جوڑا جا سکتا ہے۔

ان کا موازنہ اور تجزیہ بھی کیا جا سکتا ہے۔

معلومات کی اس نئی شکل کا مقصد انسانی رویوں کی پیش گوئی اور ان میں تبدیلی لانا ہے تاکہ آمدنی اور مارکیٹ کنٹرول کو بڑھایا جا سکے۔

سرویلنس کیپیٹلزم انسانی رویے کی پیش گوئی اور اس میں تبدیلی لانے کے لیے اسے ایک ذریعہ سمجھتی ہے۔ شوشانا زوبوف اس ڈیٹا کے ضمنی اثرات کو 'Behavioral Surplus' کہتی ہیں۔

زوبوف کے مطابق، یہ 'Surveillance Assets' ہیں، جو انسانی تجربے کو خام مال کے طور پر دیکھتے ہیں جسے رویے کے ڈیٹا میں تبدیل کیا جا سکتا ہے اور آمدنی اور مارکیٹ کنٹرول کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

بگ ڈیٹا تک رسائی کی یہ دوڑ اور اس کا استعمال جارج اورویل (George Orwell) کے ناول "1984" کے ڈسٹوپین تصور کی عکاسی کرتے ہیں، جہاں ایک ہمہ گیر، سب کچھ دیکھنے والا ادارہ اپنے شہریوں کے خیالات اور اعمال پر مکمل کنٹرول رکھتا ہے۔

صارفین اکثر اس بات سے بے خبر رہتے ہیں کہ ان کا ڈیٹا کس حد تک حاصل کیا جاتا ہے اس عمل کو ڈیٹا مائنگ (Data Mining) کہتے ہیں۔ ان طریقوں کے حوالے سے واضح رضامندی اور شفافیت کی کمی اس احساس کو مزید بڑھا دیتی ہے کہ وہ مسلسل نگرانی میں ہیں۔

اب آگے بڑھنے کا راستہ صارفین، ریگولیٹرز اور محققین کی مشترکہ کوشش کا تقاضا کرتا ہے تاکہ آن لائن پلیٹ فارمز کو جوابدہ ٹھہرایا جا سکے اور زیادہ اخلاقی طریقوں کو فروغ دیا جا سکے۔

اس ضمن میں مندرجہ ذیل تجاویز پر عمل کرنا نہایت اہم ہے۔

صارفین کو اپنے ڈیٹا پر زیادہ کنٹرول کا مطالبہ کرنا چاہیے اور پرائیویسی سیٹنگز کے بارے میں محتاط رہنا چاہیے۔ اپنی پرائیویسی ترجیحات کو خود سیٹ کریں اور غیر ضروری ڈیٹا تک رسائی کے عمل کو روکیں۔ مثال کے طور پر اگر آپ کوئی ایسی ایپ ڈاؤن لوڈ کر رہے ہیں، جس کو آپ کے کونٹیکٹس یا کیمرہ تک رسائی کی ضرورت نہیں لیکن وہ ایپ یہ رسائی حاصل کرنا چاہتی ہے تو آپ رسائی نا دیں۔

اس طرح ریگولیٹری اداروں کو جامع پرائیویسی اور ڈیٹا پروٹیکشن قوانین قائم کرنے اور ان پر عمل درآمد کروانے کی ضرورت ہے۔ اس میں ایک ایسے عالمی فریم ورک کو تیار کرنا شامل ہے، جو تمام صارفین کے لیے یکساں تحفظ فراہم کرے، چاہے وہ کسی بھی ملک میں رہتے ہو۔ ریگولیٹرز کو چاہیے کہ ان قوانین پر عمل درآمد نہ کرنے والوں پر سخت جرمانہ عائد کریں اور ڈیٹا کے حصول کے لیے اپنائے گئے طریقوں کے باقاعدہ آڈٹ کو لازمی قرار دینا چاہیے۔

محققین اور ماہرین تعلیم کا کردار مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا کے حصول کے لیے اپنائے گئے طریقوں کے اخلاقی اثرات کا جائزہ لینے میں اہم ہے۔ ساتھ ہی ساتھ وہ ڈیجیٹل میڈیا صارفین کو آگاہی دینے اور اپنے ڈیٹا کا تحفظ کرنے کے لیے حفاظتی اقدامات اختیار کرنے میں بھی مدد کر سکتے ہیں۔اس کے علاوہ پاکستان جیسے ممالک میں جہاں ڈیجیٹل لیٹریسی کا تناسب بہت کم ہے، وہاں حکومتی سطح پر ڈیجیٹل میڈیا صارفین کی تعلیم پر توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے۔

نوٹ: ڈی ڈبلیو اردو کے کسی بھی بلاگ، تبصرے یا کالم میں ظاہر کی گئی رائے مصنف یا مصنفہ کی ذاتی رائے ہوتی ہے، جس سے متفق ہونا ڈی ڈبلیو کے لیے قطعاﹰ ضروری نہیں ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کیا جا سکتا ہے اور ڈیٹا تک رسائی ڈیٹا کے آن لائن کے لیے جا سکے ہیں کہ اور اس اور ان

پڑھیں:

مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ

ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔

یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔

تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔

اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔

محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔

تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔

تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔

تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔


 

متعلقہ مضامین

  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • پنجاب میں پہلی مرتبہ سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ کا آغاز
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ
  • پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ