سندھ اسمبلی ،پارلیمانی صحافیوں کا پیکا ایکٹ میں ترمیم کیخلاف احتجاج
اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2025 GMT
سندھ اسمبلی کی رپورٹنگ کرنے والے پارلیمانی صحافیوں نے پیر کو پیکا ایکٹ میں ترمیم کے خلاف احتجاج کیا۔ انہوں نے اس قانون کے خلاف سخت نعرے بازی کی اور اسے واپس لینے کا مطالبہ کیا۔اس موقع پر ڈپٹی اسپیکر نے پی پی رکن سعدیہ جاوید سے کہا کہ صحافی احتجاج کررہے ہیں، آپ ترجمان سندھ حکومت ہیں ان سے ملاقات کریں اور ان کا مسئلہ معلوم کریں۔اس موقع پر ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے صوبائی وزیر پارلیمانی امور و قانون ضیا الحسن لنجار نے کہا کہ آج صحافیوں نے پیکا ایکٹ کے خلاف احتجاج کیا۔ وفاقی حکومت نے جو ایکٹ پاس کیا اس پر چیئرمین پی پی پی کابڑا واضح موقف ہے ۔ہم نے یقین دہانی کروائی ہے کہ وفاق کے سامنے کیس رکھیں گے لیکن فیک نیوز کلچر بھی ختم ہونا چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ اکثر کسی کی عزت اچھالی جاتی ہے ،صحافتی تنظیمیں فیک نیوز کلچر کو بھی دیکھیں۔ صحافی بھی معاشرے کا اہم ستون ہیں اور انکی بات سنی جاتی ہے ،حکومت سندھ کی جانب سے یقین دہانی کرواتا ہوں وفاقی حکومت کے سامنے مسئلہ اٹھائیں گے۔
.ذریعہ: Juraat
پڑھیں:
بھارت میں حقوق کیلیے احتجاج کرنا جرم قرار؛ پولیس کا مسلمانوں کیخلاف کریک ڈاؤن
بھارت میں مسلمانوں کا پرامن احتجاج اب جرم بنتا جا رہا ہے، مودی حکومت میں اقلیتوں کی آواز کو دبانے کا سلسلہ جاری ہے۔
بھارتی ذرائع ابلاغ کے مطابق اتر پردیش میں مسجد کے باہر وقف بل کے خلاف احتجاج کرنے والوں کو دہشتگردوں کی طرح نشانہ بنایا گیا۔ یوپی پولیس نے متنازع وقف بل پر آواز اٹھانے والے 50 سے زائد مسلمانوں کے خلاف مقدمات درج کر لیے ہیں۔
احتجاج کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں تو یوپی پولیس نے مظاہرین پر بدترین تشدد کیا جب کہ مظاہرین کو 2 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کروانے کا حکم بھی دے دیا گیا۔
بل کی مخالفت میں سیاہ پٹیاں باندھنے پر بھی ایک لاکھ روپے کے مچلکے کی دھمکی دی گئی۔
مقامی افراد کا کہنا ہے کہ بی جے پی حکومت نے اقلیتوں کی آواز دبانا اپنی پالیسی بنا لی ہے۔ احتجاج روکنے کے لیے دھمکیاں، مقدمات اور تشدد جیسے ہتھکنڈے استعمال کیے جا رہے ہیں۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ رویہ جمہوریت کی نفی اور بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔