لاہور؛ موٹرسائیکل پر پیچھے بیٹھے مرد یا عورت کیلیے بھی ہیلمٹ لازمی قرار
اشاعت کی تاریخ: 24th, January 2025 GMT
لاہور:
لاہور میں موٹرسائیکل پر پیچھے بیٹھے ہوئے فرد کیلیے ہیلمٹ پہننے اور گاڑی میں ڈرائیور کے ساتھ والی نشست پر بیٹھی سواری کیلیے سیٹ بیلٹ باندھنے کو لازمی قرار دینے کا فیصلہ کرلیا گیا۔
چیف ٹریفک آفیسر لاہور ڈاکٹر اطہر وحید کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ لوگوں کو ہیڈ انجریز سے محفوظ رکھنے کے لیےکیا گیا، اس کا مقصد انسانی زندگی بچانا ہے۔
ڈاکٹر اطہر وحید نے کہا کہ ہمارا ہدف یہ ہے کہ سڑک پر ہونے والے حادثات کو بڑھنے سے روکا جائے، شہریوں کو پہلے ایک ہفتے آگاہی اور وارننگ دی جا رہی ہے اس کے بعد کارروائی کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ ٹریفک ایجوکیشن یونٹ، فیلڈ افسران اور ٹریفک ایف ایم 88.
سی ٹی او کا کہنا تھا کہ خواتین کی زندگی بھی اتنی ہی اہم ہے جتنی مردوں کی، ہمیں وقت کے ساتھ چلنا ہوگا، انہوں نے کہا کہ ہمیں ایک قدم آگے چلنا ہوگا، آئندہ 5 سال میں ہم لاہور اور پنجاب کو کیسا دیکھنا چاہتے ہیں یہ ہمیں فیصلہ کرنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ دن کے وقت لاہور میں ہر قسم کی ہیوی ٹریفک کا داخلہ ممنوع ہے، آئل ٹینکرز بھی رات 11 بجے شہر میں داخل ہوں گے۔ ڈاکٹر اطہر وحید کا کہنا تھا کہ میرا اولین مقصد شہریوں کے لیے کلین لاہور دینا ہے،شہریوں کو واضح تبدلی نظر آئے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ واضح اعلان کے باوجود کراچی میں سرکاری کالجوں میں داخلہ شروع نہیں کرسکا ہے اور کم از کم سوا لاکھ طلبہ انٹر سال اول میں داخلوں کے منتظر ہیں۔
تفصیلات کے مطابق انٹر سال اول میں داخلہ یکم جون سے شروع ہونے تھے اس سلسلے میں 23 مئی کو قومی اخبارات میں اشتہارات جاری کیے گئے تھے جس کے مطابق تمام سرکاری کالجوں میں انٹر سال اول میں نویں جماعت کے نتائج کی بنیاد پر یکم جون سے داخلہ فارم کی رجسٹریشن شروع ہوجانی تھی جبکہ داخلہ فارم رجسٹریشن کی آخری تاریخ 15 جولائی مقرر کی گئی ہے۔
انٹر سال اول میں صرف کراچی کے سرکاری کالجوں میں سوا لاکھ کے قریب طلبہ داخلہ لیتے ہیں جن کے لیے سینٹرلائزڈ ایڈمیشن پالیسی کے تحت 6 مختلف فیکیلٹیز پری انجینئرنگ، پری میڈیکل، کمپیوٹر سائنس ، کامرس ، ہیومینیٹیز اور ہوم اکنامکس میں داخلے دیے جاتے ہیں۔
اس سلسلے میں جب میٹرک کا امتحان دینے والے داخلے کے خواہشمند طلبہ نے www.seccap.dgcs..gos.pk کے پورٹل پر داخلہ رجسٹریشن فارم تک پہنچنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ پورٹل ہی بند ہے۔
ادھر "ایکسپریس" نے اس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ پروفیسر زاہد راجپر سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر پورٹل بند ہے ہماری ٹیکنیکل ٹیم کام کررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پوری امید ہے کہ بدھ کی صبح تک پورٹل کھل جائے جس کے بعد طلبہ داخلے کے لیے اپلائی کرسکیں گے۔
ڈی جی کالجز کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بار ہم نے تمام سرکاری کالجوں میں "ڈیس ایبل" کوٹہ مختص کیا ہے تاکہ ایسے طلبہ اس کوٹے کی بنیاد پر اپنے قرب و جوار کے کالجوں میں بھی اپلائی کرسکتے ہیں۔