قنبرعلی خان،قاتلوں کی عدم گرفتاری پر پیپلزپارٹی (ش ب) کا احتجاج
اشاعت کی تاریخ: 27th, January 2025 GMT
قنبرعلی خان(نمائندہ جسارت) تین روز قبل قنبر شہر میں مسلح ڈکیتی کے دوران مسلح ڈاکوؤں کے ہاتھوں لوٹ مار کے دوران اندھا دھند فائرنگ میں قتل ہونے والے ذیشان بروہی کے وحشیانہ قتل کے خلاف پاکستان پیپلزپارٹی (ش ب) ضلع قنبر کی طرف سے ایس ایس پی قنبر شہدادکوٹ ساجد امیر سدوزئی کے خلاف ایک احتجاجی مظاہرہ کرکے مرکزی چوک پر ٹائروں کو نذر آتش کرکے دھرنا دیا گیا جس کی وجہ سے ٹریفک کا نظام دو گھنٹے تک معطل ہوگیا ۔اس موقع پر برکت علی میرجت، لالہ صالح چانڈیو، محمد جان بروہی، اعجاز بلیدی اور اللہ ڈنو گوپانگ ،سمیت دیگر رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ضلع قنبر میں مسلح ڈکیتی، رہزنی، چوری اور قتل وغارتگری میں بے تہاشا اضافہ ہوگیا ہے ملزمان مسلح ڈکیتی کے دوران بیگناہ نہتے معصوم شہریوں کو سرعام قتل کررہے ہیں ہر روز لوگ اپنے پیاروں کے جنازے اٹھارہے ہیں لیکن پولیس انتظامیہ اور منتخب پی پی نمائندوں کے کانوں میں جوں تک نہیں رینگ رہی۔ انہوں نے کہاکہ ہم پولیس کو وارننگ دیتے ہیں اگر ذیشان بروہی کے قاتل جلد گرفتار نہیں ہوئے تو احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
رواں مالی سال کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد، رقبہ کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی
رواں مالی سال26-2025 کے دوران زرعی شعبے کی شرح نمو 2.9 فیصد رہی اور قابل کاشت رقبہ 3.6 فیصد کم ہونے کے باوجود پیداوار بہتر رہی اور اہم فصلوں کی مجموعی پیداوار میں 0.6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
قومی اقتصادی سروے 26-2025 کے اہم نکات کے مطابق گندم کاشت رقبہ 4.4 فیصد اور پیداوار4.3 فیصد بڑھ کر 2 کروڑ 96 لاکھ ٹن رہی۔
مالی سال 26-2025 کے دوران چاول کی پیداوار میں 2.8 فیصد اضافہ ہوگیا، گنے کی پیداوار میں 6.2 فیصد اضافہ ہوا اور مجموعی پیداوار8 کروڑ 94 لاکھ ٹن ریکارڈ کی گئی۔
رپورٹ کے مطابق مکئی کی پیداوار میں 2.7 فیصد کمی آئی تاہم کاشت کا رقبہ گزشتہ سال کے برابر رہا، کپاس کی پیداوار میں بھی 0.5 فیصد کمی رہی اور کاشت کا رقبہ بھی 1.5 فیصد کم ہوگیا۔
دیگر فصلوں میں 2.4 فیصد نمواور پیداوار میں ریکارڈ 50.4 فیصد اضافہ ہوگیا، آلو کی پیداوار 27.6 فیصد، آم 11.6 فیصد اور کیلے کی پیداوار 30.8 فیصد بڑھ گئی۔
اسی طرح ہلدی کی پیداوار میں 25.1 فیصد مرچوں کی پیداوار میں 9.2 فیصد، کاٹن جننگ اور متفرق زرعی شعبوں کی شرح نمو صرف 0.1 فیصد رہی اور لائیو اسٹاک شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد رہی۔