UrduPoint:
2026-07-24@02:23:21 GMT

گوگل میپس پر خلیج میکسیکو کو خلیج امریکہ کر دیا جائے گا

اشاعت کی تاریخ: 28th, January 2025 GMT

گوگل میپس پر خلیج میکسیکو کو خلیج امریکہ کر دیا جائے گا

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 28 جنوری 2025ء) گوگل نے منگل کے روز اعلان کیا کہ جیسے ہی یہ تبدیلی امریکی جغرافیائی ناموں کے نظام میں سرکاری طور پر اپڈیٹ ہو جائے گی، گوگل میپس پر امریکہ کے صارفین کے لیے گلف آف میکسیکو کو گلف آف امریکہ کے طور پر دکھایا جائے گا۔

گوگل میپس کی مالک اور آپریٹر کمپنی گوگل کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک بیان میں کہا گیا یے، '' گوگل کی یہ ایک دیرینہ روایت ہے کہ سرکاری حکومتی ذرائع میں نام کی تبدیلی ہونے پر وہ اپنے ہاں اپڈیٹ کرتی ہے۔

‘‘

گوگل کے مطابق یہ تبدیلی صرف امریکہ کے صارفین کو نظر آئے گی اور میکسیکو میں اسے بدستورگلف آف میکسیکو ہی دکھایا جاتا رہے گا جبکہ امریکہ اور میکسیکو سے باہر کے صارفین کوگوگل میپس پر دونوں نام دکھائے جائیں گے۔

(جاری ہے)

گلف آف میکسیکو کا نام تبدیل کر دیا گیا ہے، امریکی محکمہ داخلہ

امریکی محکمہ داخلہ نے گزشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ اس نےگلف آف میکسیکو کا نام سرکاری طور پر گلف آف امریکہ رکھ دیا ہے۔


محکمہ نے کہا کہ امریکی بورڈ برائے جغرافیائی نام ان ناموں کو جغرافیائی ناموں کے معلوماتی نظام میں اپڈیٹ کرنے پر کام کر رہا ہے۔
وفاقی حکام نے یہ بھی اعلان کیا کہ شمالی امریکہ کی سب سے بلند چوٹی، الاسکا کی ڈینالی، کا نام واپس ماؤنٹ میک کنلے کر دیا گیا ہے۔

شمالی امریکہ کی سب سے بلند پہاڑی چوٹی کے نام کے حوالے سے کئی سالوں سے بحث جاری تھی، اور اوباما انتظامیہ نے 2015 میں اسے سرکاری طور پر ڈینالی کہنے کا فیصلہ کیا تھا، جو کہ مقامی قبائل کے ذریعے استعمال ہونے والا نام تھا۔


گوگل نے اعلان کیا کہ وہ گوگل میپس پر ڈینالی کا نام واپس ماؤنٹ میک کنلے میں تبدیل کرے گا۔ خلیج میکسیکو کو خلیج امریکہ کرنے کا ٹرمپ کا اعلان

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 20 جنوری کو عہدہ سنبھالنے کے چند گھنٹوں بعد کئی ایگزیکٹو آرڈرز کے تحت ان ناموں کی تبدیلی کا حکم دیا۔

میکسیکو کی صدرکلاؤڈیا شین باؤم نے اس ماہ کے اوائل میں طنزاﹰ تجویز دی تھی کہ شمالی امریکہ، جس میں امریکہ بھی شامل ہے، کا نام ''میکسیکن امریکہ‘‘ رکھا جائے۔

ع ت، ک م (روشن ماجومدار)

.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے اعلان کیا کا نام

پڑھیں:

ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی

امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔

میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔

ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔

تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔

اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔

ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔

گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔

مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • فیصل آباد:حکومت سے مذاکرات ناکام ہونے پر پیٹرول پمپ مالکان کا پمپس بند رکھنے کا اعلان
  • ایلون مسک نے ’اوڈیسی‘ کا اے آئی ورژن اسی سال پیش کرنے کا اعلان کردیا
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران