ایف بی ایریا میں گھرکی دہلیز پرڈکیتی مزاحمت پرشہری قتل
اشاعت کی تاریخ: 25th, January 2025 GMT
کراچی ( اسٹاف رپورٹر ) شہر قائد میں ایک اور شہری کو گھر کی دہلیز پر ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر قتل کر دیا گیا،ڈکیتی کی سی سی ٹی وی فوٹیج نے سارا منظر ریکارڈ کرلیا ۔تفصیلات کے مطابق شہری کو گھر کی دہلیز پر ڈکیتی مزاحمت پر قتل کر دیا گیا ،جوہرآباد تھانے کی حدود ایف بی ایریا بلاک 15 رائل سویٹس کے قریب نامعلوم افراد کی فائرنگ سے 40سالہ معیز ولد عبدالحفیظ جاںبحق ہوگیا۔ جوہر آباد فیڈرل بی ایریا بلاک 15 میں گھر کی دہلیز پر شہری کو مزاحمت پر فائرنگ کا نشانہ بنا کر قتل کرنے کی ویڈیو میں دیکھا گیا ہے کہ 40 سالہ معیز آفس جانے کے لیے کمر پر بیگ لٹکائے گھر کے باہر موبائل فون استعمال کر تے ہوئے نکلا ۔اسی دورن اس کے عقب سے موٹر سائیکل پر سوار2 ڈاکو آ گئے جنہوں نے پینٹ، شرٹ اورجیکٹ بھی پہنی ہوئی تھی، موٹر سائیکل چلانے والا ڈاکو ہیلمٹ جبکہ پیچھے بیٹھے ہوئے ڈاکو نے چہرے پر ماسک لگایا ہوا تھا اور وہ شہری معیز کے قریب اتر کر اس کے ہاتھ سے موبائل فون چھینتے ہوئے نظر آیا اس دوران موٹر سائیکل پر سوار دوسرا ڈاکو اسلحہ تانے کھڑا رہا ۔ڈکیتی کے دوران شہری موبائل فون چھیننے والے ڈاکو سے گتھم گتھا ہو گیا ، اسلحہ بردار ڈاکو اپنی موٹر سائیکل پیچھے کی جانب لے کر جاتا ہے اور شہری پر گولی چلا دیتا ہے شہر ی معیز گولی لگتے ہی وہ سڑک پر گر جاتا ہے۔، مقتول معیز کو ایک گولی سر پر لگی تھی جو جان لیوا ثابت ہوئی۔بعدازاںملزمان فرارہوگئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: موٹر سائیکل کی دہلیز پر
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔