سینیٹ کمیٹی کی ہدایت مسترد،چئیرمین ایف بی آر کا گاڑیاں خریدنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2025 GMT
کراچی () چیئرمین ایف بی آر نے سینیٹ کمیٹی کی ہدایت مسترد کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ نوجوان افسران کے لیے گاڑیاں خریدیں گے کیونکہ آپریشن کے لیے ضرورت ہے، سیلز ٹیکس کے لیے وزٹ ضروری ہوتا ہے۔کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایف
بی آر چیئرمین راشد لنگڑیال نے کہا کہ سینیٹ کمیٹی کے اعتراض کا احترام سے تسلی بخش جواب دیا ہے، ٹیکس اہداف پورے کریں گے جوتشی کا کام شروع نہیں کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیمنٹ قیمت کے معاملے پر مسابقتی کمیشن کو کام کرنا چاہیے۔ کراچی میں سب سے زیادہ ٹیکس کلیکشن کے حوالے سے چیئرمین ایف بی آر نے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ کراچی میں بڑی کمپنیز کے ہیڈکوارٹرز ہیں اور ملٹی نیشنلز کے بھی ہیڈکوارٹرز ہیں، اس لیے ٹیکس کلیکشن کا عمل ادھر سے ریکارڈ میں آتا ہے۔چیئرمین ایف بی آر کا کہنا تھا کہ ٹریکنگ سسٹم ٹرک اور گاڑیوں میں 2 سے 3 مہینے میں نصب ہو جائے گا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایف بی ا ر
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔